آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی جنگجویانہ سیاسی تاریخ کے طاقتور رہنما سیاسی کارکن خواجہ رفیق کے دونوں صاحبزادے موجود تھے، اب وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان (غالباً مشیر صحت) یہ ایک دوستانہ پریس مجلس آرائی کا تذکرہ ہے، برادر محترم و مکرم جناب مجیب الرحمٰن شامی، حفیظ اللہ خان نیازی، نجیب الطرفین جیو ٹی وی اینکر پرسن منیب فاروق اور ہمدم دیرینہ پرویز بشیر کے ساتھ ساتھ چند اور احباب بھی موجود تھے، تھوڑی دیر کو پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد بھی بات چیت میں شامل رہے، جواں سال صحافی اور ٹی وی اینکر نجم ولی اس متحرک سیاسی محفل کے منتظمین میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔
فیصلہ کن اظہاریئے کے طور پر، اس شعوری یا لاشعوری وجہ کا تعین آسان محسوس نہیں ہو رہا، بلکہ ممکن ہی نہیں ہو پا رہا جس کے باعث عزیزی خواجہ سعد رفیق کے بیانیے نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ایک انمٹ تاریخ سازقول میں قلب حزیں کو جکڑ لیا، وہ قول جب انہوں نے کسی عدالتی بیان کے دوران میں کہا تھا۔ ’’می لارڈ! دنیا کی سب سے بڑی بے انصافیاں عدالتوں ہی میں ہوئی ہیں!‘‘
عزیزی سعد کے ساتھ یہ نشست مجموعی طور پر روٹین سے جدا حالتیں طاری کرتی رہی، غالباً ایسا ہی کوئی الگ سا لمحہ تھا جب صاحبزادے نے اس کالم نگار سے پوچھا۔ آپ کی موجودہ قومی منظر کے حوالے سے

کیا رائے ہے؟‘‘ راقم الحروف کی زبان سے نہایت ہی بے ساختہ جواب ادا ہوا ’’آپ سے گزشتہ ملاقات میں عرض کیا تھا ’’انہوں‘‘ نے ’’جمہوریت کی قومی ہٹی‘‘ نہیں چلنے دینی وہی جواب اب بھی ہے اس پر ایک حرف ایک نقطے کے اضافہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘‘۔
ابھی ابھی خواجہ سعد رفیق کا ان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک پیغام نظروں سے گزرا ہے، ان کا اس میں کہنا ہے۔ ’’مسلسل 70برسوں سے جمہوریت پسندوں کو غدار اور چور قرار دے کر ملکی سالمیت کے لئے خطرہ قرار دیا گیا مگر ہر بار موقع ملنے پر عوام نے ووٹ انہی جمہوریت پسندوں کو ہی دیا، الیکشن ہوا تو اس بار بھی یہی ہو گا۔پیارے منصفو اور محسنو! اب بس بھی کر دو، خدارا پاکستان کو چلنے بھی دو!‘‘
یہ پیغام تیز ترین مہمیز کا روپ دھار گیا، جس پریس گیٹ ٹو گیدر کا تذکرہ جاری ہے اسی میں خواجہ سعد رفیق کے ذاتی احساسات کی داستان کالم نگار کے ذہنی جذبات کو مقید کر گئی۔ آف دی ریکارڈ حصہ کو سنبھال کر رکھتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے ان کی آن دی ریکارڈ نشیب و فراز کی دردآسا کیفیتوں کے ساتھ کچھ وقت بتاتے ہیں، مثلاً ایک مرحلے پر سعد نے کہا ’’ہماری والدہ جرنیلی مزاج رکھتی تھیں، ہمیں وہ شیر کی آنکھ سے دیکھتیں، سونے کا نوالہ تو یاد نہیں البتہ ان کے ہاتھوں سے دیا گیا ہر لقمہ حلال ابدیت کی پیداوار ضرور تھا‘‘
پاکستان کی جنگجویانہ سیاسی تاریخ کے طاقتور رہنما سیاسی کارکن خواجہ رفیق شہید کے صاحبزادے، جسے مسلم لیگ ن کے طے اور تسلیم شدہ Hawksمیں سے ایک مانا جاتا ہے، گو اب وہ خود کو اس صف سے نہ منسوب کرتے ہیں نہ اب وہ یہ طرز عمل Buyکرتے ہیں۔ سعد نے اپنی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کی گھاٹیوں، اترائیوں اور کھائیوں کو شمار کرتے، سناتے اور کرب آمیز احتجاجی لہجے کی آزمائشی قوس و قزح کے امتحانی رنگوں کا ایک سماں تشکیل دے دیا، مثلاً یہ کہ ’’قریب قریب 20برس ہونے کو آتے ہیں، ’’مہربانوں‘‘ کو بھگت رہا ہوں، آشیانہ ہائوسنگ اسکیم کی کہانی، پنجاب حکومت کے اس گناہ سے شروع ہوتی ہے جب اس نے برسوں سے لوکل بدمعاشوں کے قبضے میں آئی ہوئی 3000کنال اراضی واگزار کرائی، دو بڑے معروف ٹی وی اینکر پرسن ہیں(نام لئے گئے، بہرطور یہ نکتہ خواجہ سعد رفیق کی زندگی کے نشیب وفراز کی ’’امانت‘‘ کا آف دا ریکارڈ حصہ ہے) ان دونوں نے شاید دو تین برس کان پڑی آواز سنائی نہیں دینے دی یعنی خواجہ سعد رفیق ریلوے کی پتا نہیں کتنی زمین ’’ہڑپ‘‘ کر چکا یہ دونوں تو اب ’’ٹھیکے‘‘ پر ٹی وی پروگراموں کا کاروبار کرتے ہیں لیکن ان کی رپورٹوں پر آج تک نہ کسی نے ایسی زمین کی نشاندہی کی، نہ ہی ’’ان‘‘ میں سے کوئی مجھے کبھی، بھولے سے بھی ایسے کسی قبضے کے متعلق استفسار کرنے آیا، یار ہمیں قومی سیاست میں تقریباً 33یا 36برس ہوئے ہیں، تین دہائیوں سے زائد کی اس مدت میںکوئی ایک گرفتاری ایسی بتا دو جو کسی ’’کرپشن یا قبضے‘‘ کے حوالےسے عمل پذیر ہوئی ہو، پھر کیوں ہاتھ دھو کر ہماری جان کو آئے ہوئے ہو؟ جیل جانا سیاستدان کی ’’آنر‘‘ ہے لیکن تم لوگ اسے چور، ڈاکو، اور لٹیرا ڈیکلیئر کر کے جیل بھجوانے پہ بضد ہو، اس کی شخصیت کے وقار اور نفسیات کی تدفین کرنا چاہتے ہو۔ ہم دونوں بھائیوں نے 90لاکھ تک ٹیکس دیا ہے، عجیب کیسے انوکھے قسم کے ’’لٹیرے‘‘ انہوں نے تلاش کئے ہیں! میں نے زندگی جدوجہد کی آشائوں اور گپھائوں میں گزاری ہے، انہیں یاد رہے میں نے زندگی کی شروعات سمن آباد موڑ پر ’’نان حلیم‘‘ کھا کر بھی کی ہوئی ہے ہم اس دھرتی میں رچے ہوئے ہیں، روٹین میں زندگی کرتے کرتے جس ذہنی بانجھ پن کی حرماںنصیبی ان ’’مہربانوں‘‘ کا مقدر بن جاتی ہے، اس کا ہماری زندگیوں سے کوئی تعلق نہیں ہم اقبال کے پورم پور شاہین نہ سہی لیکن جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا ہمارے شب و روز ہیں، ہم ذہناً جسماً زندہ لوگ ہیں، مردہ نہیں جن کے چہروں پر روٹین کی پپڑیاں جمی ہوتی ہیں۔ انہیں ہم لوگوں کے DNAکا ریکارڈ حاصل کرنا چاہئے جس سے سو فیصد یقین کی حد تک فرق کا تعین ہو جائے گا۔ میں پورے ملک کے قومی اسٹیج پر کھڑا ہو کے، آج بصدعاجزی و انکساری پوری پاکستانی قوم کو مطلع کرتا ہوں ’’سعد رفیق ذاتی سطح پر شریفوں کے ہاں سے آج تک پانی کے ایک گھونٹ کا بھی روا دار نہیں!‘‘ معاشی تگ و تاز سب کا استحقاق ہے، ہم نے اپنی والدہ کی جمع پونجی سے لے کر اپنی کاروباری سرمایہ کاری سے اقتصادی میدان میں استحکام حاصل کیا، شکر ہے اس کا، مخالفین قیصر امین بٹ سے میری دوستی کو ’’اسکینڈلائز‘‘ کرتے ہیں مجھے اس دوستی پر ناز ہے مگر اس کا ’’ق‘‘ لیگ میں جانا اس دوستی کے باب کا اختتام تھا۔ اس میں پیسے کا اسکینڈل کہاں سے پیدا ہو گیا؟ ہم دونوں بھائیوں کا ڈھائی برسوں سے ’’خاص میڈیا ٹرائل‘‘ جاری ہے، باز ہی نہیں آتے۔
سعد کےقصےکو پاکستان میں جمہوری المیہ کا عنوان بھی دیا جا سکتا ہے، آج ہی پاکستانی صحافت کے ایک معتدل ترین تجزیہ نگار نے لکھا ہے ’’5؍ جولائی 1977کو مارشل لاء سے ہٹائے جانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے دو بڑی غلطیاں کیں (1) جنرل ضیاء اور مارشل لاء لگانے والے جنرلز کے خلاف ان کا لہجہ اور (2) اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں ان کے ہٹائے جانے کے باوجود ان کی مقبولیت کا بڑھتا ہوا گراف۔
یہ ہمارا قومی سطح پر ایک فکری مغالطہ ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی تو یہ دو غلطیاں تھیں۔ ان سے پہلے جن منتخب وزرائے اعظم کا ’’حشر‘‘ کیا گیا ان کی کیا غلطیاں تھیں؟ ابھی تک سرے پر آخری سچائی یہی ہے ’’انہوں نے جمہوریت کی ’’قومی ہٹی‘‘ آئینی ہمواریت کے اصول کی بنیاد پر نہیں چلنے دینی، قوم کو عارضی اور وقتی بڑے بڑے اخلاقی بولوں کے نرغے میں رکھ کر ادھ موا کرتے رہنا ہے، ہاں! جمہوری قوتیں مزاحمت جاری رکھیں، یہ اب تک چار پانچ نسلوں کی آئینی زندگی ’’ہڑپ‘‘ کر چکے مگر انجام کار ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل کی فتح اور ان کی ’’شکست فاش‘‘ قانون قدرت کی کتاب میں لکھی ہے، ان شا اللہ!‘‘
جناب مجیب الرحمٰن شامی نے اس شرکت میں قومی میڈیا سمیت بعض اخلاقی پہلوئوں کو موضوع بنایا۔ توقیر صادق 85ارب، ڈاکٹر عاصم 500ارب اور شرجیل میمن 5ارب کی ’’کرپشن‘‘ کی ’’قانونی سخن طرازیاں‘‘ ان کے خیالات کاحاصل ضرب تھا۔
شامی صاحب کی فکری تصویر کے آخری خط پر یہ جملہ کنندہ تھا۔’’جو جو لوگ قومی میڈیا میں غیر ذمہ داری کے غیر اخلاقی چلن کا علم اٹھائے ہوئے ہیں پتا نہیں ان میں سے کس کس کی قبروں میں کیڑے پڑنے ہیں‘‘ کیڑوں کا تو معلوم نہیں مگر ایسے لوگ پاکستانی معاشرے کی گردن پر الٹی چھری رکھ کر ذبح کر رہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں