آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عاصمہ جہانگیر نے بہت اچھا کیا کہ وہ اس وقت انتقال کر گئیں۔زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس معاملے میں انسان بے بس ہے۔ لیکن اگر اپنی موت کے وقت کے تعین کا اختیار کسی کے پاس ہوتا تو عاصمہ جہانگیر کے انتقال کے لیے اس سے بہتر وقت کا انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی موت پر سوگوار نہیں۔ میرا دل بھی تمام جمہوریت پسندوں کے ساتھ مل کر خون کے آنسو بہا رہا ہے۔میری آنکھیں بھی تمام انسانی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کے ساتھ اشک بار ہیں۔ ہرمظلوم کے لئے آواز اٹھانے والی شخصیت کے انتقال پر میرے آنسو بھی نہیں تھم رہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود مجھے کہنے دیجئے کہ عاصمہ جہانگیر نے بہت اچھا کیا کہ وہ اس وقت ہی انتقال کر گئیں۔
ذرا ٹائمنگ تو دیکھئے کہ یہ وہ وقت ہے جب ہر طرف جمہوریت کا ’’رولا‘‘ پڑا ہوا ہے۔آمریت کے خلاف آواز بلند کرنا عام ہو گیا ہے۔ جبر کے خلاف جدوجہد کرنا بہادری سمجھا جا رہا ہے۔ووٹ کے تقدس کا نعرہ لگ رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ملک کا جمہوری وزیراعظم عدالتوں نے کھڑے کھڑے بس ایک اقامے کی بنیاد پر فارغ کر دیا ۔ عدالتوں کے ماضی کے کارناموں پر بات ہو رہی ہے۔ ڈکٹیٹروں کوپابند سلاسل کرنے پربحث جاری ہے۔ ایسے میں عاصمہ جہانگیر جیسے لوگوں کی اہمیت بڑھ رہی تھی۔ لوگ ان جیسی جری شخصیات کے

قصیدے پڑھ رہے تھے۔ ملک کا نااہل کر دہ وزیر اعظم ان سے خود اکثر فون پر بات کر رہا تھا۔ جمہوریت کے حق میں ہر مقدمے کا استغاثہ ان کو سونپا جا رہا تھا۔ عدالتوں کے ماضی پر بات کرنے کے لئے ان کو ہر چینل پر بلایا جا رہا تھا۔ آمروں کے قبیح کردار پر بحث کے لئے ان کا چنائو ہو رہا تھا۔ اقلیتوں کی آواز بلند کرنے کے لئے شمع محفل ان کے سامنے رکھ دی جاتی تھی۔ نقیب محسود کے بہیمانہ قتل پر پریس کلب میں خطاب کے لئے ان کو دعوت دی جا رہی تھی۔ ان کی شخصیت کی صفات پر ڈاکومنٹریاں بن رہی تھیں۔ بیرون ملک پاکستان میں ایک جمہوری پاکستان کے تصور کے لئے ان کا چہرہ استعمال کیا جا رہا تھا۔ 2013 کی طرح اس بار بھی نگران وزیر اعظم کے لیے انکا نام سامنے آ رہا تھا۔ وہ دبنگ خاتون تھیں، سچ بولتی تھیں ،مصلحتوں کے ساتھ انکا گزارا نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا انکی یاد کے پیغاموں سے اٹا پرا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر اسپیشل ٹرانسمیشنز ہو رہی ہیں۔پر نٹ میڈیا میںا سپیشل سپلیمنٹ شائع کئے جا رہے ہیں ۔قومی اعزاز سے تدفین کا مطالبہ کیا گیا۔ جنازے کی خبر فرنٹ پیج کی زینت بنی۔ بہادری کے اعزازات انکے نام ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں انکی جرات اور بہادری کے گن گائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ بہترین موقع تھا جب عاصمہ جہانگیر کو مرجانا چاہئے تھا۔ اس سے بہتر موقع اس ملک کی تاریخ میں میسر نہیں آ سکتا تھا۔
فرض کریں عاصمہ جہانگیر مرنے کا فیصلہ ایوب دور میں کرتیںیا پھر اجل کا فرشتہ اس زمانے میں ان پر جھپٹتا۔ تو اس وقت عاصمہ جہانگیرتاریخ کا ایک قابل نفرین کردار ہوتیں۔ وہ ایک ڈکٹیٹر کے خلاف جد و جہد کا آغاز کرتیں۔ جبر کے ماحول میں لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق کا سبق پڑ ھاتیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگروہ اس زمانے میں ہوتیں تو جگہ جگہ ،سرعام ایوب خان کے خلاف تقریریں کرتیں۔ فاطمہ جناح کے ایک آمر کے خلاف الیکشن لڑنے کا خوشدلی سے خیرمقدم کرتیں۔ ہر جلسے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتیں ۔ جب فاطمہ جناح کے جلوس پر گولی چلتی اور کئی نوجوان مارے جاتے تو انکا مقدمہ لے کر عدالت کے سامنے ڈٹ جاتیں۔ عورتوں کی سیاسی جدوجہد کو منظم کرتیں۔ ایوب کے بنیادی حکومتوں کے نظام کے خلاف سینہ سپر ہو جاتیں اور اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قراردیتیں۔ جب ہر جگہ ایک ڈکٹیٹرکی حکومت کے دس سال مکمل ہونے پر شادیانے بج رہے ہوتے تو ایسے میں عاصمہ جہانگیر ہر چوک پر ماتم ڈال دیتیں۔ سرکاری پولیس ایسے میں انکو گرفتار کر کے کسی عقوبت خانے میں ڈال دیتی اور کسی اندھیری کال کوٹھڑی میں ان کی روح قفس عنصری سے پار ہو گئی ہوتی۔ ان کی موت گمنامی اور بدنامی میں ہوتی۔ ان کو وطن دشمن کا خطاب ملتا۔ انڈین ایجنٹ اور بھارتی جاسوس کہا جاتا اور ان کی موت پر شادیانے بجائے جاتے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ عاصمہ جہانگیر نے بہت اچھا کیا جو اب انتقال کر گئیں۔
فرض کریں عاصمہ جہانگیر کا انتقال ضیاء الحق کے دور میں ہوتا تو اس خبر کا کہیں ذکر نہیں ہونا تھا۔ اس لئے کہ عاصمہ جہانگیر پہلے تو بھٹو کے عدالتی قتل پر ہر فورم پر ماتم کرتیں ۔ ایک فوجی آمر کے ہاتھوں حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف ہاتھ دھو کر پڑ جاتیں۔ہم ان کی شکل سے بھی واقف نہ ہوتے اس لیے کہ وہ ٹی وی پر آنے کے لیے سر پر زبردستی دوپٹہ کرنے کی شرط قبول نہ کرتیں۔ ضیاء الحق کے اسلام کے خلاف وہ آواز بلند کرتیں۔ روس کی جنگ میں خود جھونک دینے کی پالیسی کے خلاف جگہ جگہ بیان دیتیں۔ افغان مجاہدین کی فصل اپنی دھرتی پر تیار کرنے کے فیصلے کے خلاف سینہ سپر ہوتیں۔جونیجو حکومت کو برطرف کرنے پر وہ اکیلی ہی کسی چوک میں دھرنا دیتیں۔ بھارت سے مذاکرات کی خواہش پر ان کو غداروطن کہا جاتا۔ ہولی کھیلنے پر ان کو برا بھلاکہا جاتا۔ ان کے بارے میں مجلس شوری قرارداد پیش کرتی۔ علماء کنونشن میں انکے خلاف فتوی دیا جاتا۔ اوجڑی کیمپ کیس میں بے گناہ مر جانے والوں کا مقدمہ لڑنے پر ان کے خلاف غداری کے مقدمے بنتے۔ ان کی ایسی ملحدانہ اور کافرانہ صفات کی وجہ سے ان کو اصل جائے مقام یعنی قلعہ لاہور میں بنی زیرزمیں عقوبت گاہ میں پہنچا دیا جاتا۔ جس کی سیلن زدہ دیواروں میں وہ جان سے گزر جاتیں اور ایک ملحد ، ملعون اور کافر کے مرنے پر سرکاری طور پر شکرانے کے نفل ادا کیے جاتے۔ اسی لیے بار بار کہتا ہوں کہ عاصمہ جہانگیر نے بہت اچھا کیا جو ابھی انتقال کر گئیں۔
یہ بھی اچھا ہوا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال مشرف کے نو سالہ دور آمریت میں نہ ہوا۔ کیونکہ یہ وہ وقت تھاکہ جب وہ ایک بے بنیاد طیارہ سازش کیس سے نالاں تھیں۔ جب وہ پی سی او ججز کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔ نواز شریف اور بے نظیر کو وطن واپس نہ آنے دینے کے فیصلے پر احتجاج کررہی تھیں۔ نائن الیون کے بعدایک فون کال پر ملک کے مستقبل کو تبدیل کرنے پر سرعام ماتم کر رہی تھیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والوں پر احتجاج کر رہی تھیں ۔ مسنگ پرسنز کا نوٹس لے رہی تھیں۔ لال مسجد میں گولیوں کی بوچھاڑوں سے چھلنی ہونے والی بچیوں کے گھر گھر جا کر آنسو بہا رہی تھیں۔بے نظیرکے قتل کا ذمہ دار اس دور کے حاکم کو ٹھہر ارہی تھیں۔ اکبر بگٹی کے بہیمانہ قتل پر دنیا بھرمیں آواز بلند کررہی تھیں۔
روز بہ روز ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار ایک ڈکٹیٹر کو ٹھہر ارہی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب وکلا تحریک میں صف اول میں شامل تھیں۔انکے اختیار میں ہوتا تو بارہ مئی کو کراچی میں سڑکوں پر اندھا دھند فائرنگ سے مرنے والوں کے ساتھ سینے پر گولی کھاتیں۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش پر غدار وطن کہلائی جا رہی تھیں۔یہ انکی خوش قسمتی تھی کہ ڈکٹیٹروں کے خلاف گستاخیوں پراور کسی دن اچانک اکبر بگٹی کی طرح ایک بم سے ان کے پر خچے نہیں اڑا دئیے گئے۔مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو ان کی موت پر سرکاری طور پرسکھ کا سانس لیا جاتا۔ میڈیا پر بات کرنے کی ممانعت ہوتی ۔ موم بتیاں جلانے والوں کو سزا ہوتی۔
عاصمہ جہانگیر اس ملک میں آزادانہ سوچ کا وہ استعارہ تھیںجو قوموں کو صدیوں میں نصیب ہوتا ہے۔ اس طرح کی شخصیات کے انتقال کا وقت بھی نصیب کی بات ہوتی ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال اس زمانے میں ہوا جب ہم ان پر فخر کر سکتے تھے۔ جب عورتیں ان کے جنازے میں شامل ہو سکتی تھیں۔ جب ہم ان کی مرگ کا شان سے ماتم کر سکتے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں