آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 2012ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں ملنے والی چند سیکنڈ کی سزا پر وزارت عظمی کے عہدے سے نا اہل کرنے کے کچھ دن بعد کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ نہیں آئین سپریم ہے اور اس بارے میں غلط فہمی دور ہو جانی چاہئے۔ وزارت عظمی سے نا اہل قرار دے کر نکالے گئے منتخب وزیراعظم گیلانی نے پارلیمنٹ سے 18 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت جوکہا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ آئین کو سپریم کہا جاتا ہے لیکن اس آئین کو بنانے والی یہی پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آئین تو تب بھی موجود تھا جب اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کیا گیا تھا لیکن جمہوریت کی بحالی کے بعد پارلیمنٹ نے پہلا حکم نظر بند ججوں کو رہا کرنے کا دیا تھا۔ آج تقریبا چھ سال گزرنے کے بعد تاریخ پھر خود کو دہرا رہی ہے اور چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار منتخب وزیراعظم نواز شریف کے صادق اور امین نہ ہونے کا فیصلہ سنا کر انہیں نا اہل قرار دے کر گھر بھیج چکے ہیں۔ اپنے پیش رو کی طرح موجودہ فاضل چیف جسٹس کا بھی فرمانا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے لیکن پارلیمنٹ سے اوپر آئین بھی ہے جو بالا تر ہے،پارلیمنٹ آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی

قانون سازی نہیں کر سکتی، اگرایسی کوئی قانون سازی ہو تو اسے مسترد کرنے کا اختیار آئین ہی دیتا ہے اور اپنا یہ حق پوری قوت سے استعمال کریں گے۔ اس حق کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایک بار پھر ملک میں یہ بحث پوری شدت سے چھڑ چکی ہے کہ آئین سپریم ہے یا پارلیمنٹ بالادست ہے۔ آئین کی بالا دستی پر یقین رکھنے والوں کا موقف ہے کہ یہ آئین ہی ہے جو سپریم کورٹ کو نہ صرف پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کی تشریح کا حق دیتا ہے بلکہ یہ اختیاربھی تفویض کرتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق سے متصادم کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے اس لئے آئین کی بالا دستی پر ایمان لانا ضروری ہے۔ دوسری طرف پارلیمان کو سپریم تصور کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ آئین کی خالق چونکہ پارلیمنٹ ہے اس لئےکوئی تخلیق اپنے خالق سے بالا تر کیسے ہو سکتی ہے۔ اس سوچ کے حامل افراد کا یہ بھی استدلال ہے کہ جس آئین کو سپریم کہا جاتا ہے پارلیمنٹ جب چاہے اس میں ترامیم کے ذریعے تبدیلیاں لا سکتی ہے اور اس پارلیمنٹ کی بالا دستی پر یہی آئین آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ پانچ کے تحت یہ قرار دے کر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ ؛ دستور میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بناء پر چاہے جو کچھ ہو کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔ حالیہ عدالتی فعالیت کا اثر ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اپنے موقف اور نظریے میں تبدیلی لانے پر مجبور ہو چکے ہیں اور حکمراں جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے خود ارکان پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے اور اس کے اختیارات پر قد غن لگانے کے طرز عمل کو زیر بحث لائیں۔ واقفان حال یہ بھی کہتے ہیں کہ اس اجلاس سے قبل جاتی عمرہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات نے شاہد خاقان عباسی کو مجبور کیا کہ وہ قومی اسمبلی میں اس بحث کو چھیڑتے ہوئے ایسے سوالات اٹھائیں کہ کیا پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار نہیں ہے اور کیا پارلیمنٹ پوچھ کر قانون سازی کرے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا یہی وہ بیانیہ ہے جسے وہ وزیر اعظم کے ذریعے اب پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور یہ وہی وزیر اعظم ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک وفاقی کابینہ کے ارکان تک کو تنبیہہ کر چکے تھے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ اور مسلح افواج کے بارے میں تنقید سے گریز کریں بلکہ انہوں نے توہین عدالت کے مقدمات بھگتنے والے طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے پارٹی رہنماؤں کو غیر مشروط معافی مانگنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ نئی حکمت عملی کے تحت وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو دعوت دے چکے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی با لا دستی کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ہوں یا چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور سینیٹر فرحت اللہ بابر جیسے رہنما وہ پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان جاری کشمکش میں پارلیمنٹ کی بالا دستی کے بیانیے کے حامی ہیں لیکن وہ اس پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے سامنے بے بس ہیں جس نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نا اہل کرانے کیلئے خود سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے ماضی کا حساب چکتا کرنے اور اقتدار کی سیاست کے رویے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے عام انتخابات میں بھرپور کامیابی کا انتظار کرے۔ مسلم لیگ ن کی اولین ترجیح اب یہی ہے کہ وہ ہر صورت میں آئندہ عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرے کیوںکہ یہی واحد طریقہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ نہ صرف وزارت عظمی اور پارٹی صدارت سے نا اہل قرار دیئِے گئے اپنے قائد نواز شریف کو سیاست میں واپس لا سکتی ہے بلکہ اپنی خواہشات کے مطابق آئین میں ترامیم کر کے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد تک نواز شریف کے بیانیے کو زندہ رکھنے کیلئے حکمراں جماعت کو ابھی چند اور چیلنجز بھی درپیش ہیں جن میں مسلم لیگ ن کی صدارت کا انتخاب ،باسٹھ ون ایف کے مقدمے میں نا اہلی کی مدت کا تعین اور نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا ملنے کی صورت میں پارٹی کو متحد رکھنا شامل ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ ہفتے کے دوران پارٹی رہنماؤں سے ہونے والی مشاورت میں اگرچہ اکثریت نے پارٹی صدارت کیلئے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے حق میں فیصلہ سنایا ہے لیکن میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی بعض تحفظات کے باعث پارٹی کی بھاگ ڈور ان کے ہاتھ دینے میںتا حال گو مگو کی کیفیت میں ہیں۔ ان تحفظات میں شہباز شریف کے اپنے بڑے بھائی اور بھتیجی کے بیانیے سے متفق نہ ہونے کا عنصر سب سے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی میڈیاپر شہبازشریف کو مسلم لیگ ن کا صدر بنانے کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں اسی وقت ان خبروں کو رکوانے یا ان میں مخصوص ترامیم کرانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔ پارٹی آئین کو جواز بنا کریہ بہانے بھی تراشے جا رہے ہیں کہ پارٹی صدر منتخب ہونے کیلئے سینئر نائب صدر ہونا ضروری ہے اوراس سارے عمل کیلئے زیادہ وقت درکار ہو گا۔ یاداشت کی بحالی کیلئے یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد عبوری وزیر اعظم کیلئے شاہد خاقان عباسی اور عام انتخابات تک شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم نامزدگی کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ عذر پیش کر کے شہباز شریف کی نامزدگی واپس لے لی گئی تھی کہ وہ پنجاب میں عوامی خدمت کا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ان کا بطور وزیر اعلیٰ کام کرنا ہی پارٹی کے مفاد میں بہتر ہے لیکن جاننے والے خبر رکھتے ہیں کہ پارٹی کے تمام ایم پی ایز نے باقاعدہ اپنے دستخطوں سے میاں صاحب کو عرضداشت پیش کی تھی کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا جائے اور صوبائی اسمبلی کے ارکان نے ایسا خادم اعلیٰ کی خواہش پرکیا تھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ شہبازشریف نے اٹھائیس جولائی کے فیصلے کے بعد کافی وقت گزرنے پر بہت محتاط رد عمل ظاہر کیا تھا جبکہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے فیصلے پربھی یہ سطور تحریر کرنے تک ان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی صدارت کے بارے میں جس روز عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنایا اس رات شہباز شریف اورپارٹی قیادت سے نالاں چوہدری نثار ایک ساتھ لاہور میں موجود تھے۔ نئے پارٹی صدر کی نامزدگی کے بارے میں فیصلہ لاہور میں منعقدہ مسلم لیگ ن کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کر لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جہاں مسلم لیگ ن کی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کرے گا وہیں ملک میں جاری آئین یا پارلیمنٹ کی بالادستی کی بحث کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں