آپ آف لائن ہیں
جمعرات 8؍رمضان المبارک 1439ھ24؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
After Cape Town Water Problem In Different Countries

دنیا میں تیزی سے گھٹتے آبی ذخائر نے انسانی حیات کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی افریقی شہر کیپ ٹاون کے تیزی سے خشک ہونے کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کو بھی پانی کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

x
Advertisement

ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ آئندہ سالوں میں بنگلور، بیجنگ، استنبول، قاہرہ، ماسکو اور لندن پانی کی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سال 2030 تک دنیا میں پانی کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

گریٹر لندن اتھارٹی کے مطابق سال 2025 تک لندن میں پانی کی کمی شروع جائے گی اور یہ مسئلہ 2040 تک ’سنگین شکل‘ اختیار کر لے گا۔

2014 میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر 'پانی کے دباؤسے دوچار ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں