آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو اپنی ہی جماعت کی صدارت سے نااہل کرنے اور پارٹی صدر کی حیثیت سے جاری کئے گئے سینیٹ کے پارٹی ٹکٹس کالعدم قرار دیئے جانے سے یہ تاثر ابھر کرسامنے آرہا ہے ، گویاملک کی سب سے بڑی جماعت کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اِس اقدام پر نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ میڈیا نے بھی بڑی حیرت کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ جولائی 2017ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے منصب سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ پارٹی صدر کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا تھا تاہم انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد نواز شریف 2 اکتوبر 2017ء کو اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے۔
میاں نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان کی جانب سے دیئے گئے ریمارکس کہ ’’کوئی چور اور لٹیرا پارٹی کا صدر نہیں ہوسکتا‘‘ کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہی آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے بعد میاں نواز شریف نے بیان دیا کہ اُن کیلئے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں۔ اُن کا یہ بھی کہناتھا کہ سپریم کورٹ کا پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کو کالعدم قرار دینا پارلیمنٹ سے

قانون سازی کے اختیارات چھین لینے کے مترادف ہے۔ اس سے قبل نواز شریف اور اُن کی فیملی کے افراد یہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ کچھ ججز اپنے دل میں اُن کیلئے بغض و نفرت رکھتے ہیں اور اِن ججز کے دیئے گئے فیصلے انتقام کا نتیجہ ہیں، اِس لئے اُنہیں اِن سے انصاف کی قطعاً توقع نہیں۔ نواز شریف فیملی کا یہ بھی موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں تقریباً 17ججز ہیں مگر صرف اُنہی 5 ججز ،جن سے اُنہیں انصاف کی توقع نہیں، سے اُن کی زندگی کے فیصلے کروائے جارہے ہیں اور خدشہ ہے کہ ہمیں تاحیات نااہل قرار دے دیا جائےگا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی گزشتہ دنوں ججز کی جانب سے سیاستدانوں کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ’’سیاستدانوں کے بارے میں ججز کے اس طرح کے ریمارکس کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔‘‘
دیکھا جائے توکیسز کی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔ میں یہاں قارئین سے کچھ واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ سال قبل برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا جس پر بیوی کے قتل کا شبہ تھا۔ ملزم کو جب کٹہرے میں لایا گیا تو جج نے ملزم سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے تمہاری بیوی کی موت پر افسوس ہے۔‘‘ کیس کی سماعت کے بعد جب کمرہ عدالت میں موجود لوگوں نے ملزم کے ساتھ جج کے ہمدردانہ رویئے پر حیرت کا اظہار کیا تو جج نے جواب دیا۔ ’’اس شخص پر بیوی کے قتل کا شبہ ہے مگر یہ الزام ابھی اس پر ثابت نہیں ہوا لہٰذا یہ شخص ابھی ملزم ہے مجرم نہیں اور اگر میں اس شخص کے ساتھ ملزم کے بجائے مجرم جیسا سلوک کروں تو میں کبھی بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں کرپائوں گا۔‘‘
اسی طرح گزشتہ دنوں امریکہ میں اسکول پر فائرنگ کاواقعہ جس میں کئی بچے ہلاک ہوئے تھے، میں ملوث ملزم جو اِسی اسکول کا طالبعلم تھا، کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے ملزم سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ طالبعلم قابل رحم ہے، کاش کہ اس کی ذہنی حالت پر اسکول انتظامیہ یا والدین نے توجہ دی ہوتی تو یہ اتنا بڑا جرم نہیں کرپاتا۔‘‘ دنیا کی عدالتی تاریخ اس طرح کے سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن پاکستان میں ایک ملزم کو نجانے کیوں الزامات ثابت ہونے سے پہلے ہی مجرم تصور کرلیا جاتا ہے۔
نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نااہل قرار دینا اور اُن کے جاری کردہ سینیٹ کے پارٹی ٹکٹس کو کالعدم قرار دینا قانونی حلقوں میں زیر بحث ہے اور استدلال یہ دیا جا رہا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے حلف یافتہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی تعیناتی کو جب سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تو چیف جسٹس کی حیثیت سے ان کی مدت کے دوران کئے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا گیا مگر سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نااہل کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی صدر کی حیثیت سے جاری کئے گئے سینیٹ کے پارٹی ٹکٹس بھی کالعدم قرار دے دیئے اور اس طرح اُن کے سینیٹ کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے سے (ن) لیگ بادی النظرمیں سینیٹ انتخابات سے باہر ہوگئی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پانامہ پیپرز میں شریف فیملی کے علاوہ پاکستان کی 200 سے زائددیگر شخصیات کے نام بھی شامل تھے لیکن تادم تحریر احتساب صرف شریف فیملی تک ہی محدود ہے جس سے عوام میں یہ تاثر ابھررہا ہے کہ کچھ ادارے نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں جو وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت سے نااہل کرنے کے بعد نواز شریف کو سیاست سے مائنس کرکے اُن کا سیاسی کردار ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں مگر ان کے تمام حربوں کے باوجود نواز شریف اور اُن کی پارٹی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جسے روکنا اب کسی کے بس میں نہیں۔نواز شریف کے ساتھ ہونے والا سلوک ان کی ہمدردی میں اضافہ کرکے اُنہیں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچارہا ہے۔ اگر نواز شریف کے ساتھ اِسی طرح کا رویہ جاری رہا اور اُنہیں جیل بھیجا گیا تو وہ مستقبل کے نیلسن منڈیلا بن سکتے ہیں لیکن اگر اُنہیں جلاوطن کیا گیا تو وہ خمینی بن کر واپس لوٹیں گے اور انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد طیب اردوان بن جائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں