آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ کو کہیں یہ لکھا نظر آئے کہ’’ شیر گیڈر کی خدمتیں کر رہا ، مچھلیاں درختوں پر رہ رہیں یا ملکی حالات ایسے ہو چکے کہ چوہے بلیاں کھار ہے‘‘ تو پریشان نہ ہوں ، آپ شیخو کے اخباری بیان پڑھ رہے ، وہی شیخو جسکا ظاہر اورباطن دیکھ کر وہ سفید فام رہنما یاد آجائے جو ایک بار سیاہ فام باشندوں کی ریلی سے خطاب کرنے جا پہنچا اور جب حاضرین نے ’’چٹی چمڑی‘‘ دیکھ کر آوازیں کسنا شروع کردیں تو یہ بولا’’ آپ میرے سفید چہرے پر نہ جائیں ، اندر سے میں بھی کالا ہی ہوں ‘‘ وہی شیخو جسکی میڈیا میں آؤ بھگت دیکھ کر وہ تقریب ذہن میں آئے کہ جس کے شرکاء ایک خاتون کو اداکارہ میرا سمجھ کر عزت کر رہے تھے ،حیرانی یہ تھی کہ پھر بھی عزت کر رہے تھے اور وہی شیخو جو حاضر دماغ ایسا کہ ایک مرتبہ جب پوچھ لیا کہ جلسوںمیں کپتان کے ساتھ جڑ کر کیوں بیٹھتے ہو تو کہنے لگا’’ اس لئے کہ حسن اتناقریب آجاتا ہے کہ اسے دیکھنے کیلئے عینک کی بھی ضرورت نہیںپڑتی ‘‘ ایک مرتبہ جب اسے یہ بتایا کہ ’’ دولت سیاستدان کی چھٹی حس ‘‘توبولا ’’ اس حساب سے تو شریف خاندان کی ہر حس ہی چھٹی حس ‘‘ اور ایک دفعہ جب ایک دوست نے یہ کہہ دیا کہ ’’آج کل تومیاں نواز شریف بہت سرگرم‘‘ تو اس کا جواب تھا ’’جی بالکل اتنے گرم کہ سر پر پانی ابالا جاسکے ‘‘ اور وہی شیخو جس

کے کردار پر نظر مار کر وہ اداکارہ ذہن میں آئے کہ جسکی پہلی فلم کے پہلے شو کے بعد جب پور افلمی یونٹ اپنے تاثرات بیان کر چکا اورجب پروڈیوسر نے اس اداکا رہ سے کہا کہ اب آپ بھی اپنے کردار کے بارے میں کچھ بتائیں تو یہ گھبرا کر بولی ’’ اپنے کردار کے بارے میں ۔۔اچھا ۔۔کیوں ‘‘ اپنا یہی شیخو جو غریبوں سے کہے ووٹ دو ورنہ سرمایہ دار تمہارا سب کچھ کھا جائیں گے اور سرمایہ داروں سے کہے مال لگاؤ ورنہ غریب سب کچھ چھین لیں گے ، اسی سے بڑے عرصے بعد ملاقات ہوئی تو خلاف ِ توقع بڑا خوش دکھائی دیا ، بے موسمی خوشی کی وجہ پوچھی تو بولا’’ ظالم اتنی داد تودو کہ سال سوا سال میں ہی مخالفین کی حالت ان نشئیوں جیسی کر دی جنہوں نے آدھی رات ایک دروازہ کھٹکھٹایا اور خاتون باہر آئی توایک نشئی بولا’’ محترمہ جلدی سے ہم میں سے اپنا خاوند پہچان لیں تاکہ باقی اپنے اپنے گھروں کو جاسکیں ‘‘،یہ سن کر میں نے کہا’’مگر حضور ہر ضمنی انتخاب (ن ) لیگ کا جیتنا اور لوگوں کا جوق در جوق میاں صاحب کے جلسوں میں آنا ، اس بارے میں کیا خیال ہے ، سگار کا کش مارنے کے بعد چہکا’’ یہ بجھتی شمع کے آخری جھٹکے ہیں ،تم نے غور نہیں کیا کہ آجکل میاں برادران کی حالت یہ ہو چکی کہ اپنے مسائل بتاتے بتاتے اچانک سائلین انہیں تسلیاں دینے لگ جاتے ہیں کہ آپ حوصلہ رکھیں اللہ نے چاہا ہمارے مسائل تو حل ہو ہی جائیں گے ، میں نے شیخو کی بات کاٹی ،محترم لوگوں کا خیال تو یہ کہ شریف خاندان اور آپ میں بس اتنا سا فرق ،انہوں نے جائیدادیں بنا ئیں اور آپ الو بنا رہے ، وہ ہرپاکستانی سے محبت کریں اور انکی ’’ہر‘‘ سے مراد اپنا خاندان ،آپکو ہر پاکستانی سے پیار اور آپکا ’’ہر‘‘ انگریزی والا، وہ دماغ کے زور پر حکومت بچارہے، آپ زبان کے زور پر حکومت چھین رہے اور انکی عقلمندیوں سے خوف آئے جبکہ آپکی بے وقوفیوں سے ڈر لگے ، سب سن کر بڑے سکون سے بولا’’ لوگوں کو بدنام نہ کرو، سب کو معلوم کہ یہ تم صحافیوں کی اڑائی ہوئی باتیں بلکہ یہ سنہری آرا سن کر مجھے تو اکثر بے چارہ وہ مصور یاد آئے جس نے مزدور کی پینٹنگ بناکر جب تم جیسے دو ڈاکٹر دوستوں سے رائے طلب کی تو طویل معائنے کے بعد پہلے نے کہا ’’اس مزدور کے پھیپھڑے خراب ہیں‘‘جبکہ دوسرا بولا’’ اگر اس مزدور نے احتیاط نہ کی تو اسے ٹی بی بھی ہو سکتی ہے‘‘ ،جیسے ہی شیخو کی بات مکمل ہوئی تو میں نے کہا’’حضور مانا کہ ہمارے ہاں الو کو اتنا بے وقوف نہیں سمجھا جاتا جتنا بے وقوف کو الو سمجھا جاتا ہے ، لیکن اب آپ ہمیں مزید بے وقوف ۔۔۔ شیخو نے بات کاٹتے ہوئے کہا’’ پہلی بات یہ کہ تم جیسے صحافیوں کے مرنے پر ان کے چاہنے والے اتنے آنسو نہیں بہاتے ،جتنے وہ انکی زندگی میں بہا چکے ہوتے ہیں اور دوسری بات ملک کو جتنا نقصان مٹھی بھر بظاہر پڑھے لکھے صحافی پہنچا چکے ، اتنا کروڑوں ان پڑھ چاہ کر بھی نہ پہنچاسکیں، کسی سیانے نے سچ ہی کہا پڑھا لکھا بے وقوف ان پڑھ بے وقوف سے زیادہ بے وقوف ہوتا ہے‘‘ ،اتنا کہہ کر جیسے ہی سگار سلگانے کیلئے شیخو لمحہ بھر کیلئے خاموش ہو اتو موقع غنیمت جان کر میں نے کہا’’ حضور ایک شوہرکو بیوی کا ہاتھ تھامے بازار میں پھرتے دیکھ کر ایک جاننے والے نے جب کہا’’اتنے سالوں بعد بھی یہ محبت ‘‘تو شوہر جلے بھنے لہجے میں بڑبڑایا’’کونسی محبت ،جونہی ہاتھ چھوڑتا ہوں یہ کسی دکان میں گھس جاتی ہے ‘‘ ۔
بجھے سگار کو سلگانے کی کوششیں کرتے شیخو نے کہا’’کیا کہنا چاہ رہے ہو‘‘ میں نے کہا’’ کہنا یہ چاہ رہا کہ ہم صحافی اگر آپ سیاستدانوں سے لمحہ بھرکیلئے بھی نظر ہٹالیں تو آپ کوئی نہ کوئی کارروائی ڈال جائیں ، مطلب آپکی جمہوریت اور سیاست کو جب بھی موقع ملاکام دکھاگئی ،سگار کا ایک لمبا کش مارکربولا’’ ہر وقت جمہوریت اور سیاست کو ہی کیوں کوستے رہتے ہو ، کبھی اپنی صحافت پر بھی نظر مارلو، تمہاری صحافت تو ایسی ہوگئی کہ جہاں میاں صاحب کے سیاسی مشیروں کا دفاع ختم ہو،وہاں سے میاں صاحب کے صحافتی مشیروں کا دفاع شروع ہو جائے ، شریف خاندان نے جو چکر چلائے ، ان چکروں کو چکروں میں ڈالنے کیلئے جو چکر صحافی چلار ہے، ان چکروں سے پوری قوم چکر و چکر، اگر سیاست اور جمہوریت کو بیچ کر ہم تو صحافتی چوغے پہن کر دانش ’’نوازی‘‘ کر رہے ہیں۔ تم ہی بتاؤ یہ صحافت ہے کہ ایک صحافی چینی فلاسفر سن زو کے فلسفے کے سرف سے میاں صاحب پر لگے کرپشن الزامات کے داغ مٹاتا ملے، ایک قلم باز عوام، عدلیہ اور پارلیمنٹ کو بے وقوف بنانے اور جھوٹ بولنے پر میاں صاحب کی سزاکو سقراط کی سزا، مسلم فلاسفر ابن رشد کی جلاوطنی حتیٰ کہ حضرت عیسی ؑ کی سزا سے ملاتاپایا جائے،
ایک باکمال صحافی میاں صاحب کو نظام سے نکال باہر کرنے کے خیال کو یونانی ریاضی دان ارشمید س کے ’’مائع کے اچھالنے کے قانون ‘‘ سے نتھی کردے اورکیا یہ صحافت ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں ملک کی سب سے بڑی عدالت کو دھمکیاں دینے والے نہال ہاشمی کو حسین بن منصور حلاج اور مخدوم بلاول سموں سے جوڑ کر کہا جائے کہ منٹو اور حبیب جالب زندہ ہوتے تو وہ بھی نہال ہاشمی کے حامی ہوتے۔شیخو بجھتے سگار کو لمبے لمبے کش مار کر دوبارہ اسٹارٹ ہوا’’ میں تو خداکا شکر اداکر رہا کہ نہال ہاشمی سے میاں صاحب تک کسی کو ان بزرگوں کا پتا نہیں ورنہ یقیناً انہیں بھی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یا ’’اگر میرے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو تمہیں اس سے کیا‘‘ جیسی فلموں میں بھی گھسیڑلیتے ،لیکن یہ پکی بات کہ سقراط سے حبیب جالب تک اوپر بیٹھے سب بابے اب اس انتظار میں کہ ہمارے ناموں کا کھلواڑ کرنے والے اوپر کب آتے ہیں ،مجھے تویہ بھی یقین کہ اگرارسطو،افلاطون اور حکیم لقمان کو آسمانوں سے زمین پر آنے کا ایک موقع ملے تو وہ سیدھے یہاں آکر 10بارہ صحافی مارنے کے بعدپانی کا گھونٹ پئیں ۔شیخو پھر سے بجھ چکے سگار کو دوبارہ سلگانے لگا تو میں نے اُٹھتے ہوئے کہا’’ حضور کچھ اور بھی یا اب اجازت‘‘ ، فوراًبولا’’ آخری بات سنتے جاؤ ، یہ جو تم اخباروں اور ٹیلی وژن اسکرینوں پر دن رات یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے کہ’’ اصلی تے وڈی عدالت عوامی ‘‘اور یہ عوامی عدالت میاں صاحب کی نااہلی کو اہلیت میں بدل چکی ، اس پر یہی کہنا کہ پیشابوں والے پانی پیتی ، سڑکوں اور رکشوں میں بچے جنتی اور ڈھو ر ڈنگروں جیسی زندگیاں گزارتی جہالت زدہ اس وڈی عدالت سے میاں صاحب کے سب قصور معاف کروالو توپھر ان پنچایتوں کے فیصلے بھی مان لینا کہ جنہوں نے عوامی عدالتیں لگا کر اپنی نگرانی میں بچیوں سے زیادتیاں کروائیں اور قتل وغارت کی، مشال کے قاتلوں کو بھی چھوڑ دینا کیونکہ انہوں نے بھی عوامی عدالت لگا کر قتل کیا اوراگرکل کلاں زینب کے ملزم عمران ،نقیب محسود کے ملزم راؤ انوار اور لیاری گینگ کے سربراہ عزیر بلوچ نے الیکشن جیت لیا یا کسی مجمعے میں ہاتھ کھڑے کروا کر عوامی عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے لیا تو پھر عوامی عدالت کافیصلہ مان کر عمران ،راؤ انوار اور عزیر بلوچ کو بھی معاف کر دینا، اگر یہ سب کر سکتے ہو تو پھر جو کر رہے ہو وہ کرتے رہو اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر ملک وقوم پر رحم کرکے یہ دانش فروشی بند کردو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں