آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کا شیرازہ بکھر رہا ہے اور اب مختلف دھڑوں کے دوبارہ یکجا ہونے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے ، وہ غیر متوقع نہیں ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کے خاتمے سے لوگوں کو خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے ختم ہونے سے سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ چاہے ان سیاسی جماعتوں کا تعلق بائیں بازو سے ہو یا دائیں بازو سے ۔ چاہے یہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مخالف ہوں یا اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ ۔ مقبول سیاسی جماعتوں کے ختم ہونے سے پیدا ہونے والا خلاء خطرناک سیاسی اور سماجی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے ۔ پاکستان ایک سیاسی تحریک کے نتیجے میں الگ ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا اور آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک سیاسی جماعت کے طورپر برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت کی اور ان کی سیاسی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ قیام پاکستان کے فوری بعد خصوصاً بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ملک میں سیاسی پارٹیوں کا کلچر بن نہ سکا یا منصوبہ بندی کے تحت ختم کر دیا گیا ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کا سیاسی سفر رک گیا اور ملک ایسے بحران سے دوچار ہو گیا ، جس کے خوف ناک اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

مسلم لیگ پر اگرچہ وڈیرے ، جاگیردار سرمایہ دار اور سول و ملٹری بیورو کریسی کے نمائندے قابض ہو گئے ۔ اگر وہ بھی مسلم لیگ کو ایک عوامی سیاسی جماعت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ اور اشرافیہ کی سیاسی جماعت کے طور پر قائم رکھتے اور اسی کے ذریعہ جمہوری عمل اور عوام کی بہتری کے راستے کو آگے بڑھاتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا ، جتنا پاکستانیوں نے بحیثیت قوم برداشت کیا ۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ سیاسی جماعت کو بھی نہ پنپنے دیا ۔ ہر چند سال بعد ایک مسلم لیگ یا کنونشن لیگ کسی اور نام سے جماعت بنتی اور پھر راتوں رات ختم کر دی جاتی رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک پر جاگیردار ، سرمایہ دار اور آمر باری باری حکومت کرتے رہے اور چہرے بدل بدل کر آتے رہے ۔عوام میں جن کاچہرہ سیاہ ہو جاتاتو چہرے کو بدل دیا جاتا ان حکومتوں کا عوام خصوصاً محنت کش اور غریب طبقے اور دانشوروںسے کوئی تعلق نہیں تھا ۔
اس عرصے میںپہلے ایک سیاسی جماعت ابھر کر سامنے آئی اور وہ عوامی لیگ تھی ۔ عوامی لیگ کو لوگوں کی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ۔ وہ متوسط طبقے کی سیاسی جماعت تھی ۔ دائیں بازو کی جماعت اسلامی یا بائیں بازو کی نیشنل عوامی پارٹی( نیپ ) جیسی سیاسی جماعتیں مقبول نہ ہو سکیں ۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی ۔ یہ سیاسی جماعت گراس روٹ لیول سے بنی تھی اور اس میں چاروں صوبوں اور تمام زبانیں بولنے والے لوگوں کی نمائندگی تھی۔ یہ ہر مسلک اور ہر مکتبِ فکر کی جماعت تھی۔ یہ سیاسی جماعت غریبوں ، محنت کشوں ، کسانوں ، طلباء ، نوجوانوں اور دانشوروں میں پیدا ہو ئی۔اگرچہ اس میں اشرافیہ بشمول جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے نمائندے بھی تھے لیکن پارٹی کی باگ ڈور ترقی پسند دانشوروں اور مڈل کلاس کے ہاتھ میں تھی ۔ بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر کھیتوں ، کھلیانوں ، فیکٹریوں ، ملوں اور تعلیمی اداروں میں لے گئے ۔PPP کاسیاسی بیانیہ عام لوگوں کا بیانیہ تھاہر ایک اسکو اپنا پروگرام سمجھتا تھا۔ جب تک پیپلز پارٹی اپنے عوامی جوہر کے ساتھ موجود رہی ، پاکستان نے سیاسی طور پر بہت آگے سفر کیا ۔ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش کرنے والی قوتوں کو کامیابی حاصل نہ ہوئی حتیٰ کہ ضیا الحق کے سخت ترین مارشل لاَمیں پیپلز پارٹی کو عوام اور کارکنوںنے بچایا۔ سینئر قائدین کنارہ کش ہو گئے تھے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے معاملے میں سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان مسلم لیگ (ن) اور (ق ) وغیرہ قائم کیں ۔ وقت کے ساتھ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور سیاست میں ایک توازن قائم ہوا ۔ سیاسی جماعتیں جن طبقات اور گروہوں کی نمائندگی کرتی ہیں ، وہ ان طبقات اور گروہوں کے ساتھ ڈائیلاگ کا ذریعہ ہوتی ہیں ۔ وہ لوگوں میں رابطہ پیدا کرتی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو ختم نہیں ہونا چاہئے ۔ وہ چاہے اسٹیبلشمنٹ کی مخالف ہوں یا اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ ۔ ایم کیو ایم ان لوگوں کی نمائندہ سیاسی جماعت تھی ، جو ہندوستان سے اپنا گھر بار چھوڑ کر اور اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد پاکستان آئے تھے اور ملک خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں میں آ کر آباد ہوئے تھے ۔ ہندوستان سے آنے والوں کے دو طبقات تھے ۔ ایک اشرافیہ کا طبقہ تھا ، جس کے پاس سرمایہ ، تعلیم اور وسائل تھے یا انہیں میسر آ گئے تھے ۔ ان میں اعلی پائے کے لوگ بھی تھے ، جو پاکستان کی ہیئت مقتدرہ میں اہم حیثیت کے مالک رہے شہری علاقوں کے لوگ پاکستان کی سپیرئیر سروس میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کرتے تھے ۔ اس طبقے کے لوگوں نے پاکستان کی خدمت کی ۔ ہندوستان سے آنے والے لوگوں کا دوسرا بہت بڑا طبقہ لوئر مڈل کلاس کا تھا ، جو ہمیشہ محرومیوں کا شکار رہا ۔ اس لوئر مڈل کلاس کے لوگ مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے رہے لیکن انہیں نہ تو مطلوبہ مقام ملا اور نہ ہی ان کے مسائل حل ہوئے ۔ اردو بولنے والے کبھی کراچی صوبہ محاذ ، کبھی مہاجر پنجابی پختون اتحاد اور کبھی کسی دوسری جماعت میں شامل ہوتے رہے ۔ المیہ یہ ہے کہ وہ سندھ میں رہتے ہوئے سندھ کی کسی مقبول سیاسی جماعت کا حصہ نہ بن سکے ۔ وہ اپنی شناخت کی تلاش میں رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کیلئے یہ صورت حال موزوں تھی ۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی میں جمہوری ، ترقی پسند اور لبرل قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( اے پی ایم ایس او ) اور ایم کیو ایم کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کی ۔ ایم کیو ایم گراس روٹ لیول سے ابھری اور ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ملک میں مڈل کلاس کی سب سے بڑی جماعت تھی ۔ سندھ کے شہری علاقوں میں اس کی گرفت بہت زیادہ مضبوط ہو گئی اور وہ ان علاقوں کی بے تاج بادشاہ بن گئی ۔
سندھ کے شہری علاقوں کے عوام نے ایم کیو ایم کا بھرپور ساتھ دیا لیکن ایم کیو ایم بھی وہ نہ کر سکی ، جو وہ کراچی کے عوام کیلئے کر سکتی تھی اور جو اس بڑے شہری مینڈیٹ سے عوام کا حق تھا ۔ وہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں بھی رہی اور بلدیاتی اداروں پر بھی اس کا مکمل کنٹرول رہا ۔ کم و بیش 30 سال تک اسے سندھ کے شہری علاقوں میں فیصلہ کن اور بلا شرکتِ غیرے سیاسی حیثیت حاصل رہی لیکن آج ہم ایم کیو ایم سے پہلے کے کراچی پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ کراچی نظر نہیں آتا ۔ شہری انفراسٹرکچر ، ٹرانسپورٹ ، صفائی ستھرائی کے حوالے سے کراچی مغرب کے شہروں کے ہم پلہ تھا ۔ یہاں تعلیم کا معیار بہت بلند تھا ۔ صحت کی بہتر سہولتیں موجود تھیں ۔ امن وامان کی مثالی صورت حال تھی ۔ کراچی 24 گھنٹے جاگتا تھا ۔ کراچی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا ۔ دائیں اور بائیں بازو کی تمام تحریکوں کی قیادت کراچی کے پاس تھی ۔ وہ کراچی کہیں گم ہو گیا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا سخت گیر نظم و ضبط ، پارٹی کی دوسری کمان کا فقدان اور ایم کیو ایم کی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ۔ کمان ختم ہوئی تو پارٹی کا شیرازہ بکھر گیا ۔
ایم کیو ایم نے بھی ایک اشرافیہ کا کلاس پیدا کر دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو بولنے والی آبادی ایک حقیقت ہے اور کراچی میں ان کا جو بھی سیاسی فیصلہ ہو گا ، وہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات کا حامل ہو گا ۔ ایم کیو ایم ان کا پہلا عشق ہے ۔ ایم کیو ایم کا شیرازہ اس وقت بکھر رہا ہے ، جب ملک کی کوئی دوسری سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کھیتوں، کھلیانوں اور اداروں سے نکل کر دوبارہ ڈرائنگ روم، وڈیروں کی سیاست کی طرف پلٹ گئی ہے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بھی عوامی سیاسی جماعتیں نہیں ہیں اور انکا نہ سیاسی بیانیہ ہے اور نہ ہی تھا اس وقت حقیقی سیاسی بحران یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ ان میں جمہوری اور سیاسی کلچر کی کمی ہے ۔
اردو بولنے والی آبادی ملک کی سیاسی طور پر سب سے زیادہ باشعور ہے ۔ وہ اپنی شناخت کیساتھ ساتھ اپنے سیاسی مقام کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے اور اپنے مسائل کا بھی حل چاہتی ہے ۔ کراچی کی اردو بولنے والی آبادی کیلئے یہ مخمصے کی صورت حال ہے لیکن کوئی نہ کوئی تو صورت نکلے گی اور آئندہ ایک دو ماہ میں پوزیشن واضح ہو گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں