آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں خوش قسمتی سے میری ملاقات جسٹس ناصرہ اقبال سے ہوئی۔ میں نے پروگرام میں اسلام آباد سے شرکت کی ،جسٹس صاحبہ نے لاہور سے شمولیت کی۔ملاقات کی صورت صرف ٹی وی کی اسکرین اور کیمرے تھے ۔ لیکن میں نے اسے بھی نصیب کی بات سمجھا۔ ایسے عاقل ، فہیم اور خاندانی لوگ اب کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔ کرنٹ افیئرز کی روز کی ’’مارا ماری‘‘ والی گفتگو میں جسٹس صاحبہ نے اینکر کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہاں عدالتوں کا حال نہ پوچھئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا اپنا ایک ذاتی مقدمہ سول کورٹ میں گزشتہ انیس سال سے انصاف کی تلاش میں چل رہا ہے۔ انیس سال ہو گئے ابھی تک اس مقدمے میں شواہد اور گواہ پیش کرنے تک کی نوبت نہیں آئی۔ جسٹس ناصرہ اقبال کی یہ گفتگو سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مجھے یوں لگا کہ شاید میں نے کچھ غلط سنا ہے۔ خیر پروگرام ختم ہوا ۔ میں نے پروڈیوسر سے جسٹس صاحبہ کا نمبر مانگا۔ ان کےنمبر پر جب میں نے کال کی تو میرے فون پر مرحوم جسٹس جاوید اقبال کا نام جگمگانے لگا۔ جس سے مجھے پتہ چلا کہ جسٹس جاوید اقبال کے انتقال کے بعد اب ان کا نمبر ان کی اہلیہ کے استعمال میں ہے۔ میں نے نہایت ادب سے سلام کیا اور ایک دفعہ پھر تصدیق کی کہ کیا واقعی آپ کے ایک ذاتی سول کورٹ کے مقدمے کا

گزشتہ انیس سال سے فیصلہ نہیں ہوا۔جسٹس ناصرہ اقبال نے ایک دفعہ پھر اپنی بات کی تصدیق کی۔ فون بند ہوا اور میں دیر تک گم سم رہا۔بات ہی کچھ ایسی تھی۔جسٹس ناصرہ اقبال لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس رہی ہیں۔ انکے شوہر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال سپریم کورٹ کے جج کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ انکا گھرانہ وہ گھر انہ ہے جس میں دو جسٹس اور تین وکیل ہیں ۔ سب سے بڑی رحمت اس خانوادے پر یہ ہے کہ یہ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبا ل کا گھرانہ ہے۔ جسٹس جاوید اقبال ان کے صاحبزادے اور ناصرہ اقبال انکی بہوہیں۔ جس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا وہ یہ المیہ ہے کہ اگر ہمارے انصاف کے نظام میں اس خاندان کو انصاف نہیں مل سکا تو عام آدمی کے لئے تو انصاف کا حصول صرف ایک خواب ہے۔ سراب ہے اور اکثر یہ ایک عذاب ہے۔
ہم نے ہمیشہ اس ملک میں سول ملٹری تعلقات کو ہی ایک اہم موضوع سمجھا ہے۔ لیکن اس ملک کے نظام انصاف کی صورت حال پر کبھی نظر نہیں ڈالی گئی۔ ایک بہت محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں انیس لاکھ مقدمات انصاف کی تلاش میں در بدر ہو رہے ہیں۔ عدالتوں میں جا کر ایک عام سائل کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کا لوگوں کو بہت حد تک اندازہ ہوگا۔ ہمیشہ سے سمجھا گیا ہے کہ اگر اس ملک میں لوگوں کو انصاف ملنا شروع ہو جائے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ کام میرٹ پر ہونے شروع ہو جائیں گے۔ کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ حق دار کو اسکا حق ملنا شروع ہو جائے گا۔ قصور وار کو سزا ملے گی ۔ بے قصور کی جان بخشی ہوگی۔ خطا کار کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔سائل کو انصاف ملے گا۔ ترازو کے دونوں پلڑے برابر رہیں گے تو بات بنے گی۔ اسی لئے تو انصاف کی دیوی کے ماتھے پر پٹی بندھی ہے۔ وہ حقیر اور امیر میں تمیز نہیں کرتی۔ وہ چھوٹے بڑے میں فرق روا نہیں رکھتی۔ عدالتوں کا کام ظلم کو روکنا ہے۔ ظالم کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈلوانا ہے۔ مظلوم کی دادرسی کرنا ہے۔ انصاف کے علم کو بلندکرنا ہے۔ اس ملک کے آئین کا تحفظ کرنا ہے۔انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ آزادی اظہار کا تحفظ کرنا ہے۔ انصاف ہر شخص کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ یہ اتنا کٹھن اور جان جوکھوں والا کام ہے کہ اس کے حصول میں بہت تندہی درکا ر ہے۔ مسلسل محنت اور کاوش سے ہی یہ منزل حاصل ہو سکتی ہے۔لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے تاثر مل رہا ہے جیسے اس ملک میں صرف ایک کیس ہے، ایک ہی مجرم ہے اور ایک ہی مقدمہ زیر غور ہے۔باقی تو سارے ملک میں انصاف کا نور پھیل ہی چکا ہے۔
المیہ یہ ہے اپنے ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے ہم نے دیکھا ہے کہ تاریخی طور پر عدلیہ کی توجہ کچھ اور امور پر زیادہ رہی ہے۔ آئین کا تحفظ کرنے والے ادارے نے ہی ایل ایف او اور پی سی او جیسے ججز تخلیق کئے ۔ماضی میں آمروں نے اسی عدلیہ کو اپنے مقاصد کے لئے بہت سہولت سے استعمال بھی کیا ہے۔ انصاف کے ادارے کے دل میں ہمیشہ سے ڈکٹیٹروں کیلئے دل میں نرمی ہی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہمارے مقدر میں ایوب خان لکھ دیئے گئے۔ کبھی اس ملک کے مرد حق ، ضیاء الحق کہلائے اور کبھی مشرف جیسے لوگ ہم پر برسوں کے لئے تھونپ دیئے گئے۔انہی آمروں کے دور میں آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں، دستور کو قدموں تلے روندا گیا۔ قانون کا تماشہ بنایا گیا۔ پھر انہی عدالتوں نے جمہوری حکمرانوں کے خلاف من مانے فیصلے دیئے ۔کسی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا کسی کو نااہل کر دیا گیا کسی پر توہین کا الزام لگا کر فارغ کر دیا گیا۔ایک لمحے کو سوچیں اگر ماضی میںہماری عدالتیں ان ڈکٹیٹروں کے سامنے ڈٹ جاتیں، حق کا بول بالا کرتیں ، انصاف کا پرچم بلند کرتیںتونہ اس ملک میں کوئی ایل ایف اوہوتا ، نہ پی سی او ججز کی روایت پڑتی۔ نہ آئین میں من مانی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتیں۔ نہ جمہوریت کا چہرہ داغدار ہوتانہ ووٹ کی حرمت پر کوئی سوال ہوتا ، نہ کبھی پارلیمنٹ کی توہین کی بات ہوتی نہ آزادی اظہار پر کوئی قد غن ہوتی ۔ ایسا ہوتاتو یہ ملک کتنا مختلف ہوتا ۔ اس ملک کی تقدیر بدل چکی ہوتی۔ چین اور بھارت کی طرح ہمارا بھی اس خطے میں کوئی معاشی مقام ہوتا۔
ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھے۔ ہم آج بھی انہی بنیادی سوالوں کا کاسہ ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں جو آج سے ستر سال پہلے ہماری جھولی میں تھے۔ ہم آج بھی عدالتوں کو عوام کے حق رائے دہی کی اہمیت سمجھا رہے ہیں۔ آج بھی انصاف کا نظام اپنے ادارے کی سمت درست کرنے کے بجائے دوسرے اداروں کی راہ میں روڑے اٹکا رہاہے اور آج بھی عوام کے حق حاکمیت کا سوال اٹھ رہا ہے۔ آج بھی ایک منتخب جمہوری وزیر اعظم انہی فیصلوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے جن کا خمیازہ ہم ماضی میں بھگت چکے ہیں۔ توہین عدالت پر تو بہت بات ہوئی توہین ایوان، توہین پارلیمان اور توہین عوام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔۔ عوامی مینڈیٹ کو عدالتوں میں زیر دام لانے کی روایت آج بھی سامنے آ رہی ۔ یہ صورت حال جہاں انصاف کے نظام کے نقص کی نشاندہی کرتی ہے وہاں اسے معتوب حکمرانوں کی خوش قسمتی بھی تصور کی جا سکتی ہے۔ اس لئے کہ عوام عدالتی فیصلوں کی بنا پر اپنے رہنمائوں کو نہیں پرکھتے ۔ ان کی محبت کے اسلوب نرالے ہوتے ہیں۔ نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ ان کو نااہل کیا گیا ہے اس لئے کہ عوام ایسے نکالے ہوئے لیڈروں کو سر پر تاج کی طرح رکھتے ہیں اور اس بات کا ثبوت آئندہ آنے والا الیکشن بھی ہوگا۔
یاد رکھیں ہمارا مسئلہ b 58 2 یا 62, 63 نہیں ہے۔یہ دونوں آئین سے نکال دیںتو بھی مسئلہ حل نہیںہوگا ۔جمہوریت کی تذلیل کے لیے کوئی اور شق وارد ہو جائے گی۔ مسئلے کا حل سوچ کی تبدیلی میںہے۔ جمہوریت کو عزت دینے کی شکل میں ہے۔ ووٹ کی حرمت کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس کے لئے جو کچھ بھی بن پڑے کرنا ہوگا۔ چاہے اس کے لئے نیا قانون بنانا پڑے ، نیا نصاب لکھنا پڑے یا پھر آئین میں تبدیلی درکار ہو سب کچھ کر گزرنا چاہیے۔ ستر سال ان فیصلوں کے لئے بہت ہوتے ہیں۔ اب ہمیں تاریخ کو نئے سرے سے لکھنا ہوگا اور نواز شریف اس کے لیے ہر طرح تیار نظر آتے ہیں ۔ سمجھنے کی بات اتنی ہے کہ انصاف ، جج صاحب، انصاف کی دہائی اس وقت صرف نواز شریف ہی نہیں دے رہے بلکہ اس آواز میں انصاف کے متلاشی انیس لاکھ اورسائلین کی آواز بھی شامل ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں