آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایگزیکٹ کیس، جج کا رشوت لیکر بری کرنے کا اعتراف، ٹرائل کی حیثیت ختم ہوگئی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ اور دیگر ملزمان کی بریت کے فیصلے کیخلاف ایف آئی اے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے ملزمان کو رشوت لے کر بری کرنے کا اعتراف کیا جس کے بعد ٹرائل کی حیثیت ہی ختم ہو گئی ہے ، اب فیصلے کے خلاف اپیل کے بجائے از سر نو ٹرائل کرنے کی ضرورت ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیس کا فیصلہ میرٹ پر کریں گے ، اس نکتے پر مطمئن کریں کہ ٹرائل کورٹ جج کے رشوت لینے کے اعتراف کے بعد مقدمے کی کیا پوزیشن ہے۔ فاضل عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 فروری تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے گزشتہ روز اپیل کی سماعت کی۔ وفاق کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمودنے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا ہے جس پر ایگزیکٹ کے وکیل نے اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق سرکاری ادارے سپیشل پراسیکیوٹر کی خدمات حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی اپیل کی سماعت 22 فروری کو ہونا تھی ، آج کی سماعت کے حوالے سے تمام فریقین کو نوٹس نہیں ملے۔ اس پر

x
Advertisement

عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فاضل ڈویژن بنچ تشکیل دیا گیا ہے جسے ایک ماہ میں سماعت مکمل کر کے ایف آئی اے کی اپیل کا فیصلہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے 31 اکتوبر 2016ءکو ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ سمیت 26 ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ بعد ازاں ٹرائل کورٹ کے جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججز کے روبرو رشوت لے کر ملزمان کو بری کرنے کا اعتراف کیا۔ اس اعتراف کے بعد مذکورہ جج کے خلاف انکوائری بھی کی گئی۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں