آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نہرو نے کہا کہ جب بھی ہم نے ضروری سمجھا ہم حیدر آباد کیخلاف فوجی کارروائی شروع کریں گے۔ کیونکہ ریاست غنڈوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ونسٹن چرچل نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’میرے خیال میں ہٹلر نے آسٹریا نکل جانے پہلے کوئی ایسی ہی بات کہی ہو گی‘‘ الطاف حسین قریشی نے اپنی تازہ کتاب "جنگ ستمبر کی یادیں" میں ریاست حیدر آباد کے بھارت کے ہاتھوں سقوط کی مختصر تاریخ کو کچھ اس انداز میں اصل موضوع بحث سے پرو دیا ہے کہ اس کہانی یا تصور سے یکسر روح قبض کر لی کہ بھارت تو امن پسندی چاہتا تھا۔ مگر پاکستانیوں نے امن کی فاختہ قبائلیوں کے لشکر کی گھن گھڑاہٹ میں اڑا دی۔ فاختہ نے اڑنا ہی تھا کیونکہ دیسی ریاستوں کو بھارت ہر طریقے سے نگل جانا چاہتا تھا۔ چاہے دنیا اس کے اقدامات کو ہٹلر کے بودے دلائل سے ہی مشابہ کیوں نہ قرار دے رہی ہو۔ جنگ ستمبر کے حوالے سے یادداشتیں قلمبند کرنے سے تاریخ کی ایسی شناخت ممکن ہوئی جو سنی سنائی داستانوں کے بجائے چلتے پھرتے واقعات پر رواں تبصرہ ہے۔ اور ان واقعات کا تسلسل برطانوی ہندوستان میں سیاسی حقیقتوں کے جنم، کشمیر کے تنازع کی بنیادی وجوہات اور دن بدن بدلتے واقعات سے ایسے جڑا ہوا ہے کہ برصغیر کی تاریخ کو سمجھنے اور مستقبل کی تاریخ کو سینچنے کے لئے اس کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ بلوچستان

سے آج تک مسئلے کی نشاندہی آزادی کے وقت پنڈت نہرو کی سرگرمیوں پر گفتگو کرتے ہوئے مختصراً یوں بیان کی ہے کہ ’’پنڈت نہرو پاکستان میں بلوچستان کی شمولیت پر اثر انداز ہونے کے لئے خود کوئٹہ گئے اور ان عناصر کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی جو بلوچستان کو انڈیا میں شامل کرنے کے لئے سرگرم عمل تھے۔ لیکن جناب وسیم حجازی ، سردار جعفر جمالی اور نوجوان اکبر خان بگٹی کی سرتوڑ کوششوں سے کانگریس کا پھیلایا ہوا دام وقتی طور پر تار عنکبوت ثابت ہوا۔ ان سرکش عناصر کے اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں جو ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں‘‘۔ بلوچستان سے بھارت کے الحاق کی خواہش جتنی مجنونانہ تھی اس کا جواب اگر اس وقت کی موجود قیادت نہ دیتی تو بلوچستان آج افغانستان کی موجودہ حالت سے بھی بدتر ہوتا۔ جب کبھی بھی کہیں بھی بلوچستان کے حالات کا 1947کے ذیل میں تذکرہ سنتا یا پڑھتا ہوں اور نواب اکبر خان بگٹی کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے کاوشیں سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں تو بے انتہا افسوس رگ و پے میں اثر کر جاتا ہے کہ کیسے ایک ایسے انسان کو جو قیام پاکستان کے وقت بلوجستان کی پاکستان میں شمولیت میں ہائل رکاوٹوں کو دور کرتا رہا۔ مرکزی حکومت میں اہم ترین وزارتوں سے منسلک رہا۔ جب بلوچستان میں سرکشی آمریتوں کے سبب سے جاری تھی تو گورنر بن کر معاملات کو حل کرنے کی جستجو میں لگا رہا اس کو ہی سرکش بنا کر پیش کیا گیا اور پھر راہی ملک عدم کر دیا گیا۔ اسی طرح عاصمہ جہانگیر بھی تمام عمر نظریات کیلئے لڑتی رہی۔ جس کی بناء پر ان پر مخالفین نے الزام تراشی کی حد کر دی۔ میرا اپنا رابطہ گوہر بٹ صحافی کے حوالے سے ان سے چند بار ہوا۔ جب نوازشریف جلا وطنی کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو ان سے ملاقات کے انعقاد کے لئے عاصمہ جہانگیر نے میرے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔ آمریت نے جہاں نواب اکبر بگٹی کو منظر سے ہٹایا وہیں ہر آمریت عاصمہ جہانگیر سے کبیدہ خاطر ان کے موقف کے سبب سے رہی کیونکہ کسی اختلاف کو برداشت کرنا آمرانہ اذہان کے لئے نا قابل قبول ہوتا ہے۔ بہرحال یہ تو چند معترضانہ جملے تھے۔ تماشہ تو اب بھی چل رہا ہے۔ قوموں کیساتھ جب تماشے کیے جاتے ہیں تو ان میں باہمی عناد کا پنپ جانا فطری نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن جنگ ستمبر ایک ایسا واقعہ تھا کہ جس نے اس وقت تمام اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے قوم کو سچے موتیوں کی لڑی میں پرو دیا تھا۔ اور لسانی اور مذہبی اختلافات سے ماورا ایک قوم کی مانند قوم نے رد عمل دیا تھا۔ تحریک وحدت اسلامی کے سربراہ مرحوم مولانا جاوید اکبر ساقی سے ایک بار استفسار کیا تھا کہ آپ ان پر آشوب حالات میں بھی اتحاد بین المسلمین کا جھنڈا اٹھائے میدان عمل میں ہے۔ حیرت ہوتی ہے۔ تو برجستہ فرمانے لگے میرے والد مرحوم مولانا اکبر ساقی پر جنگ ستمبر اور الکفروملت واحدہ کا گہرا اثر تھا۔ دشمن ہر مسلمان کا دشمن تھا اور ہے۔ جنگ ستمبر نے دشمن کے عزائم کا بھانڈا پھوڑ دیا جبکہ عوام اور فوج کا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔ اور یہ رشتہ مزید مضبوط اور گہرا ہوتا چلا جاتا۔ اگر چند اقتدار پرست رائے عامہ کو کچل کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان نہ ہوتے رہتے۔ ’’جنگ ستمبر کی یادیں میں ایک باذوق میجر سے گفتگو میں میجر کے یہ الفاظ قلمبند کئے ہیں کہ ’’اس جنگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ اب اردو ادب میں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ اب ہمارے تجربات یکساں ہیں۔ ہمارے احساس ، ہمارے جذبے اور ہمارے خیال کے سوتے ایک ہیں۔ ہم سب مل جل کر نیا دور تخلیق کر رہے ہیں‘‘۔ یہ تصورات ایک عام فوجی کے تھے جو حکمران بننے یا اپنی رائے کو رائے عامہ کی اکثریت پر غالب کرنے کی نیت سے وردی پہنے ہوئے نہیں تھا۔ بلکہ وطن عزیز کے انچ انچ پر اپنے بدن کے لہو کا ایک ایک قطرہ قربان کرنے کے لئے تیار نہیں بیتاب تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں