آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی اور امریکہ کے درمیان15 جولائی2016 سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں اور ان تعلقات میں فی الحال بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ گزشتہ چند ایک کالموں میں ان دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے اور آج کے اس کالم میں ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا تذکرہ کروں گا۔ اگرچہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن کے دورہ ترکی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے بارے میں مطابقت پائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود صدر ایردوان نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ اس پر اعتبار کرنے کے لئے امریکہ کو ’’ڈومور‘‘ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ پر اعتبار کرنے کا یہ آخری موقع ہے اور اس کے بعد امریکہ کو کوئی اور موقع نہیں دیں گے بلکہ شام میں ہم خود ہی فوجی آپریشن جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آج تک ہم سے وعدے ہی کرتا چلا آیا ہے اور اس نے عملی طور پر کبھی کچھ نہیں کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اپنے پیشرو اوباما کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ترکی کے ساتھ فریب دہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اگر امریکی دستوں نے شام میں ترک فوجی آپریشن ’’شاخِ زیتون‘‘ کو روکنے کی کوئی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

صدر ایردوان کے اس سخت بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے فوری طور پر اپنے وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن کو ترکی کے دورے پر روانہ کیا۔ ٹِلرسن نے تعلقات کو بہتر بنانے اور شام میں دہشت گردوں کی کارروائیاں روکنے کے لئے ایک نیا میکانزم قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہےجبکہ انہوں نے ترکی روانگی سے قبل بیان دیتے ہوئے شام میں برسرپیکار ان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی جی‘‘ کو بھاری اسلحہ فراہم نہ کرنے سے آگاہ کیا تھا جبکہ اسی دوران امریکہ کے وزیر دفاع میٹس نے ترکی کے وزیر دفاع نورالدین جانیکلی سے ملاقات میں دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ اور ’’وائی پی جی‘‘ کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنے اور ایک دوسرے سے لڑانے کی تجویز پیش کی تھی جس سے امریکہ کے ان دونوں تنظیموں کے ساتھ گہرے روابط ہونے اور پشت پناہی کرنے کی بھی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ ٹلرسن کی صدر ایردوان اور وزیر خارجہ مولود چائوش اولو سے ہونے والی ملاقات میں ترکی کے خدشات سے مکمل طور پر آگاہ کردیا گیا۔ ٹِلرسن کو بتادیا گیا کہ ’’پی کے کے‘‘، ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی جی‘‘ یہ تینوں دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور پی کے کےکی شام میں موجود ایکسٹینشنز کے طور پر کام کررہی ہیں۔ امریکہ پہلے ہی پی کے کے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرچکا ہے جبکہ اس کی دونوں ایکسٹینشنز کو بھی اسی فہرست میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں وائی پی جی اور پی وائی ڈی کو بڑے پیمانے پر بھاری اسلحہ فراہم کیا۔ امریکہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کامیاب ہونے کا اعلان کرنے کے باوجود بھاری اسلحہ تاحال مذکورہ تنظیموںکو فراہم کررہا ہے جو اس اسلحے کو اپنی ماسٹر تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے حوالے کررہی ہیں حالانکہ ترکی، نیٹو کا رکن اور امریکہ کا اتحادی ملک ہے جس کے خلاف یہ تنظیمیں اپنی دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے تینوں تنظیموں سے اسلحہ واپس لیتے ہوئے ان کا قلع قمع کیا جائے، صرف اتحادی ممالک کے ساتھ مل کرہی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھا جائے کیونکہ ان دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے ہاتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ امریکہ ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی جی‘‘ کو دھکیلتے ہوئے دریائے فرات کے مشرقی دہانے تک جانے پر مجبور کرے۔ ترکی نے ان تمام موضوعات سے امریکی حکام کو آگاہ کرنے کے بعد دونوں ممالک نے ’’نیا میکانزم‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیا میکانزم قائم کرنے کے بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف اور خدشات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ امریکی حکام نے ترک حکام سےمذاکرات کے بعد بیان دیتے ہوئے ترکی کی ان تینوں تنظیموں کا نام لئے بغیر ’’تمام دہشت گرد تنظیموں‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لئے مشترکہ طور پر اقدامات اٹھانے کا ذکر کیا ہے۔ امریکہ اس سے قبل بھی ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ کےخلاف اقدامات اٹھانے کا اعلان کرچکا ہے لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے اس دہشت گرد تنظیم اور اس کے سرغنہ ’’فتح اللہ گولن‘‘ کے خلاف اقدامات اٹھانے سے گریز کررہا ہے۔ اس لئے ترکی کے صدر برملا کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ شام کی صورتِ حال کے بارے میں مذاکرات کرنا بلا شبہ مفید ہے لیکن ہمارے لئے ان مذاکرات سے زیادہ ان سے نتائج حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہماری پوری توجہ امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر ہوگی۔ شام میں امریکہ کس قسم کی پالیسی اختیار کرتا ہے اور ہم سے کیے گئے وعدوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے ۔ ہم مذاکرات کے ساتھ ساتھ شام میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ’’شاخِ زیتون‘‘ فوجی آپریشن جاری رکھیں گے۔ امریکہ کو اس وقت اپنے اتحادی ممالک کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے ہم اب امریکہ سے ایک بار پھر ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ امریکہ کو عملی طور پر اقدامات اٹھانے ہوں گے کیونکہ اس سے قبل سابق صدر باراک اوباما ہمیں فریب ہی دیتے رہے ہیں اور اب ہم دوبارہ سے امریکی فریب میں آنا نہیں چاہتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے شام میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس وقت تک جو غلطیاں سرزرد کی ہیں ان کا فوری طور پر ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے بعد ہی ہم امریکہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ ہم اپنے طور پر شام میں پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس وقت تک ہم نے شام کی سرزمین کے دو ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر کنٹرول قائم کرلیا ہے لیکن ہم یہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرتے ہوئے اس کے اصل مالکوں کے حوالے کردیں گے۔ صدر ایردوان اور ترک مسلح افواج کے سربراہ کی دورہ شام کی توقع کی جا رہی ہے۔ ترکی کے شاخِ زیتون فوجی آپریشن کے دوران اب تک نو ترک شہری اور 32 ترک فوجی شہید ہوچکے ہیں جبکہ اس فوجی آپریشن کے دوران اب تک 1614 دہشت گردوں کا صفایا کیا جاچکا ہے۔ ترکی دراصل شام کیساتھ ملنے والے اس سرحدی علاقے میں ان تمام پناہ گزینوں کو بسانا چاہتا ہے جنہوں نےشام کی خانہ جنگی کے دوران ترکی ہجرت کی اور اب ان کی تعداد تین ملین سے تجاوز کرگئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں