آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ان دنوں ایک عجیب ذہنی اور سیاسی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمان اور عدلیہ کے ایک دوسرے کے مدِمقابل آ جانے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے جس سے معاشرہ تقسیم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک مہذب اور جمہوری ریاست میں ایک آزاد، غیر جانبدار اور مستحکم عدلیہ کلیدی حیثیت رکھتی ہے جو آئین اور بنیادی حقوق کی محافظ اور شہریوں کی اُمیدوں کی مرکز ہے۔ تاریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہے کہ جب دوسری جنگ ِعظیم چھڑ جانے کے بعد جرمنی نے لندن پر تباہ کن بمباری شروع کی، تو وزیراعظم چرچل نے اپنی کابینہ سے پوچھا کیا ہماری عدالتیں عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیں۔ جواب ملا عدالتیں ٹھیک طور پر کام کر رہیں اور بروقت انصاف مل رہا ہے۔ تب چرچل نے پورے اعتماد سے کہا تھا دشمن ہمیں شکست نہیں دے سکے گا اور ہمارے عوام اپنے وطن کا پوری دلجمعی سے دفاع کریں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ انگلستان نے ہتھیار نہیں ڈالے جبکہ جرمنی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا۔
ریاست پاکستان کو اپنی بقا اور استحکام کے لیے ایک ایسی ہی مستحکم عدلیہ درکار ہے۔ ایک ایسی عدلیہ جو شہریوں کے اندر یہ اعتماد پیدا کر سکے کہ اُن کے ساتھ انصاف ہو گا، اُن کے حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور تنازعات جلد نمٹائے جائیں گے۔ وہ جس قدر آزاد، غیر جانبدار اور مضبوط ہو گی، اسی قدر عوام کو اپنے

مستقبل پر یقین اور اعتماد رہے گا۔ طاقتور نظامِ عدل کی موجودگی میں انتظامیہ اپنی حدود میں رہتی ہے اور پارلیمان بھی آئین کے اندر قانون سازی کرتی ہے۔ دستور کی رُو سے تمام ادارے عدالت ِ عظمیٰ کے احکام بجا لانے اور اسے اعانت فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اس میں تحریر اور تقریر کی آزادی ان شرائط سے مشروط ہے کہ فوج اور عدلیہ کو نازیبا تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکے گا۔
ہمارا آئین تقسیم ِ اختیارت کے تصور پر قائم ہے جس میں مقننہ قانون سازی کرتی، منتظمہ حکومت کے معاملات چلاتی اور عدلیہ قانون کی تشریح کے علاوہ عدل کا ترازو سیدھا رکھتی ہے۔ اِسی طرح چیک اینڈ بیلنس کا ایک نظام قائم ہے جو اداروں کو ایک دوسرے کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے روکتا اور ایک توازن قائم رکھتا ہے۔ ادارے اگر اپنے اپنے دائرۂ کار تک محدود رہیں، تو ان کا احترام کیا جاتا ہے اور عوام اُن کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی سالمیت اور استحکام کے لیے دانش مندی اور اعلیٰ ظرفی سے کام لینا اور عوام کے دلوں میں ایک اچھا تاثر اُبھارنا ہے۔ گزشتہ ایک عشرہ بہت ساری چپقلشوں اور محاذ آرائیوں کے باوجود ایک اعتبار سے جمہوریت کے لیے اچھا رہا کہ قومی اسمبلی نے ایک بار اپنی آئینی مدت پوری کی اور پُرامن انتقالِ اقتدار عمل میں آیا۔ دوسری بار قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں فقط تین ماہ رہ گئے ہیں اور انتخابات وقت پر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان دونوں ادوار میں ایک بات مشترک رہی کہ عدالت ِعظمیٰ کے ہاتھوں وزیراعظم نااہل قرار پائے۔ پہلے پانچ سال میں جناب یوسف رضا گیلانی اور آج کے پانچ سال میں جناب نوازشریف۔ پیپلزپارٹی تو گہرا زخم سہہ گئی، مگر مسلم لیگ نون نے ایک حشر برپا کر رکھا ہے اور نااہلی کے خلاف رائے عامہ منظم کر رہی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر وزارتِ عظمیٰ کے منصب کو خیرباد کہہ دیا، مگر وہ اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ سے آئے۔ راستے میں ان کا عدیم المثال خیرمقدم ہوا۔ 28جولائی 2017ء سے اب تک مختلف شہروں اور صوبوں میں مسلم لیگ نون کے اتنے بڑے بڑے جلسے منعقد ہو رہے ہیں جو چشمِ فلک نے پہلے نہیں دیکھے۔ اس کے علاوہ ضمنی انتخابات میں جناب نوازشریف کی جماعت کو زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ لودھراں کا ضمنی الیکشن ایک معجزے سے کسی طور کم نہ تھا۔ جناب نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر کڑی تنقید کر رہے اور عوام کے اندر ایک نئی روح پھونک رہے ہیں کہ وہ آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ نون کو اتنی بھاری اکثریت میں ووٹ دیں جن کے ذریعے غلط فیصلے منسوخ کرائے جا سکیں اور نظامِ عدل بحال کیا جا سکے۔ باپ بیٹی کو زبردست عوامی پذیرائی مل رہی ہے اور سیاسی موڈ یکسر تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے کو زیادہ تر قومی حلقوں اور بین الاقوامی جریدوں نے ’کمزور‘ قرار دیا۔ اب تو عمران خاں جن کی رِٹ پٹیشن پر وزیراعظم نوازشریف نااہل قرار دیے گئے، انہوں نے بھی اسے ایک کمزور فیصلے سے تعبیر کیا۔ پھر عوام کے اندر اس بات پر بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے کہ عدالتی فیصلے اور متعدد ریمارکس میں سیاسی قائدین کیلئے گاڈ فادر، سسلین مافیا اور ڈاکو اور چور کے القاب استعمال کیے گئے۔ عام تاثر یہ ہے کہ عوامی اضطراب اور تشویش پر قابو پانے کے لیے مفادِ عامہ میں ازخود نوٹس کا دائرہ وسیع کر لیا اور شہریوں کو گندا اور زہرآلود پانی فراہم کرنے پر انتظامیہ کی سخت سرزنش کی، غذائی اشیاء اور ادویات کا معیار بھی جانچنا شروع کیا اور اسپتالوں کے دورے بھی کیےگئے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی تقرریوں پر بھی سوال اُٹھائے اور جناب عطاء الحق قاسمی اور جناب صدیق الفاروق کے بارے میں سخت فیصلے کیے اور سرکاری اقدامات کالعدم قرار دیے۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہمیں آئین نے عدالتی نظرثانی کے جو اختیارات دیئے ہیں، انہیں ہم پوری دیانت داری سے بھرپور انداز میں استعمال کریں گے کیونکہ آئین پارلیمان سے بھی سپریم ہے۔
اس طرزِ عمل پر سابق اور موجود وزیراعظم کی طرف سے شدید ردِعمل آیا اور انہوں نے برسر عام کہا کہ انتظامیہ اور وزیراعظم کا منصب مفلوج ہو گیا ہے اور ہمیں پارلیمان کے تحفظ کی خاطر قانون سازی کرنا ہو گی۔ قومی اسمبلی میں اس موضوع پر چند پُرجوش تقریریں ہوئیں، مگر کوئی قرارداد منظور ہوئی نہ کوئی بل پیش ہوا۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ سیاسی قائدین اور وزرائے کرام نے پارلیمان کو عزت دی نہ کوئی یادگار قانون سازی کی۔ صرف انتخابی ایکٹ 2017ء منظور کیا جسے سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ فیصلے کے بعد جناب نوازشریف مسلم لیگ نون کے صدر نہیں رہ سکیں گے اور بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔ پارلیمان اور عدالت ِعظمیٰ کے مدِمقابل آ جانے سے ریاست کو ضعف پہنچے گا اور ہمارے دشمنوں کو ہم پر غلبہ پانا آسان ہو جائے گا۔ فوجی کمان تبدیل ہونے سے سول ملٹری تعلقات میں بہتری آئی ہے کیونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک متوازن ذہن کے سپہ سالار ہیں۔ اس بصیرت اور عملیت پسندی کا ثبوت عدالتِ عظمیٰ اور پارلیمان کے ارباب بست و کشاد کو بھی دینا چاہئے۔ اس کے لیے باہمی احترام کو فروغ دینا اور ازخود نوٹس کا دائرہ محدود کرنا ہوگا کیونکہ ان مقدمات میں اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی جس سے پورے انصاف کا تاثر پیدا نہیں ہوتا۔ انہیں ریمارکس دینے سے بھی اجتناب کرنا ہو گا۔ ہم جناب نوازشریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز سے گزارش کریں گے کہ عدلیہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے سے اجتناب کریں کہ اس کے کمزور ہو جانے سے ریاست کمزور ہو جائے گی اور معاشرہ خلفشار کا شکار ہو جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں