آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم لوگ میڈیا کی غلطیوں کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ ان کو غلطیاں بھی نہیں سمجھتے۔ جس کو فاش غلطیاں کہتے ہیں۔ ان کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے ایک صاحب فریدہ خانم کا انٹرویو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’آپ ننگے پیر قبرستان میں شاد عظیم آبادی کی قبر پر گئی تھیں‘‘۔ معصوم فریدہ خانم نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ’’جی، جی آپ جیسے عظیم ادیب ، یہ بھی جانتے ہیں۔‘‘ معصوم فریدہ سےایسے جملے، ہر افسر کیلئے سنتی آئی تھی۔ اس کو تو میں نے معاف کردیا، مگر انٹرویو کرنے والی شخصیات کو بتاتی چلوں کہ وہ شاعر شاد عظیم آبادی نہیں شاد امرتسری تھے۔ ابھی موصوف کا قصہ تمام نہیں ہوا۔ فرمایا ’’ظہیر کاشمیری نے فلم دو پھول بنائی تھی جو لگی ہی نہیں۔‘‘ اصل واقعہ کہ جس کی میں چشم دید گواہ ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ظہیر کاشمیری نے ’’تین پھول‘‘ فلم بنائی تھی۔ جس دن فلم لگی۔ وہ گھر جاکر سوٹ اور مخصوص بو پہن کر ’’رٹز‘‘ سینما پہنچے، دیکھا ہال کو تالہ لگا ہے اور چپراسی باہر بیٹھا، چابی گھما رہا ہے۔ کاشمیری نے اپنے مخصوص انداز میں چوکیدار کو انگریزی، اردو، دونوں جمع کرکے کہا۔ ’’تالہ کھولو، میں اس فلم کا ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسر ہوں۔‘‘ چوکیدار نے کہا ’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تالہ کھولونگا جو میں نے تین بندے،

زبردستی اندر بند کئے ہیں، وہ بھی نکل جائیں گے (یہ سب مکالمہ پنجابی میں تھا) واقعی وہ فلم اگلے دن اتر گئی تھی۔ ایک واقعہ احمد بشیر اور اشفاق احمد کی فلم کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ ان دونوں کی فلمیں دیکھنے والے نصیر انور، ان کی بیگم اور ہم دونوں میاں بیوی تھے۔ باقی رہے اللہ کا نام۔
بھول چوک اور وہ بھی میری جیسی عمر میں ہو ہی جاتی ہے۔ میں بھی کبھی شعر پڑھتی ہوں۔ تو لکھنے والے کا نام بھول جاتی ہوں اور کبھی شاعر کا حوالہ دیتی ہوں تو شعر ادھورا، یاد آتا ہے۔ اب میں اگر سیاسی غلطیاں شمار کرنے لگوں تو وسعت اللہ خان کی طرح کشمیر پر پہلے حملے سے لیکر کارگل کی غلط کاریوں کا حساب مجھے صرف اس سبب دینا پڑیگا کہ میں ان سارے زمانوں میں زندہ اور موجود تھی۔ ٹی وی پر تو اکثر پطرس بخاری کی جگہ زیڈ۔ بخاری کی تصویر دکھا دی جاتی ہے۔ ویسے تو رات گئے پروگرام کے بھی خوفناک لطیفوں کو غلطیاں کیسے کہوں۔ بس اب برداشت کی قوت، سیاست دانوں کی طرح بہت کم ہوگئی ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈاکٹر کمیل قزلباش نے پشتون قبیلے میں جو گیت شادی بیاہ کے موقع پر خصوصی دلہن سمیت، خواتین گاتی تھیں، ان کا ترجمہ، فوزیہ سعید نے شائع کیا۔ اس مجموعے میں درج کچھ تراجم، آپ کو بھی سناتی ہوں۔ ’’غلطی چچا نے کی اور عذاب میں جھیل رہی ہوں۔ مجھے دشمنی کے بدلے دیدیا گیا۔ مجھے ذبح ہونے کیلئے جانا پڑ رہا ہے۔
اے لوگو ! میں ہوا میں اڑنے والی کبوتری تھی۔ خانہ بدوش پہاڑوں سے اتر کر آگئے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح مجھے اٹھا کر لے گئے۔
ایک تو ہمیں ہر چیز اور بیان پر شک کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ میرا شک یہ ہے کہ اگر چا رسو سال پہلے خواتین یوں سوچتی تھیں، بیان کرتی تھیں تو پھر ان ستر برس میں، آدھی عورتیں تو بنا شادی پرفارما پر کئے رخصت ہوتیں یا پھر انگوٹھا لگا کر اور بے شمار دفعہ تو بنا مرضی، کبھی زیادہ عمر والے کے ساتھ تو کبھی دوسری بیوی اور کبھی دسویں بیوی (کیا صرف عرب شہزادوں کو ہی چالیس چالیس شادیوں کا حق ہے) میں ڈاکٹر کمیل سےیہ نہیں کہہ سکی کہ آپ کی ساری تحقیق تصوراتی ہے۔ جس طرح میں کبھی ظفر اقبال کو یہ نہیں کہہ سکی کہ نو آموز نہیں ناپختہ شاعروں کو اتنی سخت تنبیہ نہ کیا کریں اور شاعرات کیلئے ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھ لیتے ہیں۔ بہت اچھا حوالہ وہ ہوتا ہے جس میں ان کی عظمت (جو بلاشبہ ہے) کو توصیفی جملوں میں ادا کیا جاتا ہے۔
ترجموں کا تذکرہ چلا ہے تو بتائوں کہ ہمارے چترالی دوست نے چترالی گیتوں کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اپنے شائستہ لہجے میں محبت کا اظہار وہ بھی صدیوں پرانے زمانوں میں، آج کی بارودی اور منافق صدی میں، ایسی خوشگوار سوچ بھی عجب لگتی ہے کہ دیر اور چترال میں تو آج خواتین کو ووٹ ڈالنے بھی نہیں دیا جاتا۔
لوک ورثہ ہی نے بلوچی لوک کہانیوں کے تراجم شائع کئے ہیں۔ جنہیں بلوچی، پشتو اور ہزارہ کی (فارسی) میں موجود کلاسیکی قصے جیسے خسرو اور شیریں، زرگل اور مروارید، موسیٰ خاںگل مکئی، شہداد اور مہناز کے علاوہ ساری دنیا میں مشہور سمود توکلی کے قصے اور داستان مختصراً بیان کی گئی ہے۔
آج کل ترجمے اور بھولے ہوئے قصے یاد کرانے میں سب سے تیز ڈاکٹر شاہ محمد مری ہیں اور پھر ڈاکٹر لال خاں ہیں۔ ڈاکٹر مری نے تولینن، جارج جیکسن، مارکس کی محبوبہ کے خطوط سے لیکر عشاق کے قافلے کے عنوان سے بلوچی میں کم از کم ایک صدی کی شخصیات کی سیاسی، علمی حیثیت کا احاطہ کیا ہے ان ساری شخصیات کو ہمیں دوبارہ سے پڑھا دیا ہے اور ڈاکٹر لال خاں، سیاسی اور تاریخی تجزئیے کرتے ہوئے ہمیں شرمندہ بہت کرتے ہیں بالکل ڈاکٹر جعفر احمد کی طرح، ہمارے سیاسی زخموں کو ایسے کریدتے ہیں کہ اپنے ہی ہونٹ کاٹنے پڑ جاتے ہیں۔ ادب میں ترجمے کا کام نجم الدین نے کیا ہے۔ اس ترجمے کو تو اکیڈمی نے شائع کیا اور اس سال کے بہترین ترجمے کا یو بی ایل نے انعام بھی دیا ہے۔ اس طرح ارشد وحید نے بھی، اکیڈمی کیلئے بہت اچھے ترجمے کئے ہیں۔ جن میں مارکنز کے عمدہ ترجمے شامل ہیں۔ اسی طرح محمود احمد قاضی نے بھی اکیڈمی کیلئے عالمی ادب کی منتخب کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے۔ نجم الدین نے نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیاں اکیڈمی کیلئے ترجمہ کی ہیں۔
عاصم بٹ، ہمارے ذہین لکھنے والے ہیں، جو ناول ہو کہ افسانہ، اس میں نفسیاتی کردار ضرور شامل ہوتے ہیں۔ تازہ ترین انہوں نے بورخیس کی کہانیوں کا ترجمہ، جو کہ بہت مشکل کام تھا، بڑی دلجمعی سے کیا ہے۔ بورخیس کو بطور شاعر تو میں نے پڑھا تھا بلکہ بہت پڑھا تھا مگر اس کی کہانیوں سے ناآشنا تھی۔ البتہ میں نے عاصم کی کافکا کی ترجمہ شدہ کہانیاں بھی پڑھی تھیں۔ میں جوانی کے زمانے میں کہانیاں اور مضمون ترجمہ کرلیتی تھی۔ اب صرف شاعری وہ بھی جو میرا قلم پکڑ لے۔ اب یہ کام ان نوجوانوں پر چھوڑ کر اور ان کے تراجم پڑھ کر خیال آتا ہے اور وقتاً فوقتاً یہ ابال اٹھتا رہتا ہے کہ دارالترجمہ قائم کیا جائے ۔ اپنے زمانے میں ڈاکٹر بوگھیو نے تراجم کی جانب توجہ دی۔ چونکہ کام کرنے والے شخص کی کسی بھی حکومت کو ضرورت نہیں ہوتی، اس لئے انہیں بھی خداحافظ کہ دیا گیا ہے۔ ماہناموں کی شکل یا ادبی ملفوظات کی طرح ’’آج‘‘ اور ’’دنیا زاد‘‘ میں جدید لکھنے والوں، خاص کر مغربی ادب کے تراجم، دیکھنے اور پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ البتہ پاکستانی زبانوں کے تراجم ، خاص طور پر اکیڈمی کے پرچے ’’ادبیات‘‘ میں پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔
اردو زبان میں ترجمے کی کتنی شکلیں بدلی ہیں۔ اس پر پرلطف یادیں پھر کبھی ۔عینی آپا اور عبداللہ حسین نے اپنی کتابوں کے خود تراجم کئے اور خود بھی ناخوش ہوئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں