آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کو ڈر لگتا ہے؟بہت کم لوگ مانتے ہیں کہ ان کو ڈر لگتا ہے۔بلکہ کوئی شخص ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ اس کو ڈر لگتا ہے۔میں بھی اپنا بڈھا سینہ تان کر دعویٰ کرتا ہوں کہ مجھے ڈر نہیں لگتا۔درحقیقت ہم سب جھوٹ بولتے ہیں۔ہم سب ڈرتے ہیں۔کسی کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو پانی سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو آگ سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو مرنے سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو اپنے باس سے ڈر لگتا ہے۔کسی کو اپنی بیوی سے ڈر لگتا ہے۔جس قدر انسان شریف ہوتا ہے اس قدر وہ پولیس والوں سے ڈرتا ہے۔مجھے قبر کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔اس لئے میں نے ٹھان لی ہے کہ میں گہرے پانی میں ڈوب مروں گا۔ویسے تو میں چلوبھر پانی میں بھی ڈوب کر مرسکتا ہوں۔مگر چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے بعد ہم منظر سے غائب نہیں ہوتے۔ہم میڈیا والوں‘ رشتہ داروں اور محلہ داروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔وہ ہماری لاش بیچ چوراہے میں رکھ کر دھرنا دیتے ہیں اور اپنی باتیں منوانے کے بعد ہمیں قبر میں چھوڑ آتے ہیں۔قبر میں ملنے والے عذابوں کے قصے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس لئے میں نے چلو بھرپانی میں ڈوب مرنے کے بجائے گہرے پانی میں ڈوب مرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ مگرمچھ مجھے کھاجائیں اور میں قبرمیں دفن ہونے اور قبر کے عذاب سہنے سے بچ جائوں۔اسی طرح مرنے کے دیگر

طریقے بھی ہیں جن پر عمل کرنے سے ہم مرنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔لاکھ ڈھونڈنے سے کسی کو نہیں ملتے۔مگر وہ طریقے مجھے اچھے نہیں لگتے۔مثلاً پیٹرول چھڑکنے کے بعد ہم خود کو آگ لگاکر مرسکتے ہیںا ور جل کر خاک ہوسکتے ہیں۔ہم خاک نہیں دفناتے۔ہندو خاک دفناتے ہیں اور اس جگہ کو سمادھی کہتے ہیں۔کچھ ہندو خاک دریا میں بہادیتے ہیں۔مگر جل کر مرنے اور خاک ہوجانے کا طریقہ مجھے غیر محفوظ لگتا ہے۔ہمیں آگ میں جلتا ہوا دیکھ کر لوگ دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور آگ بجھاکر ہمیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔لوگ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔وہ آگ بجھا دیتے ہیں۔مگر اس دوران ہم مرجاتے ہیں اور وہ ہمیں عذاب برداشت کرنے کے لئے قبر میں چھوڑ آتے ہیں۔ایسڈ یعنی تیزاب کے ڈرم میں کود جانے سے آپ ایسڈ کے محلول میں اس طرح تحلیل ہوجاتے ہیں کہ آپ کا نام و نشان باقی نہیں بچتا۔دس پندرہ برس پرانی بات ہے۔لاہور میں اقبال نامی ایک شخص کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک سو بچوں کو قتل کیا تھا۔حیرت انگیز طور پر ایک بھی بچے کی لاش نہیں ملی تھی۔مگر استغاثہ نے ثابت کردیا تھا کہ ملزم نے ایک سو بچوں کو قتل کرنے کے بعد تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر تحلیل کردیاتھا۔
بھئی میں ہوں ایک غریب آدمی‘تیزاب میں تحلیل ہوکرمرنے کے لئے میرے پاس تیزاب کا ایک ڈرم خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ویسے بھی تیزاب کے ڈرم میں تحلیل ہوکر غائب ہوجانے والی بات اپنی سمجھ بوجھ سے بالاترہے۔عین ممکن ہے کہ تیزاب کے ڈرم میں تحلیل ہوکر گم ہوجانے کے بعد میں چھوٹا بچہ بن جائوں اور عربستان میں ریس میں دوڑنے والے کسی اونٹ کی پیٹھ سے باندھ دیا جائوں۔کوئی نہیں جانتا کہ برصغیر نژاد کے بچے کہاں سے عربستان آتے ہیں جن کو ریس میں دوڑنے والے اونٹوں کی پیٹھ سے باندھ دیا جاتا ہے۔ان کے رونے چیخنے چلانے سے اونٹ اور تیزی سے دوڑنے لگتے ہیں۔لہذا تیزاب کے ڈرم میں تحلیل ہوکر مرنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔
بہت پہلے قبر کے عذاب سے بچنے کی ایک ترکیب مجھے سوجھی تھی۔میں نے سوچا تھا کسی روز میں چپکے سے پارسیوں کے خاموش منار Tower Of Silence پر چڑھ جائوں گا اور کنویں نما مینار پر لگی ہوئی جالی پر لیٹ جائوں گا تاکہ گدھ‘چیلیں اور کوے میری ہڈیوں سے گوشت نوچ نوچ کھالیں اور ہڈیاں جالی سے چھن کر کنویں میں جاگریں اور میں قبر میں دفن ہونے سے بچ جائوں۔میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ کوے جب مجھے نوچ رہے ہوں گے تب میں کوئوں سے کبھی نہیں کہوں گا کہ کانگا سب تن کھائیو‘چن چن کھائیو ماس‘ دو اکھیاں مت کھائیو جنہیں پیاملن کی آس۔تب اچانک مجھے خیال آیا تھا کہ پارسیوں کے خاموش مینار پرگدہ‘ چیلوں اور کووں کا بھوجن بننے کے لئے ایک تو پارسی ہونالازمی ہے۔اور دوئم یہ کہ آپ مرے ہوئے ہوں۔زندہ آدمی کو اڑنے والے گدھ‘چیلیں اور کوے نہیں نوچتے۔بلکہ وہ زندہ آدمی سے ڈرتے ہیں۔آپ کی طرح کپڑے لٹھے پہننے والے اور آپ جیسے دکھائی دینے والے گدھ‘ چیلیں اور کوے آپ کو نوچتے ہیں۔ایسے گدھ‘چیلیں اور کوے ہرجگہ پائے جاتے ہیں۔وہ دفتروں میں ہوتے ہیں۔کاروباری اداروں میں ہوتے ہیں۔بلٹ پروف گاڑیوں میں ہوتے ہیں۔اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ان کے اختیارات کی کوئی حد نہیں ہوتی۔اس لئے وہ ہربات میں حد کردیتے ہیں۔یہ سب سوچنے کے بعد میں نے پارسیوں کے خاموش مینار پرجاکر گدھ‘ چیلوں اور کوئوں کا بھوجن بننے کا ارادہ ترک کردیا۔
خوف ایک نہیں‘ خوف انیک ہوتے ہیں۔آپ ہمیشہ خوف میں گھرے ہوتے ہیں۔مگر پوچھنے پر آپ صاف مکرجاتے ہیں کہ آپ کو کسی سے ڈر نہیں لگتا۔کیا آپ کو اپنے باڈی گارڈ سے ڈر نہیں لگتا؟کیا آپ اس خوف میں مبتلا نہیں رہتے کہ آپ کو کبھی بھی‘اچانک ملازمت سے فارغ کردیاجائے گا؟ کیا آپ اس خوف میں نہیں رہتے کہ آپ کے بینک اکائونٹ سے رقم اڑالی جائے گی؟کیا آپ اس ڈر میں مبتلا نہیں رہتے کہ آپ کا کرایہ دار آپ کے مکان پر قبضہ کرلے گا؟ اگر آپ کرایہ دار ہیں تو کیا آپ کو یہ خدشہ لگانہیں رہتا کہ مالک مکان کبھی بھی آپ کو مکان خالی کرنے کا نوٹس دے سکتا ہے؟
بھائی ہم سب ڈرتے ہیں۔ڈرنے میں کسی قسم کی برائی نہیں ہے۔برائی اس بات میں ہے کہ ہم اپنے ڈر کا اعتراف نہیں کرتے۔جب ہم اپنے ڈر کا اعتراف کرلیتے ہیں تب ڈر پر قابو پانے کے نت نئے طریقے سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔پاکستان کے ایک سابقہ تگڑم صدر نے اپنے لئے نہایت کشادہ آرام دہ ایئرکنڈیشنڈ قبر بنوائی ہے۔قبرمیں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔قبر کے قریب بیرکوں میں باڈی گارڈ کمانڈوز بیٹھے ہوئے ہیں۔جب بھی قبر میں سابقہ تگڑم صدر سے پوچھ گچھ ہوگی تب کمانڈوز قبر پر دھاوا بول دیں گے اور سابقہ صدر کو قبر کے عذاب سے بچالیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں