آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی میں برین ڈرین (ذہین اور تعلیم یافتہ افراد) اور کیپٹل ڈرین یعنی سرمائے کی بڑے پیمانے پر بیرون ملک منتقلی ہوئی جس کی بڑی وجہ پاکستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، امن و امان کی خراب صورتحال، بھتہ کلچر اور اغوا برائے تاوان جیسے عوامل تھے جس کے باعث ملک کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین طبقہ بڑی تعداد میں بیرون ملک ہجرت کرگیا جن کی صلاحیتوں سے آج دوسرے ممالک فائدہ اٹھارہے ہیں جبکہ اس عرصے میں پاکستانی سرمائے کی منتقلی بھی بڑی تیزی سے ہوئی۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے علاوہ حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل، ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں نجی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا، فارن کرنسی اکائونٹس منجمد کرنا اور انرجی بحران وہ حقیقی عوامل تھے جو پاکستانی سرمایہ بیرون ملک منتقلی کا سبب بنے جس کے نتیجے میں پاکستان اربوں ڈالر کی قومی دولت سے محروم ہوا اور ایک اندازے کے مطابق صرف دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں پاکستانیوں نے گزشتہ عشرے میں 6ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے اور وہ پاکستانی بزنس مین جو ملک بالخصوص کراچی میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوئے، اب یہ سرمایہ وطن واپس لانے کیلئے

تیار ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ یقین دہانی بھی چاہتے ہیں کہ سرمایہ واپس لانے کی صورت میں ایف بی آر انہیں تنگ نہ کرے۔
گزشتہ سال میں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) کے نائب صدر کی حیثیت سے بزنس مینوں کا وہ سرمایہ جو درج بالا وجوہات کی بناپر بیرون ملک منتقل ہوگیا تھا، کی وطن واپسی کے مسئلے پر کئی کالمز تحریر کئے اور حکومت و اپوزیشن کو اس حوالے سے ایمنسٹی اسکیم کیلئے مختلف تجاویز بھی دیں جس کا مثبت ردعمل سامنے آیا جبکہ بیرونی اثاثے ظاہر کرنے کی اس اسکیم کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی۔ بالآخر بزنس مینوں، فیڈریشن اور چیمبرز کے دیرینہ مطالبے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ دنوں اعلان کیا کہ حکومت بہت جلد ایک جنرل ایمنسٹی اسکیم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حکومتی اعلان کا بزنس کمیونٹی کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا اور اُمید کی جارہی تھی کہ حکومت کسی بھی وقت ایمنسٹی اسکیم کا اعلان اور آئین میں ترمیم کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کو خطیر زرمبادلہ حاصل ہوگا لیکن اچانک گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس اور املاک کے بارے میں از خود نوٹس لے کر کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری فنانس اور گورنر اسٹیٹ بینک سے دریافت کیا کہ پاکستان سے کتنا سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوا اور کتنے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس اور املاک ہیں؟ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ لگتا ہے لوگوں کی اکثریت غیر قانونی طریقے سے دولت باہر لے کر گئی، سپریم کورٹ کو بتایا جائے کہ یہ دولت کس طرح وطن واپس لائی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں چیف جسٹس نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس سے رقوم کی واپسی کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی اور ہدایت کی کہ کمیٹی ایسا طریقہ کار وضع کرے کہ بیرون ملک سے رقوم واپس لائی جاسکے۔
سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد اس طرح کا تاثر ابھرکر سامنے آیا کہ عدالت عظمیٰ لوگوں کو ایمنسٹی دینے کے بجائے ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے ذریعے سخت رویہ اختیار کرکے بیرون ملک دولت واپس لانا چاہتی ہے۔ بزنس مینوں کے مطالبے پر حکومت جو ایمنسٹی اسکیم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی تھی، وہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھاچکے ہیں جس میں سرفہرست انڈونیشیا ہے جہاں اس اسکیم کے نتیجے میں حکومت کو 100 ارب ڈالر سے زائد حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ روس، بھارت، جنوبی افریقہ، اسپین اور کچھ یورپی ممالک میں بھی اس طرح کی اسکیمیں انتہائی کامیاب رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں کے تقریباً 150ارب ڈالر کے اثاثے اور رقوم بیرون ملک موجود ہیں لیکن سخت عالمی بینکنگ قوانین اور ممالک کے مابین معلومات کے تبادلے کے معاہدوں کے بعد اب پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے اپنا سرمایہ بیرون ملک رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے، اس لئے اب وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث جو سرمایہ وہ بیرون ملک لے گئے تھے، وطن واپس لائیں۔
آج جب ملکی ایکسپورٹس تنزلی کا شکار ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا میکنزم تشکیل دیا جائے جس سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوسکے اور پاکستانیوں کا بیرون ملک سرمایہ وطن واپس آسکے۔ جنرل ایمنسٹی اسکیم سے پاکستان کو 20 سے 30 ارب ڈالر بیرونی زرمبادلہ اور کیپٹل پر 300ملین ڈالر ریونیو کی صورت میں حاصل ہوسکتے ہیں، اس طرح یہ اربوں ڈالر ہمارے سسٹم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوگی۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک منتقل کئے گئے تمام اثاثے کالا دھن نہیں بلکہ بیرون ملک اثاثوں کی وطن واپسی پر درج بالا حقائق بھی سامنے رکھے جائیں جو بیرون ملک رقوم کی منتقلی کا سبب بنے۔ اگر سپریم کورٹ بیرون ملک اثاثے واپس لانے کے اختیارات ایف آئی اے یا ایف بی آر کو دیتی ہے تو بزنس مینوں کو ہراساں کرنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہونے کا احتمال رد نہیں کیا جا سکتااور اس کے کوئی مثبت نتائج بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سپریم کورٹ کی تشکیل دی گئی کمیٹی میں بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے جو بیرون ملک اثاثے وطن واپس لانے کے حوالے سے فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ملکی ایکسپورٹس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے پیش نظر پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثے وطن واپس لانے کیلئے ایمنسٹی اسکیم وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کا جلد از جلد اعلان ملکی مفاد میں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں