آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیل جبران کہے ’’ہم سب پاگل پیدا ہوتے ہیں لیکن کچھ آخر تک پاگل ہی رہتے ہیں اور ان میں اکثریت سیانوں کی‘‘، سیانوں کے امام ارسطو کا خیال ’’دنیا کو جتنا نقصان سیانوں نے پہنچایا، اتنا بے وقوف چاہ کر بھی نہ پہنچا سکیں‘‘، یہ باتیں اس لئے بھی دل کو لگیں کہ زندگی میں جو سیانا بھی ملا، ایسے ملا کہ پھر ملنے کی چاہ نہ رہی، ذرا ملاحظہ کریں میاں صاحب کی نااہلی پر اک سیانے کا تبصرہ کہ ’’چونکہ ہمارے ہاں ہمیشہ بیوی کو ’’اہلیہ‘‘ لکھا گیا اور خاوند چاہے کتنا ہی ’’اہل‘‘ کیوں نہ ہو، اسے کبھی ’’اہل‘‘ نہ سمجھا گیا، یہی وجہ کہ آج سب میاں کو ’’نااہل‘‘ کہہ رہے، پچھلے ہفتے ایک اور سیانے سے ملاقات ہوئی، باتوں باتوں میں کہنے لگا ’’اپنے عوامی شعور کا حال یہ ہو چکا کہ ’’ایک نااہل نے جب تیسرے دورِ اقتدار کے چوتھے سال کہا ’’اگر موقع ملا تو سب کو روزگار دوں گا تو عوام خوشی سے ناچنے لگے‘‘ ابھی پچھلی گرمیوں میں اپنے ایک سیانے دوست کے ہاں جانا ہوا، تھوڑی دیر میں ہی پسینو پسینہ ہونے پر جب کہا ’’پنکھا کیوں نہیں چل رہا‘‘ تو جواب آیا ’’کھڑکیاں کھلی ہوئیں، ہوا چلے گی تو پنکھا بھی چل پڑے گا‘‘، بند ٹی وی دیکھ کر پوچھا ’’یہ چلتا ہے‘‘ جواب ملا ’’نہیں یہ اپنی جگہ پر ہی پڑا رہتا ہے‘‘، اسے چھوڑیں چند دن پہلے ایک

نامی گرامی سیانے رہنما کا انٹرویو سننے کا موقع ملا، ان سے سوال ہوا ’’پچھلے سالوں میں آپ نے ملک میں کیا تعمیری کام کیا‘‘ یہ بولے ’’پہلی بات تو یہ کہ آپ کو میرے پچھلے ’’سالوں‘‘ کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے تھا گو کہ میری پہلی بیوی سے علیحدگی ہو چکی لیکن میرے لئے ابھی بھی وہ اور اس کا خاندان قابلِ احترام، جہاں تک تعمیری کام کا تعلق ہے تو میں اپنی کوٹھی تعمیر کروا رہا ہوں‘‘ انٹرویو کرنے والے نے جھنجھلا کر کہا ’’میں ملکی تعمیر وترقی کی بات کر رہا ہوں‘‘ جواب ملا ’’میری کوٹھی اپنے ملک میں ہی ہے، انڈیا میں نہیں‘‘ اس سیانے کو بھی چھوڑیں، سیانوں کے سیانے جون ایلیا کا سیانا پن ملاحظہ ہو ’’شادی‘‘ کر کے فرما رہے:
خیالِ خانہ بربادی نہ کرنا
کبھی اے جون! تم شادی نہ کرنا
دوستو! سیانوں کی ایک خوبی یہ بھی کہ سیدھی سادی بات کو یوں مشکل بنا دیں کہ خدا کی پناہ، جیسے عام آدمی کہے مجھے ٹوائلٹ جانا ہے، پڑھا لکھا بولے، واش روم جانا چاہتا ہوں، یہی کچھ سیانا یوں کہے:
مچلتی ہیں پیٹ میں کچھ لہریں ایسی
لگتا ہے انہیں کسی کنارے کی تلاش ہے
یہاں سخت سردی میں بلی نہلاتا وہ سیانا بھی یاد آئے جسے جاننے والے نے بہت سمجھایا کہ ’’سخت ٹھنڈ، اوپر سے ٹھنڈا پانی، نہ نہلاؤ یہ مر جائے گی‘‘ مگر اس نے ایک نہ سنی، دوچار گھنٹوں بعد جب اسی جاننے والے نے دیکھا کہ بلی مری پڑی اور وہ سیانا پاس اداس بیٹھا ہوا تو اس نے کہا ’’تمہیں کہا نہیں تھا، مت نہلاؤ، یہ مرجائے گی‘‘ سیانا بھرائی آواز میں بولا ’’نہلانے سے تھوڑی مری ہے، وہ تو نہلا کر جب نچوڑا یہ تب مری‘‘، آگے سنیے، ایک سیانے سے ایک دن بیوی نے بڑے لاڈ بھرے انداز میں پوچھ لیا ’’جانو یہ Completeاور Finishمیں کیا فرق ہے‘‘ بولے ’’میں تمہیں ملا تمہاری زندگی Complete،تم مجھے ملی میرا سب کچھ Finish‘‘ آخری اطلاعات تک یہ سیانا گھر سے فرار ہے۔
دوستو! اپنا وہ ازلی و ابدی سیانا دوست جو بچپن سے ہی ایسا تیز کہ ایک بار شاپنگ کرتے ہوئے صرف اس لئے دھر لیا گیا کہ اسٹور کھلنے سے پہلے ہی شاپنگ کر رہا تھا، جس کی صحت ایسی کہ کمزور نظر والے دیکھ نہ پائیں اور کمزور دل والے دیکھ نہ سکیں، قد اتنا کہ کھڑا ہو تو ٹانگیں بمشکل زمین تک پہنچیں، منہ اتنا لمبا کہ اپنے کان میں خود سرگوشی کر لے، شکل وصورت ایسی کہ ریل، ویگن ہو یا بس، ٹکٹ چیکر سب سے پہلے اسی کا ٹکٹ چیک کرے، جو عمر کے اس حصے میں کہ جہاں بندے کو اپنی بیوی بھی اچھی لگنے لگ جائے، جس کی نظر ایسی کہ جس پر بھی نظر ڈالی، نظر لگا دی، جو باتوں میں جابجا اقبال کے شعر سنائے اور اس کے منہ سے علامہ کے شعر سن کر سمجھ آئے کہ علامہ صاحب آج کل تصویروں میں پریشان حال کیوں، جس کا کہنا ’’عقلمند وہ جو دوستوں سے ڈرے اور بے وقوف وہ جس سے اس کے دوست ڈریں، جو ہر ایک کو یہ کہے ’’میری خوبیاں اور خامیاں مجھے ہی بتایا کریں کیونکہ میری کوئی برانچ نہیں‘‘ اور جس سے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پولیس افسر نے جب پوچھا کہ فلاں ہال کس طرف ہے تو اس نے کچھ اس طرح رستہ سمجھایا ’’سامنے چلتے جائیں، 50گز کے بعد بائیں طرف مڑ جائیں، آگے ایک دروازے پر لکھا ہو گا ’’یہاں شرفا کا داخلہ منع ہے‘‘ آپ اس کی پروا نہ کریں اور سیدھے اندر چلے جائیں، اپنے اسی سیانے دوست سے دو دن پہلے پوچھا کہ ’’عمران خان کی تیسری شادی کے بارے میں کیا خیال ہے‘‘ جواب آیا ’’اس عمر میں شادی کرنا ایسے ہی جیسے اگلے انتخابات میں پی پی کے ٹکٹ پر پنجاب سے الیکشن لڑنا‘‘ لیکن چونکہ کپتان کی زندگی میں حسنِ ظن کی جگہ بھی حسنِ زن ہی، لہٰذا جب بھی موقع ملے گا، یہی کریں گے، اگلا سوال کیا ’’اب کیا ہوگا‘‘ بولے ’’اب کچھ نہیں ہوسکتا، اب کچھ بھی ہو سکتا ہے، اور تو اور اب تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خان صاحب یہ ٹویٹ کردیں :
رشوت دے کر جان چھوٹ جاتی
کاش بیوی اپنی پولیس ہوتی
دوستو! بابائے ظرافت ضمیر جعفری نے ایک بار ڈاکٹر یونس بٹ کے بارے میں کہا تھا ’’بٹ صاحب ہیں تو کنوارے مگر فقرہ بڑا حاملہ لکھتے ہیں‘‘ لیکن یہ تب کی بات جب ڈاکٹر یونس بٹ کنوارے تھے، پھر اُنہوں نے شادی کر لی اور کچھ عرصہ بعد ان کی تحریریں پڑھ کر ہمیں بھی یقین ہوگیا کہ واقعی اُنہوں نے شادی کر لی،آج ڈاکٹر یونس بٹ اس لئے یاد آئے کہ انہوں نے ایک بار عمران خان کے بارے میں کہا ’’وہ لڑکیاں جو کبھی عمران خان سے شادی کے خواب دیکھا کرتی تھیں، وہ اب بھی شادی کے خواب دیکھتی ہیں مگر اپنے پوتے پوتیوں کی، لیکن کپتان ابھی تک چھکے مار رہے، بلکہ چھکے چھڑا رہے۔ کہا جائے مرد کی عمر وہ جو وہ خود محسوس کرے جبکہ عورت کی وہ جو دوسرے محسوس کریں اور یہ بھی سچ کہ انگریزی میں شادی کو Marri-Ageکہا جائے، اب یقیناً انگریزوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی marriکیساتھ age لگائی ہوگئی لیکن یوں لگے کہ اپنے خان صاحب ابھی marriتک ہی پہنچ پائے، ان کا دھیان ابھی تک age کی طرف نہیں گیا، مگر وہ بھی کیا کریں ایک عمران اوپر سے ساتھ خان لگا ہوا، فیصلہ کرنے سے بولنے تک پتا ہی نہ چلے وہ کب عمران سے خان ہو جائیں اور کب خان سے عمران، یہ علیحدہ بات کہ چپ ہوں تو خان نہیں لگتے، بول پڑیں تو عمران نہیں لگتے، خیر بات ہو رہی تھی ان کی شادی کی، کپتان کے ایک بدخواہ نے ابھی کل ہی بتایا ’’کپتان نے جتنی طلاقیں دیں، اتنی شادیاں نہیں کیں‘‘ تحریک انصاف کے ایک سیانے نے تو حدہی کر دی، فرمایا ’’جس دن خان صاحب کی دوسری شادی ناکام ہوئی اُنہوں نے اسی روز تہیہ کر لیا تھا کہ اب دوسری شادی نہیں کروں گا‘‘ یہی وجہ کہ اب اُنہوں نے دوسری نہیں تیسری شادی کی۔
صاحبو! عمران خان کے حوالے سے چند چیزیں تو ان کے مخالفین بھی مانیں، وہ دکھاوے کے بالکل قائل نہیں، جیسے وہ پاکستان کی تیسری بڑی جماعت کے سربراہ، مگر مجال ہے کہ اپنی کسی بات سے اس کا پتا چلنے دیں، انہیں پاکستان سے اتنی محبت کہ اگر برطانیہ میں ہوتے تو اب تک برطانیہ پاکستان میں ہوتا، اور مستقل مزاج ایسے کہ زمانہ کہاں سے کہاں جا پہنچا مگر ان کا محور ومرکز ’’شریف خاندان‘‘ ہی بلکہ ان دنوں تو نواز شریف کے ذکر پر کپتان کی حالت وہی ہو جائے جو سپریم کورٹ کے ذکر پر نوازشریف کی، دوستو! کپتان کی شادی کی تصویریں دیکھ کر 45سال کی عمر میں بھی پہلی شادی کو ترستے میر ے دوست (ن ) نے جب کہا ’’میں اگلے جنم میں عمران خان بنوں گا‘‘ تو مجھے وہ اداکارہ یاد آگئی جس نے برنارڈشا سے کہا کہ ’’اگلے جنم میں، میں برنارڈشا بنوں گی‘‘ تو برنارڈشا بولے ’’اگر ایسا ہے تو میری طرف سے اگلے جنم میں برنارڈشا بننے کی پیشگی معذرت قبول کریں‘‘، لیکن جہاں تک بات ہے عمران خان بننے کی، تو ہمارا سیانا پن کہے کہ اس جنم میں کوئی اس لئے عمران خان نہیں بن سکتا کہ جو کچھ کپتان کر چکا یا کر رہا وہ عمران خان کے علاوہ عمران خان بھی نہ کر سکے اور اگلے جنم میں کوئی اور اس لئے عمران خان نہیں بن سکتا کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے عمران خان بننا ناممکن۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں