آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کالموں میں، میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ کئی سالوں سے سندھ کے عوام کو جس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا تھا اس کے نتیجے میں سندھ صوفی تحریک نئے سرے سے اٹھی ہے مگر جس رخ میں یہ صو فی تحریک آگے بڑھ رہی ہے اس کے مدنظر سندھ کے کئی دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ صوفی تحریک سندھ کے ایک نئے ثقافتی انقلاب میں بتدریج تبدیل ہورہی ہے، اس صوفی تحریک میں نئی نئی صوفی تنظیمیں بن رہی ہیں، خاص طور پر سردی کے اس موسم میں سندھ کی اس صوفی تحریک نے بہت زور پکڑا، یہ میں نے جو چند الفاظ کو اس کالم کا عنوان کرکے پیش کیا ہے یہ الفاظ ایک گیت کے ہیں جو اس ثقافتی تقریب کے آخر میں ایک فنکار نے گایا۔ سندھ میں حال ہی میں ’’شاہ لطیف صوفی سنگت سندھ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی، اس تنظیم کی طرف سے سندھ کے ایک ناقابل فراموش ہیرو ہوشو شیدی کے مزار کے قریب گوٹھ ناریجانی میں واقع چاچڑ زرعی فارم پر ’’مچ کچہری‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں کئی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہاریوں، طلباء، دانشوروں اور کچھ سیاسی عناصر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب 21 جنوری کو منعقد کی گئی، شاید وہ رات سندھ کی سرد ترین راتوں میں سے ایک رات تھی۔ اطلاعات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں صوفی تنظیموں کی طرف سے ’’مچ کچہریوں‘‘ (لکڑیوں کے الائو) پر صوفی

ثقافتی تقریبات منعقد کی گئیں جن کا مقصد سندھ میں غیر طبقاتی اور نفرت سے پاک ایک ایسا ثقافتی انقلاب لانا ہے تاکہ سندھ عالمی پیمانے پر پرامن بقائے باہمی کی علامت بن کر ابھرے۔ جس گیت کے الفاظ میں نے عنوان میں شامل کیے ہیں، جب فنکار یہ گیت گا رہا تھا تو اس تقریب میں شامل سارے لوگ اٹھے اور گیت پر جھوم جھوم کر ڈانس کرنے لگے چونکہ اس عنوان کے ذریعے سندھ کے تین ہیروز ہوشو، ہیموں اور دودو کا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا ان کا مختصر تعارف کرانا ضروری ہے۔ ہوشو شیدی کے بارے میں تو کچھ لوگ آگاہ ہوں گے، ’’شیدی‘‘ ہوشو کی ذات تھی، میں خاص طور پر ہوشو کی ’’شیدی‘‘ کی حیثیت میں تعارف کرانا چاہوں گا، پتہ نہیں کب سے سندھ بھر میں ’’شیدی‘‘ خاندان سندھ کے سیدوں، پیروں، سرداروں، نوابوں اور بڑے زمینداروں کے گھروں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ’’ہوشو شیدی‘‘ بھی سندھ کے حکمران تالپور خاندان کی فوج میں ایک سپاہی تھے، انگریزوں کے ساتھ میر تالپور حکمران کی فوج کی جو جنگ ہوئی وہ برطانوی سامراج جیت گئی اور اس کے بعد سندھ بھی انگریز سامراج کا غلام بن گیا، اس جنگ کے بارے میں سندھ کے کچھ محققین کی رائے ہے کہ سندھ کے حکمران تالپور خاندان نے انگریز کی فوج سے یہ جنگ دلجمعی سے نہیں لڑی، وہ اگر چاہتے تو سندھ یہ جنگ جیت سکتا تھا، ایسے وقت میں بھی میر تالپوروں کی اس فوج میں کچھ سولجرز تھے جنہوں نے پوری سچائی اور بہادری سے یہ جنگ لڑی اور خود کو سندھ پر قربان کردیا، ان میں ہوشو شیدی سندھ کے ہیرو کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہوشو شیدی نے نعرہ لگایا کہ ’’مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ (میں مرجائوں گا مگر سندھ کو ہارنے نہیں دوں گا) آخر کار وہ شہید ہوگئے مگر وہ آج تک سندھ کے عوام کو یاد ہیں۔ جہاں تک ہیموں کملانی کا تعلق ہے تو وہ ہندو تھا، یہ وہ زمانہ تھا جب سارے ہندوستان میں انگریز سامراج کے خلاف (ہندوستان چھوڑ دو) تحریک چل رہی تھی، اس زمانے میں ہیموں نے کوئی ترکیب کرکے کراچی سے پنجاب کی طرف جانے والی ٹرین کو سکھر کے نزدیک گرادیا جس کے نتیجے میں نہ فقط سندھ مگر سارے ہندوستان میں خوف طاری ہوگیا، بہرحال انگریز سامراج ہیموں کملانی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے، اس پر عدالت میں مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی، پھانسی دیتے وقت ہیموں سے جب آخری خواہش معلوم کی گئی تو اس نے جواب دیا کہ مجھے رہا کردو تاکہ میں ایک بار اور ٹرین گرائوں اور انگریز سامراج کو ہندوستان اور خاص طور پر سندھ سے واپس اپنے ملک جانے پر مجبور کروں۔ اس نے کہا کہ پھر بھلے ایک بار مجھے پھانسی کی سزا سنائی جائے۔ اس کے بعد اسے پھانسی دیدی گئی جب یہ اطلاعات سندھ کے عوام تک پہنچیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اس کے بعد سندھ کے عوام میں ہیموں کی حیثیت بھی ہیرو کی سی ہے جہاں تک دودو کا تعلق ہے تو یہ سندھ کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، اس زمانے میں علائوالدین خلجی ایک نئے سامراج کی طرح اپنے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ہندوستان کے مختلف علاقوں کو فتح کرکے آگے بڑھ رہے تھے، بعد میں علائو الدین خلجی نے اپنا لشکر سندھ کو فتح کرنے کے لئے بھیجا، اس وقت سندھ کے حکمران دودو تھے جب لشکر نے سندھ پر حملہ کیا تو دودو کے بھائی چنیسر خلجی کے لشکر سے مل گئے مگر دودو بہادری سے لڑتے رہے اور شہید ہوگئے، اس کے بعد دودو سندھ کے انتہائی ممتاز ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں جبکہ چنیسر کو اس وقت سے آج تک سندھ کے عوام سندھ کا غدار کہتے ہیں، سندھ کے اکثر خاندان اپنے بیٹوں کا نام دودو کے نام پر رکھتے رہے ہیں جبکہ اس وقت سے اب تک سندھ میں چنیسر نام کا کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ سندھ کے ان تین ہیروز کے حوالے سے بات آگے بڑھانے سے پہلے میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہوں گا کہ کچھ عرصے سے سندھ صوفی تنظیم قائم ہے، اس کے سربراہ سول سوسائٹی کے ایک اہم فرد ڈاکٹر بدر چنہ ہیں، اس تنظیم کی طرف سے کافی عرصے سے نئے سال پر ایسی ثقافتی تقریبا ت کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے اس بار بھی نئے سال پر سندھ کے ایک تاریخی مقام پر صوفی تقریب منعقد کی گئی جس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی سول سوسائٹی کی کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں شریک کشمور ضلع کی ایک اہم شخصیت نے اعلان کیا کہ جلد کشمور ضلع میں بھی ایسی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا، بہرحال اس تقریب میں بھی جو تقریریں کی گئیں اور جو گیت گائے گئے ان سب کا مقصد سندھ میں صوفی تحریک کو آگے بڑھانا تھا۔ میں اس بات کا بھی ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سندھ میں شروع ہونے والی اس خودرو ثقافتی اور صوفی تحریک کو کراچی آرٹس کونسل اور حیدرآباد میں منعقد کیے گئے ’’لٹریری فیسٹیول،، اور دیگر ایسی تقریبات سے بھی کافی تقویت ملی ہے۔ اب میں اس کالم کے آکر میں اس بات کی وضاحت کروں گا کہ سندھ کے ان تین ہیروز ہوشو، ہیموں اور دودو نے سندھ کی خود مختاری کے تحفظ کے لئے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کردی مگر جو یہ گیت گائے جارہے ہیں کہ اس صوفی تحریک سے ثقافتی انقلاب کے تحت سندھ میں گھر گھر سے ہوشو، ہیموں اور دودو نکلے گا تو ان کا ٹارگٹ یہ ہوگا کہ سندھ میں مذہب اورزبان و نسل کی بنیاد پر نفرت کو دفن کرکے سندھ میں ایک مثالی پرامن بقائے باہمی والا معاشرہ قائم کیا جائے اور سندھ، جس کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ سندھ کو کرپشن کے سمندر میں تبدیل کردیا گیا ہے لہٰٰذا اس کرپشن کا خاتمہ بھی کیا جائے۔ علاوہ ازیں سندھ کے محکوم طبقوں کو اکٹھا کر کے سندھ کے دیہی اور شہری حکمران طبقوں اور دہشت گردوں کے خلاف کھلم کھلا جدوجہد کی جائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں