آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

21 فروری پوری دنیا میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی سے مادری زبانوں کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ مادری زبان کا مطلب ماں کی زبان نہیں بلکہ دھرتی کی زبان ہے۔ ہمارے بہت سارے صوفیاکرام، دانشور، مصنف اور فنکار دنیا کے دیگر حصوں سے پاکستان کے جس علاقے میں رہائش پذیر ہوئے انہوں نے وہاں کی زبان اپنائی اور اس میں اظہار کیا کیوں کہ جب تک آپ کسی علاقے کی زبان سے رابطہ استوار نہیں کرتے آپ وہاں کے مسائل، صلاحیتوں اور دُکھ سُکھ سے متعارف نہیں ہوتے۔ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان کی فکر اور اس علاقے کی مٹی میں ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے۔ آپ ذرا سا غور کریں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ پہاڑی، میدانی، صحرائی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا خاص مزاج ہوتا ہے جو وہ مٹی سے اخذ کرتے ہیں۔ مٹی کا اثر انسان کے وجود میں رچا بسا ہوتا ہے اسلئے لوگ جس زمین پر رہتے ہیں اس سے انکا ایک روحانی اور وجدانی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک دوست اور ہم نفس کی طرح ان کے ہمراہ رہتی ہے۔ ہمارا تمام تر کلچر، وسیب اور ادب مٹی سے جڑت رکھتا ہے۔ اگر وہ مٹی سے دور ہو گا تو اس کی اصلیت متاثر ہو گی۔ کسی خاص علاقے کا رہنے والا ادیب بدیس کی بات کرتے ہوئے بھی اپنی مٹی کے دکھ سکھ لفظوں کی لڑی میں پرو لیتا ہے اور معنی سے وہاں کے پھولوں

کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ دنیا تنوع سے بھری ہوئی ہے اور یہی اسکی خوبصورتی ہے۔ ہر علاقے میں خاص قسم کے درخت اور پھل پھول اُگتے ہیں جو اس فضا کے موافق ہونے کیساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں میں قوتِ مدافعت پیدا کرتے ہیں اور انکے مزاج کے عکاس ہوتے ہیں۔ زمین اور کلچر سے دوری کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ ایک پودا جو زمین میں اُگتا ہے اور ایک جو گملے میں لگایا جاتا ہے دونوں کی نشوونما میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ گملے کا پودا زمین کے مزاج اور تاثیر سے محروم رہتا ہے۔ یہی حال ہماری قوم کا ہے جسکی وجہ سے ہمارے اندر وہ حب الوطنی اور محبت نہیں پیدا ہو سکی جسکی ضرورت تھی اور ہم نے اس دیس کیلئے اُتنی محنت نہیں کی جو لازم تھی۔ ہمارے دریا خشک ہو گئے ہم خاموش رہے، ہماری اقدار مجروح ہوئیں ہم نے نظر انداز کیا کیوں کہ ہم فضا میں معلق تھے، ہمارے قدم زمین پر نہیں ہیں۔
پنجاب میں اِخلاقی اور تہذیبی آگہی کے لئے تعلیم کی حیثیت مقدم رہی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے قیام سے قبل بھی پنجاب میں ایسے مدارس موجود تھے جہاں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ فلسفہ، منطق، فلکیات، علم نجوم جیسے علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ پنجاب کے کلاسیکی صوفیا نے انہی اعلیٰ مدارس سے فیض یاب ہو کر آفاقیت اور انسانیت کا پر چار کیا اور پنجاب کو ثقافتی قدروں سے مالا مال کیا۔ 1849 میں برطانوی سامراج پنجاب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا تو اُس نے پنجاب کے عوام کو غلام بنانے کے لئے تعلیمی نظام میں ایسی مکروہ تبدیلیاں کیں جنھوں نے پنجاب کی شناخت ہی بدل کر رکھ دی۔ برصغیر میں انگریزوں نے جس علاقے پر قبضہ کیا وہاں زبان اور تعلیم کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی رائج کی جس کے تحت انگریزی کے ساتھ ساتھ مقامی بولی بھی شامل ِ تعلیم کی گئی تھی۔ انھوں نے بنگال میں انگریزی کے ساتھ بنگالی، مہاراشٹرا میں مراٹھی، یوپی میں ہندی، اردو اور سندھ میں سندھی کی حوصلہ افزائی کی مگر پنجاب میں اس کے برعکس عمل کر کے انگریزی کے ساتھ نہ صرف غیر مقامی زبان کو لاگو کیا بلکہ اس کی ترویج کے لئے ادارے قائم کئے۔ طاقت اور پیسے کے زور پر پنجابی قاعدہ واپس لیا گیا اور پنجابی بولنے والوں کو ان پڑھ اور جاہل کہہ کر نئی نسل کو اس سے متنفر کرنے کی کوشش کی گئی۔ آزادی کے بعد پنجاب میں مادری زبان کا راستہ روکنے والوں نے یہ عجیب مؤقف اختیار کیا کہ کیوں کہ پنجاب میں اُردو میں بے شمار عالمی سطح کا لٹریچر تخلیق ہو چکا ہے اس لئے اگر مادری زبان کو اہمیت دی گئی تو اس سے اُردو زبان متاثر ہو گی۔ حالانکہ آج کل عالم یہ ہے کہ ہماری نئی نسل جن اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے وہاں ان کے لئے اُردو کے چند لفظ بولنا بھی دشوار ہے۔ بولنے کی حد تک تو پھر بھی شاید وہ بات کر لیتے ہیں مگر پڑھنے اور لکھنے میں بالکل کورے ہیں۔ اگر مادری زبان کو لازمی مضمون بنایا جائے تو یہ اُردو کی مخالفت نہیں ہو گی بلکہ اُردو کو رابطے کی زبان بنانے اور زندہ رکھنے میں معاون ہو گی کیوں کہ اُردو اور پنجابی میں بہت زیادہ مماثلت ہے۔ دونوں زبانوں میں الفاظ کی بڑی تعداد مشترک ہے۔ تمام مادری زبانوں کو ان کا حق ملنا چاہئے اور یہ حق اقوامِ متحدہ نے بھی دیا ہے اور فطرت نے بھی کیوں کہ مادری زبان فطرت کی زبان ہے جو پیدا ہوتے ہی انسان سےجُڑ جاتی ہے۔ مادری زبانوں کی ترویج کے ذریعے قومی سطح پر یک جہتی اور ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ہم بہت ساری زبانیں سیکھتے ہیں۔
اس وقت سندھ، کے پی اور بلوچستان میں مادری زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے صرف پنجاب واحد صوبہ ہے جو اب تک اپنی زبان سے محروم ہے۔ خادمِ پنجاب نے ہر شعبۂ حیات میں بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ایک دنیا کو اپنا گرویدہ کر رکھا ہے۔ پنجاب کی تعمیر و ترقی کو ذہن میں لائیں تو شیر شاہ سوری کے بعد وہ واحد حکمراں ہیں جنہوں نے اتنی زیادہ تعمیرات کو ممکن بنایا۔ اگر وہ پنجاب کے اسکولوں میں مادری زبان کو لازمی قرار دے دیں تو وہ ان کا تاریخی کارنامہ ہو گا اور تاریخ ہمیشہ ان کو خراجِ تحسین پیش کرے گی۔ خادمِ پنجاب نے مادری زبان کے لئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر رکھی ہے جس کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان ہیں۔ اس کمیٹی نے کافی کام نمٹا لیا ہے۔ قانون سازی تقریباً مکمل ہے صرف اعلان ہونا باقی ہے۔ خادمِ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ اس بار 21 فروری کو پنجاب کو اس کا یہ حق دینے کا اعلان کریں تا کہ مادری زبان کو اپنا کر ہم ملک کی مختلف زبانوں کے صوفیاکی دانش سے بہرہ ور ہو کر باشعور قوم بن سکیں۔
پنجاب کے ساتھ جو زیادتی روا رکھی گئی اس کے لئے جی ڈبلیو لائیٹنر کی کتاب ’’پنجاب میں دیسی تعلیم‘‘ ایک ایسی دستاویز ہے جو پنجاب کو محکوم بنانے والوں کی حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے۔ وہ واحد غیر ملکی مصنف ہے جس نے انگریز کی پنجابی زبان اور پنجابیوں کی تنزلی کی پالیسی کا حال مفصل، مدلل اور منطقی انداز میں ایک رپورٹ میں پیش کیا۔ اُس نے یہ رپورٹ اپنی ہی حکومت کے کہنے پر 1882ء میں تیار کی تھی۔ تہذیبی، ثقافتی اور علمی اعتبار سے نہایت قابل قدر ہونے کے باوجود یہ کتاب تقریباً ڈیڑھ صدی تک گمنامی کی کوٹھڑی میں پڑی رہی۔ پِلاک کا اعزاز ہے کہ اس نے اس اہم کتاب کا اردو اور پنجابی ترجمہ کروا کر موجودہ دور کے طلباء، علماء، محققین اور پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ عوام کی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ یقینا اس کتاب کے مطالعے کے بعد یہاں کے لوگوں کو دوبارہ اپنی ثقافتی قدروں اور زبان سے جڑت کی طرف رغبت ہو گی اور ہماری نئی نسل اپنی جڑوں یعنی اپنے ثقافتی ورثے کو اپنا اعزاز بنا کر پنجاب کا شِملہ بلند کرے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں