آپ آف لائن ہیں
جمعہ9؍ رمضان المبارک 1439ھ 25؍مئی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لودھراں ضمنی الیکشن کے بعد میں نے ازراہ تفنن یہ بات کہی کہ عوام نے عمران خان کی خواہش کے عین مطابق جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین کو شکست دیکر موروثی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن کر دی ہے مگر شرمندگی کے مارے چلو بھر پانی میں ڈوبتے ’’طِفلانِ انقلاب‘‘ نے اس بات کو بھی تنکے کاسہارا سمجھ کر تھام لیا۔اگر اپنے کوے کو سفید ثابت کرنے کی ٹھان لی جائے تو دلیلیں اور تاولیلیں بہت ہیں مثلاً عوام ابھی تک جاہل اجڈ اور گنوار ہیں،ضمنی انتخابات مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہوتے ،مخالفین نے حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے کامیابی حاصل کی اور اگر بالفرض محال شکست ہوئی بھی ہے تو یہ تحریک انصاف کی ناکامی نہیں بلکہ علی ترین کی ہار ہے۔اس طرح کی باتیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیائی ورکر ہی نہیں،لیڈر بھی خوش فہمیوں کے کنویں میں پھدکتے پھرتے ہیں اور باہر نکل کر حقیقت کا سامناکرنے کو تیار نہیں۔این اے 154میں بدترین شکست دراصل اس سونامی کی وارننگ ہے جوپے درپے غلطیوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔خوش فہمیوں کا تازہ ’’ترین قلعہ‘‘ اس مفروضے پر تعمیر کیا گیا کہ یہ حلقہ پی ٹی آئی کا گڑھ ہے حالانکہ اس حلقے میں جہانگیر ترین کی حیثیت گھُس بیٹھئے اور نووارد کی ہے۔جہانگیر ترین کا سیاسی

x
Advertisement

کیریئر شروع ہوتا ہے 2002ء کے عام انتخابات سے جب وہ این اے 195سے ایم این اے منتخب ہوتے ہیں ۔یہ نشست انہیں اپنی بیوی کے بھائی مخدوم احمد محمود کی طرف سے تحفتا ً دی گئی ۔اپنے آبائی حلقے سے مہمان نوازی کے طور پر دیگر سیاستدانوں کو اسمبلی کی نشست پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنا مخدوم حسن محمود کے صاحبزادے مخدوم احمد محمود کا پسندیدہ مشغلہ ہے اور جہانگیر ترین کے علاوہ ہمایوں اختر خان ،چوہدری پرویز الہٰی اور عبدالقادر گیلانی بھی اس پیشکش سے استفادہ کر چکے ہیں۔اب اس حلقے سے مخدوم احمد محمود کے فرزندمخدوم مصطفیٰ محمود قومی اسمبلی کے رُکن ہیں۔لودھراں کا وہ حلقہ جس کی بات ہو رہی ہے یہاں صدیق خان بلوچ کا بہت اثر و رسوخ ہے ۔صدیق خان بلوچ 1988ء،1990ء اور 1997ء میں صوبائی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔2002ء کے انتخابات میں بی اے کی شرط کے باعث حصہ نہ لے سکے ۔2008ء اور 2013ء میں یہاں سے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔جہانگیر ترین نے اپنے سسرالی حلقے سے نکالے جانے کے بعد لودھراں کو اپنا سیاسی مرکز بنایا اور بے پناہ دولت کے زور پر صدیق بلوچ کے سیاسی قلعے میں دراڑ ڈالنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئے۔گزشتہ عام انتخابات کے دوران عمران خان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور پھر یہاں پانی کی طرح پیسہ بہا کر جہانگیر ترین بھی کسی حد تک سرایت کر چکے تھے اس لئے کانٹے دار مقابلہ ہوا ۔جب صدیق خان بلوچ کو ڈی سیٹ کر دیا گیا اور ضمنی الیکشن کا اعلان ہوا تو کئی بار یہ کنفیوژن پیدا ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کون ہے، پہلے صدیق بلوچ کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے، پھر مسترد کر دیئے گئے اور بعد ازاں ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ضمنی الیکشن سے 6روزقبل صدیق بلوچ کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔ یوں صدیق بلوچ کی انتخابی مہم متاثر ہوئی اور اس کا فائدہ جہانگیر ترین کو ہوا۔
جب جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد ایک مرتبہ پھر ضمنی الیکشن کیلئے امیدوار فائنل کرنے کا مرحلہ آیا تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے صدیق بلوچ کے بیٹے عمیر بلوچ کو جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کے مقابلے میں ٹکٹ دینے کا عندیہ ظاہر کیا ۔صدیق بلوچ نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ چار سال میں وہ دو الیکشن لڑ چکے ہیں ،دو ماہ بعد پھر سے عام انتخابات ہونگے اور چونکہ جہانگیر ترین کا بیٹا امیدوار ہے تو ایک مرتبہ پھر پیسہ لٹایا جائے گا ،بہتر یہی ہو گا قیادت معذرت قبول کرلے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بادل نخواستہ پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ دیدیا جن کے صاحبزادے مخدوم عامر اقبال یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ہیں اور پیر اقبال شاہ خود تحصیل دنیا پور کے ناظم رہ چکے ہیں۔گویا جس امیدوار نے’’قابل ترین‘‘ اور ’’ طاقتور ترین‘‘کو ’’نااہل ترین‘‘ اور ’’کمزور ترین‘‘ثابت کرکے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا، اس نے یہ معرکہ سرکرنے سے پہلے قومی اسمبلی تو کیا صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی نہیں لڑا ۔وسائل کا موازنہ کیا جائے تو ایک طرف ہیلی کاپٹر ،بلٹ پروف گاڑیاں اور مسلح سیکورٹی گارڈز تھے تو دوسری طرف ’’بے کار‘‘ تن تنہا برسر پیکار۔ چونکہ جہانگیر ترین کا بیٹا الیکشن لڑ رہا تھا اس لئے پی ٹی آئی کے تمام ایم این اے ،ایم پی اے اور رہنما قطار اند ر قطار اس حلقے میں نصرت و استعانت کو اُترتے رہے۔یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ حلقہ این اے 34سے چند سو ووٹوں سے ہارنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار بشیر خان بھی لودھراں آئے بغیر نہ رہ سکے۔عمران خان ،شاہ محمود قریشی ،مراد سعید اور شیخ رشید انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علی ترین کے انتخابی جلسے میں شریک ہوئے ۔دوسری طرف مسلم لیگ(ن) نے یہ الیکشن نیم دلی سے لڑا۔این اے 155لودھراں سے منتخب ایم این اے عبدالرحمان کانجو جو صدیق خان کانجو مرحوم کے صاحبزادے ہیں ،انہیں یہ الیکشن جیتنے کا ٹاسک ضرور دیا گیا اور انہوں نے جانفشانی سے محنت بھی کی مگر نوازشریف تو درکنار حمزہ شہباز یا مریم نواز بھی اپنے امیدوار کا حوصلہ بڑھانے لودھراں نہ پہنچے۔ایسے مشکل حالات میں نوازشریف کے ایک گمنام سپاہی نے بازی پلٹ دی تو اس کا مطلب ہے یقیناًحالات بدل رہے ہیں۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ۔عام انتخابات کے بعد جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ان میں پی ٹی آئی کی کامیابی آٹے میں نمک کے برابر رہی ۔این اے ون پشاور کی نشست اے این پی نے چھین لی ۔این اے 71میانوالی کا حلقہ مسلم لیگ (ن) نے مال غنیمت کے طور پر حاصل کرلیا۔پی پی 81جھنگ ہو ،پی پی 136نارووال یا پھر پی کے 45ایبٹ آباد مسلم لیگ (ن) کا پلہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔یہاں تک کہ 17ستمبر2017ء کو لاہور کے حلقہ این اے 120میں گھمسان کا رن پڑا مگر کلثوم نواز جیت گئیں۔ پھر پی پی 20چکوال کا ضمنی الیکشن تو کل کی بات ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سلطان حیدر علی خان نے 29000ووٹوں کی برتری سے تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دی۔ہوا کا رُخ متعین ہو چکا ،شکستہ بادبانوں کی اوٹ سے جھانکتے ناخدا عام انتخابات کے مد و جزر سے پہلے ہی طوفان کا تخمینہ لگا لیں تو بہتر ہے ورنہ سفینے ڈوبتے دیر نہیں لگتی۔ تکلف برطرف ،لودھراں میں موروثی سیاست کو شکست نہیں ہوئی ،نہ ہی یہ علی ترین کی ناکامی ہے ۔موروثی سیاست پر ردعمل آنا ہوتا تو کلثوم نواز ہار جاتیں ۔یہ عمران خان کے بیانیے کی ہار ہے۔ جمہوریت کے خلاف گٹھ جوڑ کرنے والوں کے بارے میں عوامی عدالت کا فیصلہ ہے ،اور اس فیصلے کا عنوان یہ ہے کہ ریاست اور سیاست کی تقدیر کا فیصلہ کرنا عوام کا استحقاق ہے۔کسے لانا ہے ،کسے نکالنا ہے ، یہ بیلٹ باکس سے طے ہوگا۔ اگر اس ملک میں جمہوری نظام رائج ہے تو پھر نصب و عزل کا اختیار محض ووٹر کے پاس ہو گا ۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں