آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیسری مرتبہ اقتدار سےاقامے کی بنیاد پر نکالے گئے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نےاعلان کردیا ہے کہ وہ صرف اللہ سےڈرتےہیں، گھبرائیں گے نہ پیچھے ہٹیں گے،انہوں نے یہ بھی نشاندہی کردی ہےکہ فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کےانگوٹھے کرتے ہیں۔ گو میاں صاحب کو ان حقیقتوں کا ادرا ک تیسری مرتبہ اقتدار کھونے کے بعد شدت سے اس لئے ہواہےکہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کےبعد مکمل یقین اور اطمینان سے تھے کہ انہیں اب کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا۔ انہیں پارلیمنٹ کو غیراہم سمجھنے کے باوجود اسی جمہوریت کی ماں کا2014 کے سیاسی سونامی اور کئی حوادث سے اماں بخشنے پر شکر گزار ہونا چاہئے تھا تاہم وہ یہی احسان بھول گئےتھے پھر سیاسی موسم بدلا تو طوفان نے ان کی اقتدار کی کشتی الٹ دی۔ اب میاں صاحب کا سیاسی نظام اور جمہوریت پر اعتقاد مضبوط ہونے کا تاثر دینا دیر آید درست آید کے مصداق پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوسکتاہے تاہم ان کا عزم اور اپنے قدموں پر جمے رہنا شرط ہے کیونکہ کئی برس کی سزائوں کا بوجھ اٹھائے احتساب عدالتوں کے طے شدہ فیصلے جلد ہی سنائے جانے کو ہیں۔
کمال یہ بھی لگتا ہےکہ میاں صاحب نے28 جولائی کےفیصلے کےبعد میدان چھوڑ کر بھاگ جانے اور کسی نئی ڈیل سےمتعلق طاقتوروں کے پرعزم اندازے بھی غلط ثابت

کردیئے ہیں۔ عدالتوں میں پیشی اور عوام سے رجوع کرنے کے ساتھ مزاحمتی بیانیے نے ان کی سیاست کو جلا بخش دی ہے۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ انہیں تسلیم نہ کرنے کی منطق، قصور اور بے قصور ہونے کے تصور کی تیزدھار لفاظی سے بار بار وضاحت اور کیوں نکالا کا منترا انہیں عوامی عدالت میں فتح سے ہمکنار کرتا نظر آرہا ہے، نااہلی کے فیصلے کے خلاف موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ کے ذریعے عوامی ارتعاش پیدا کرنے کا فیصلہ گویا رنگ لا رہا ہے، سیاست میں مزاحمتی بیانیے کی نئی طرز کو تقویت دینے والی صاحبزادی باپ کی آہنی سپورٹ بن کر دختر پاکستان کا درجہ پا رہی ہیں۔ والد گرامی کے بھرپور اعتماد اور عوامی رابطہ مہم کی سربراہی دینے کے اقدام نے بھی مریم بی بی کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیاسی مخالفین ہی نہیں اپنی جماعت بلکہ اپنےخاندان کی خاموش مخالفت کے باوجود احتجاجی مہم کو عوامی حمایت کے بل بوتے پر آئندہ انتخابی مہم میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ محترمہ نے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے مقابل وزیراعظم ہائوس سے جس سوشل میڈیا سیل کا آغاز کیا وہ بھی سیاسی تحریک کا ہراول دستہ بن چکا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ میاں صاحب کا چھوٹے میاں کی بجائے اپنی سیاسی جانشینی کا بی بی کو حقدار قرار دینا اسٹیبلشمنٹ کو بھی قابل قبول نہیں تاہم سیاست میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے جمہوری کردار کے طرز کو نبھانے کےلئے بی بی مریم ایک پر اعتماد،بااثر اور آئیڈیل رہ نما کےطور پر سامنے آرہی ہیں۔ تنقیدی رائے رکھنے والوں کی نظر میں بی بی مریم کی اعلیٰ عدلیہ اور خفیہ کرداروں پر عوامی سطح پر مسلسل اور کھلے عام تنقید سیاسی راہ میں مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے تاہم وہ اس خطرے کو مول لینے پر اس لئے بھی آمادہ نظر آتی ہیں کہ کبھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہ رہنے کےباعث انہیں کسی احتساب و عتاب کا نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔ میاں صاحب کا کرکٹ کے چیمپئن خان بابا کو سیاسی میدان میں ان کے مقابل آنے سے پہلے صاحبزادی بی بی مریم کو مضبوط سیاسی کردار کے طور پر سامنے لاکھڑا کرنا بھی بڑی سیاسی چال قرار دیا جارہا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کے آخری ضمنی انتخابات لودھراں میں ’’بدترین‘‘ شکست نے خان بابا کی سیاسی یا آئندہ کی انتخابی حکمت عملی پر تو بظاہرکوئی اثر نہیں ڈالا ہاں ذاتی زندگی کو ’’عروسی روحانیت‘‘ میں ضرور تبدیل کردیا ہے۔ نئے سال کی جنوری کی ایک سرد شام میں گرم لباس مہمانوں کی موجودگی میں اپنی پیرنی کےساتھ نکاح کی مبارک گھڑی نے ’’سیاسی فتح‘‘ کا وقت ابھی تک تبدیل نہیں کیا، باہمی رضامندی سے فروری کی 18کو تسلیم کیا جانے والا شادی کا مینڈیٹ انصافین کے لئے بھاری ثابت ضرور ہو رہا ہے جس کی وہ وضاحت کرنے کےقابل بھی نہیں رہے۔ ایک موقر ذریعے کے مطابق تحریک انصاف کی ایک حالیہ اعلیٰ پارٹی میٹنگ میں شاہ محمود قریشی اور وزیراعلیٰ خٹک خوب گرجے اور اپنی قیادت کو لودھراں شکست کا ذمہ دار اور دیگر رہ نمائوں نے بھی آئندہ انتخابات کے لئے ہنگامی سیاسی صف بندی کا مطالبہ کیا، باتوں باتوں میں پارٹی کے عوام بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے بڑھتے عدم اعتماد کا بھی ذکر کیا گیا، یہ بھی کہا گیا کہ2018 کا انتخابی معرکہ2013 کے انتخابی معرکے سے قطعی مختلف اور مشکل ترین مرحلہ ہوگا2013 وہ وقت تھا جب ہر طرف پی ٹی آئی کا کریز اور شور بپا تھا، لیکن بقول اجلاس میں موجود لیڈر، ان نصیحت بھری باتوں کا مسٹر خان بابا پر نہ کوئی اثر ہوا اور نہ ہی انہوں نے اس کو سنجیدہ لیا بلکہ یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ابھی انتخابات بہت دور ہیں اور جب یہ مرحلہ آئے گا تو دیکھ لیں گے، پارٹی رہ نما کے مطابق خان بابا کےکان میں شاید کسی نے پھونک رکھا ہےکہ اس سال عام انتخابات نہیں ہوں گے اور وہ امپائر کی انگلی کی طرح اب کسی ’’معجزے‘‘ کے انتظار میں ہیں جبکہ بابا کی نئی ’’حرکت‘‘ نے پارٹی کی ساکھ پر گویا آخری مکا مار دیا ہے۔ خان بابا66 سال کی عمر میں 20 سالہ سیاسی کیرئیر کی فیصلہ کن اننگز یعنی وزارت عظمیٰ پیری کے زور پر حاصل کرنے کے لئے اپنا آخری حربہ استعمال کرچکے ہیں گویا سب کچھ تبدیل کرنے کے بعد اب کسی مزید تبدیلی کی گنجائش نظر نہیں آرہی۔ ادھر بی بی مریم موجودہ نظام میں تبدیلی اور جمہوری نظام کو چیلنج کرنے والی طاقتوروں کے مقابل آکر اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کرچکی ہیں، ان کی منزل ابھی وزارت عظمی نہ بھی ہو تو آنے والوں وقتوں میں اقتدار کی پرخطر راہ انہیں عظمیٰ سے ملوانے کا سبب ضرور بن سکتی ہے۔ تبدیلی کے خواہش مند عوام موجودہ حالات میں کچھ مایوس ضرور ہیں لیکن ناامید نہیں، انہیں امید نظر آرہی ہےکہ موجودہ سیاسی قیادت کو ووٹ کے تقدس کا حقیقی معنوں میں ادراک گویا ان کے مستقبل کے روشن راستوں کو ہموار کرنے کی امید ضرور پیدا کردے گا،2018 کے انتخابات کو نہ روکا گیا تو ایک فیصلہ ہوچکا ہے کہ اب کسی معجزے نہیں بلکہ صرف ووٹ کی بنیاد پر حق حکمرانی عوام کو دینا پڑےگا اور پارلیمنٹ کی توقیر بلاشبہ یقینی بنانا پڑے گی، عوام بابا اور بی بی کے کرداروں میں سے کسی ایک کی بات پر مہرثبت ضرور کردیں گے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ ان کے ووٹ پر یقین نہ رکھنے والے کسی غیر ذمہ دار کردار کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔ قارئین کرام زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کا نعرہ لگانے والے فنکار اب اپنے کرداروں کو چھپانے میں لگے ہیں تاہم نہ صرف ناکام نظر آتے ہیں بلکہ عوام کےسامنے اپنی قدرومنزلت برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں، حقیقت عیاں ہے کہ آئندہ کی حکمرانی کےتاج کا فیصلہ پنجاب نے ہی کرنا ہے جس کے لئے ترقی اور مزاحمت کےالگ الگ بیانیےگٹھ جوڑ کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ کچھ ’’بڑے‘‘ تمام کوششوں کے باوجود اب بھی اچھے موقع کی تلاش میں ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ لودھراں کے انتخاب کا جشن منانے والوں کو فضائی نہیں زمینی راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ ابھی ہی ایک محو پرواز ’’امیرترین‘‘ کو عوام نے ووٹ کی طاقت سےہیلی کاپٹر سے گھسیٹ کر زمین پر دے مارا ہے۔ یہ بھی بظاہر لگ رہا ہے کہ تمام سیاسی اداکار اسکرپٹ کے مطابق اپنی پرفارمنس دینے میں مکمل ناکام ہوچکےہیں اب سینیٹ اورعام انتخابات کے انعقاد کو روکنے کےتمام مبینہ ’’انتظامات‘‘ بھی دھرے نظر آرہے ہیں، پھر بھی خدشات کی رات کے صبح ہونےمیں ابھی کچھ وقت ہے،انتظار فرمایئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں