آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قصور کی معصوم زینب اور اس جیسی دیگر ننھی پریوں کو ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کرنیوالے سفاک مجرم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چار بار سزائے موت سنا دی ہے۔ زینب کے ساتھ زیادتی اور نعش کی بے حرمتی کرنے پر مجرم کو عمر قید ،سات سال قید اور اکتیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔ پراسیکیوٹر جنرل کیمطابق یہ سزا صرف زینب قتل کیس میں دی گئی ہے جبکہ دیگر بچیوں کے مقدمات میں مجرم کو الگ سزائیں سنائی جائیں گی۔ زینب قتل کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف مجرم کی طرف سے اپیلوں کی صورت میں ممکنہ طور پر اعلیٰ عدالتیں بھی اس سیریل کلر کی سزا کو برقرار رکھیں گی جس کے بعد غیر انسانی جبلت رکھنے والے اس ناپاک وجود کا دھرتی سے خاتمہ ہو جائیگا۔ چیف جسٹس کی ہدایات پر اے ٹی سی نے مجرم کے جیل ٹرائل کے دوران روزانہ 9 سے 11 گھنٹے سماعت کر کے ایک ہفتے کی دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر مقدمے کا فیصلہ سناکر عدلتی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ٹرائل کی جلد تکمیل اور فوری فیصلے کے عمل کو آسان بنا نے میں مجرم کے اعتراف جرم کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ اس مقدمے میں انصاف میں تاخیر ،انصاف سے انکار کے مقولے کو غلط ثابت کر دیا گیا اور بلاشبہ اس انتہائی اہم مقدمے میں متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار

نہیں کیا جا سکتا کہ زینب پر ڈھائے جانے والے ظلم پر اگر میڈیا دہائیاں نہ دیتا اور پورا معاشرہ انصاف کے حصول کیلئے متحد ہو کر کھڑا نہ ہوتا تو اس مقدمے کا انجام بھی وہی ہونا تھا جو اس سے پہلے اس طرح کے ان گنت مقدمات میں ہوتا رہا ہے۔ یہ بھی معاشرتی دباؤ ہی تھا کہ جس نے بیہمانہ جرائم کے مرتکب ملزم کے وکیل کے ضمیر کو اس حد تک جھنجھوڑا کہ اس نے مقدمے کی پیروی سے معذوری ظاہر کر دی۔ زینب اور قصور کی دیگر بچیوں کو انصاف مل گیا ،ان کی روحیں پرسکون ہو گئیں جس کے بعد توقع ہے کہ مردان کی اسماء کو بھی اسی نہج پر بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ زینب اور اسماء کے قتل کے بعد شروع ہونیو الی بحث کے دوران بچوں کی نگہداشت اور ان کی تربیت سے لے کرتفتیشی نظام اور قانون سازی تک متعدد سوالات نے بھی جنم لیا۔ انہی واقعات کا نتیجہ ہے کہ بچوں کے بارے میں انفرادی اور اجتماعی رویوں میں تبدیلی لانے کا احساس پیدا ہونے کے ساتھ انہیں ایک پر امن اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی نے فوجداری قانون میں ترمیم کا بل 2017ءمتفقہ طور پر منظور کیا۔ اس بل میں کمسن بچوں کی فحش نگاری اور ان کے ساتھ زیادتی کے جرائم پر دی جانے والی دو سے سات سال قید کی سزا کو بڑھا کر چودہ سے بیس سال کر دیا گیا ہے،اسی طرح ان جرائم میں ملوث ملزمان کو کئے جانے والے جرمانے میں بھی دس لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے کی جانے والی اس قانون سازی کی اہم بات یہ ہے کہ اسے سوات سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی شخصیت اور تحریک انصاف میں حق کا علم بلند کرنے والی رکن قومی اسمببلی مسرت احمد زیب نے نجی بل کے طور پر پیش کیا تھا۔ بل کی منظوری کے اگلے دن ڈپٹی اسپیکر کے دفتر میں ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے مخصوص شفقت بھرے انداز میں شکوہ کیا کہ اس انتہائی اہم قانون سازی کو میڈیابالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے بلکل نظر انداز کیا ہے جبکہ یہ قوم کے بچوں کے تحفظ کا معاملہ ہے جس کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ وہ اس انتہائی اہم بل کی قومی اسمبلی کے بعد اب سینیٹ سے منظوری کیلئے فکرمند تھیں اوران کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ تو سینیٹ میں کسی رکن کو نہیں جانتیں پھر اس بل کے بارے میں سینیٹ میں کون توجہ دلائے گا اور کیسے ا س کی منظوری ہو گی تاکہ یہ ایکٹ کا درجہ پاکر قانون کی شکل اختیار کرسکے۔ میں نے انہیں دو چار سینیٹرز سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تاہم انہوں نے ان سے شناسائی نہ ہونے کی وجہ سے لاچارگی ظاہر کی۔ میں نے انہیں بل کی منظوری کیلئے چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کرنے کی تجویز دی اور یہ جان کر حیران رہ گیا کہ انہیں چئیرمین سینیٹ کے آفس کا راستہ تک معلوم نہ تھا۔ میرے رہنمائی کرنے پر بل کی کاپی سنبھالتے وہ اپنے روایتی انداز میں دعائیں دیتی ہوئی رخصت ہو گئیں جس کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا کہ جس معاشرے میں فکر کرنے والی ایسی مائیں موجود ہوں وہاں بچے کیسے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں ہی قومی اسمبلی نے بچوں کے تحفظ اور ان کیلئے الگ نظام انصاف قائم کرنے کے بارے میں مزید دو بل بھی منظور کئے ہیں۔ ان میں کمسن بچوں کے بارے میں انصاف کے متبادل نظام کا بل بھی شامل ہے جو گزشتہ چار سال سے قائمہ کمیٹی کی طرف سے منظوری کے باوجود حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ پنجاب کے علاوہ دیگر تین صوبائی اسمبلیاں بھی بچوں کے تحفظ کے قانون کو منظور کر چکی ہیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ان قوانین کے خالق ،وفاقی وزارت قانون کے مشیر شرافت علی چوہدری کے مطابق ان بلوں کے ایکٹ بننے سےبچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انقلابی تبدیلیاں آئیں گی جبکہ ایسے بچے جو بے راہ روی یا غلط ہاتھوں میں چلے جانے کی وجہ سے خود جرائم کی راہ پر چل پڑتے ہیں ان کی بحالی اوربہتر نگہداشت سے ان کی مثبت کردار سازی ممکن ہو سکے گی۔ نئے قوانین میں بچوں کیلئے الگ عدالت کے قیام،بچوں کے تمام مقدمات اس عدالت کو منتقل کرنے، کمسن بچے کو پولیس کی تحویل یا جیل کی بجائے مشاہدہ گھر میں رکھنے،بچے کی شناخت ظاہر کرنے پرپابندی،کمسن بچے کی طرف سے سنگین جرم کی صورت میں اسے سزائے موت نہ دینے،بچوں کی نگہداشت کیلئے فنڈ قائم کرنے،کمسن بچے کو ریاست کے خرچ پر قانونی معاونت فراہم کرنے،کمسن مجرم کو ہتھکڑی نہ لگانے،کمسن لڑکی کی مرد پولیس افسر کے ذریعے گرفتاری پر پابندی اور متبادل تصفیہ جاتی نظام کے طور پر انصاف کمیٹی قائم کرنے جیسی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ نئی قانون سازی خوش آئند لیکن زینب اور اسماءجیسے واقعات رونما ہونے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کا عالم یہ ہے کہ بچوں کیلئے قومی کمیشن کے قیام کے قانون کو منظور ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن تاحال اس کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ پنجاب اورسندھ کی حکومتوں کی بار بار یاد دہانی کے باوجود ابھی تک کمیشن کیلئے ارکان کی نامزگیاں نہیں بھیجیں۔ بچوں کو ملک کا مستقبل قرار دینے کے دعوے اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ابھی تک ایسا میکانزم تک موجود نہیں جس کے ذریعے وہ سرکاری سطح پر بچوں سے زیادتی اوران پر تشدد جیسے جرائم کے اعداددوشماراکھٹے کر سکیں۔
اس سے زیادہ لاپرواہی کیا ہو گی کہ قومی اسمبلی میں ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کی طرف سے گزشتہ پانچ سال میں بچوں سے زیادتی اور تشدد کے بارے میں جمع کیے گئے اعدادو شمار پیش کئےگئے۔ یہ غیر سرکاری تنظیم بھی اعدادو شمار کیلئے میڈیا رپورٹوں کا سہارا لیتی ہے اسلئے ان میں وہ واقعات شامل نہیں ہیں جو میڈیا یا پولیس کے پاس رپورٹ نہیں ہوئے۔اگرصرف رپورٹ ہونیو الے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز میں روزانہ تقریبا دس معصوم بچوں کو ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ زینب کے قاتل کو سزائے موت ملنے کے بعد سکھ کا سانس ضرور لینا چاہئے لیکن ہمیں انفرادی ،اجتماعی ،ادارہ جاتی اور حکومتی سطح پر بچوں کی نگہداشت اور تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا تاکہ آئندہ ہماری جرم ضعیفی کی سزا کسی ننھی زینب کو مرگ مفاجات کی صورت میں نہ بھگتنا پڑے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں