آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں سیاسی افراتفری تو چل رہی تھی کہ اس ہفتے یک نہ شد دوشد واقعات اوپر تلے قوم کو دیکھنے اور سننے کو ملے۔ دوعظیم سیاستدانوں نے قوم کو اچنبھے میں ڈال دیا۔ عمران خان جن کے پاس مرید بن کر گئے تھے دولہا بن کر لوٹے ۔اگر چہ میڈیا یکم جنوری سے قوم کو باخبر کررہا تھا ایک معروف خاندان کی بہو جو پیری فقیری کے لئے مشہور تھیں اپنے پہلے شوہر جن سے 5عدد لڑکے اور لڑکیاں تھیں طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ نکاح کرچکی ہیں۔ جب یہ خبر لیک ہوئی تو پی ٹی آئی والوں کودوبارہ پریشانی لاحق ہوئی جو پہلے ریحام خان سےشادی کی خبر لیک ہونے پرہوئی تھی اور اب بقول ریحام خان میری شادی کو بھی 2ماہ خفیہ رکھا گیا پھر اس شادی کو بھی تقریباً2 ماہ خفیہ رکھا گیا ۔اب یہ طے نہیں ہوسکا وجہ عدت تھی یا میڈیا کی بے خبری ۔گو اس شادی سے پہلے لودھراں کی پی ٹی آئی کی اپنی سیٹ ہاتھوں سے نکل کر مسلم لیگ ن کے قلعے میں جاچکی ہے ۔مسلم لیگ ن کے سربراہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی نا اہل قرار دے دیا ،مکمل عدالتی فیصلہ آنے تک ہی معلوم ہوسکے گا کہ اب مسلم لیگ ن کا لفظ بھی استعمال کرسکے گی یا پھر کوئی نیا لفظ ایجاد کیا جائے گا۔ ایک دل جلے نے واٹس اپ بھی کرڈالا ،شادی عمران خان کی ہوئی رخصتی نواز شریف کی ہوگئی ۔

نواز شریف کےگزشتہ 5سالوںکا جائزہ لیا جائے تو عوام کے مسائل کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی صرف سیاسی محاذ آرائی ہوتی رہی۔ پہلا سال دھرنوں کی نذر ہوگیا ۔اسلام آباد کے عوام علامہ طاہرالقادری اور عمران خان کی تقریروں سے دل بہلاتے رہے، لگتا تھا نواز شریف حکومت اب گئی کہ تب گئی۔ سانحہ ماڈل ٹائون کا بھی زبردست دبائو تھا مگر قدرت نے نواز حکومت کو نئی زندگی دی کچھ دن سکون سے گزرے ہونگے کہ ان کے مشیروں نے عدلیہ اور فوج سے بھی2دو ہاتھ کرنے کا مشورہ دیا ،ڈان لیکس پر فوج ناراض ہوئی تو ایک وزیر کی قربانی دے کر مریم نواز کو بچالیا ۔گو اُس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان منہ کھولنا چاہتے تھے مگر شہباز شریف کی پھرتی نے آگ پر پانی ڈال کر معاملہ ٹھنڈا کردیا ۔پھر پاناما لیکس بیچ میں آگیا ۔بدقسمتی دیکھئے خود میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں لندن کی جائیدادوں کا اعتراف کرچکے تھے اور خود میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر اعتراف کیا تھا کہ یہ ہماری حلال کمائی سے خریدی گئی جائیدادیں ہیں ۔مگر جب پانامہ لیکس میں ان کے دونوں بیٹوں اور مریم نواز کا نام آیا تو ادھر اُدھر کے بہانے تراشے گئے ۔اسی میں قطری شہزادے کا خط بھی بیچ میں آگیا نیب نے اپنا کام پورا کیا ہوا تھا ۔لہذا نہ خط کام آیا نہ اقامہ بچاسکے عدلیہ سے نااہل ہوگئے۔ پھر پورے پنجاب میں دورے کرکے پکارتے رہے مجھے کیوں نکالا؟ پھر اپنے ساتھ اپنی بیٹی مریم کو بھی اس فیصلے کے خلاف عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے ساتھ ملالیا ۔اب دونوں مل کر عدلیہ پرڈائریکٹ تنقیدکرکے اپنے آپ کو مظلوم اور شہیدپنجاب بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔یا ر لوگ کہتے ہیں میاں صاحب جان بوجھ کر عدلیہ کے ججوں پر اس لئے انگلیاں اُٹھارہے ہیں تاکہ عدلیہ ان کو تو ہین عدالت میں سزا سناکر جیل میں ڈال دے تو اگلا الیکشن جیتنا آسان ہوجائے گا۔ویسے بھی پورا پنجاب جس میں ان کے بھائی نے رات دن کام کرکے لاہور کو خوبصورت شہر میں تبدیل کردیا ہے وہ اس کا بھی انعام وصول کرنا چاہتے ہیں۔ مگر عدلیہ ان کو بار بار اشاروں میں سمجھا رہی ہے کہ ایسا نہ کریں تو وہ اب وزیراعظم کے ذریعے اسمبلی میں عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی پیداکرنے کی پوری کوشش میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے حامیوں سے کوئی ایسا قانون بنوانا چاہتے ہیں۔ جس سے عدلیہ پر بندش ہوسکے ۔کوئی ان پر انگلی نہ اُٹھاسکے ، کبھی وہ ووٹ کا تقدس بتاتے ہیں کبھی انگوٹھوں کی عظمت سمجھاتے ہیں تو کبھی پارلیمنٹ کو سپر یم بتاتے ہیں ۔عوام کی خلقت کو اپنی پذیرائی سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ہرکسی کے جلسے میں ہی عوام جوق درجوق پہنچ جاتے ہیں ، ایک ہزار 2000ہزار کی دہاڑیوں سے یہ مجمع جمع ہوتا ہے ہر کسی کے جلسے کے لئے عوام کو نقدی کی صورت میں یا بریانی کی پلیٹوں کے عوض باقاعدہ بھرتی کرکے لایا اور لے جایا جاتا ہے۔چاہے میاں نواز شریف کے پی کے کسی علاقے میں جلسہ کریں ٹھاٹھیں مارتا ہوا عوامی سمندر ان کے حوصلے بڑھا رہا ہوگا۔عمران خان پنجاب میں لودھراں میں جلسے سے خطاب کریں تو ملنے والے ووٹوں سے دُگنی تعداد میں عوام اُن کے جلسے میں ہوتے ہیں کہاںسے لائے جاتے ہیں کیوں آتے ہیں اور کب تک یہ کھیل کھیلا جائے گا۔مجھے تو حیدر آباد کا مولانا فضل الرحمان کا جلسہ دیکھ کر تعجب ہوا مولانا صاحب نے حیدرآباد سے آج تک ایک سیٹ بھی نہیں جیتی پھر یہ مخلوق کہاں سے لائی گئی بتایا گیا مسجدیں اور مدرسوںسے طلباء ،اساتذہ ،پیش امام اور ان کے قریبی ساتھی پذیرائی کیلئے مولانا فضل الرحمان کی خوشنودی حاصل کرنے کوحاضر کئے گئے تھے ۔اُس پر مولانا صاحب کا نیا فرمان کہ اگلے الیکشن میں وزیر اعظم ہماری پارٹی سے ہوگا کیا معنی بتا رہا ہے؟۔ چینی رہنمامائوزے تنگ سے کسی نے پوچھا آپ نے چین کے عوام کو کیسے نشے سے نکالا اور کیسے ان کو تبدیل کیا انہوںنے برجستہ کہا ہم نے ان سے ووٹ کا حق چھین کر صرف پڑھے لکھے عوام کو ووٹ دینے کا حق دیا ۔اگر ہم نے بھی صرف پڑھے لکھے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی ۔مگر ہمارے ملک میں ووڈیرے، چوہدری اور نواب جاگیردار کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان پڑھ گنوار عوام ان کے سامنے پڑھ کر ان کامقابلہ کرسکیں۔یہی وجہ ہےکہ جہاں وڈیرہ یا جاگیردار جس پارٹی میں ہوتا ہے اُس کے علاقے کی رعایا آنکھ بند کرکے ٹھپے لگادیتی ہے ۔جب تک ہماری حکومتیں گھوسٹ اسکول ختم نہیں کرتیں اور عوام کو پڑھائی کی طرف راغب نہیں کرتیں تو 100سال بھی لگ جائیں ہمارا ملک ترقی کرسکے گا نہ ہ عوام کی مشکلیں ختم ہوں گی ۔دیکھ لیں دنیا بھر میں صرف پڑھی لکھی قومیں ہی ترقی کررہی ہیں ۔ہم ہیں کہ تنزلی کی طرف گامزن ہیں ۔ہم 70سال میں یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے یا قانون۔آخری خبریں آنے تک مسلم لیگ کو ایک اور دھچکا پہنچا جب الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے تمام سینیٹ کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ پرنااہل قراردے کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنے کا فیصلہ سنادیا ۔اب اگلے 5سال مسلم لیگ ن کی برتری کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا۔پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں جشن منانے کا اعلان کردیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں