آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلزپارٹی کے فعال رہنما سیاسی کارکن مولا بخش چانڈیو رقم طراز ہیں:۔ ’’جنرل ضیاء کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کے بانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آنے والے دور میں بھی جمہوریت کو سانس لینے کی مہلت نہ دینا تھا۔ اس لئے اس کے تشدد میں اور شدت آگئی۔ سندھ اور پنجاب میں کئی نوجوان اصولوں اور اجتماعی آزادی اور خوشحالی کی خاطر سولیوں کو سجا کر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ شاہراہوں اور گلیوں میں گولیوں کی آوازوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اسی گونج میں زندگیوں کے سینکڑوں چراغ گُل ہوگئے۔ ہزاروں بزرگوں اور نوجوانوں پر کوڑے برسائے گئے۔ لاکھوں لوگوں نے عمر کے حسین سال جیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے گزار دیئے۔ مرد تو مرد خواتین اور معصوم بچے بھی ضیاء کے ظلم سے محفوظ نہ تھے۔ جنرل ضیاء نے اپنی آمریت کوطول دینے اور جمہوریت کا راستہ روکنے کےلئے نسل پرستی اور فرقہ واریت جیسی انسانیت دشمن جنونیت کو مضبوط اور عام کردیا۔ نتیجہ ملک میں ہر طرف نفرت کی آگ کےشعلے بلند ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ جنرل ضیاء کی شروع کی ہوئی فرقہ واریت اور نسل پرستی آج ہر آمر کے ہاتھ کا مہلک ہتھیار ہے جسے کوئی بھی آمر استعمال کرکے جمہوریت کو زنجیریں پہنا سکتا ہے۔ جنرل ضیاء نے دنیا بھر کے آمروں کے بدترین تجربوں سے

فائدہ حاصل کرتے ہوئے جمہوریت کے مکمل خاتمے کی کوششیں کیں مگر یہ وقت کی رفتار مقررکرنے والے کا فیصلہ ہے کہ سچ اور انصاف کو وقتی طور پر خاموش تو کیا جاسکتا ہے لیکن اسے ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سچائی اور انصاف کی موجودگی ہی زندگی اور اس کی حقیقتوں کے رواں دواں ہونے کا ثبوت ہے!‘‘
مگر نواز شریف کا موقف تھا اور موقف ہے، جرنیلوں کا احتساب ہو لیکن ضیاء سے نہیںمشرف سے شروع کیا جائے۔ یہ بات پہلے روز بھی غلط ہی نہیں فاسد بھی تھی۔ اب تو ضیاء کے اس غیرجمہوری فساد کا نشانہ خود میاں صاحب ہیں ۔ ان کا سوال ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کیاوہ محسوس نہیں کر رہے؟ انہیں پتا نہیں چل رہا، انہیں ضیاء کے غیرجمہوری فساد کی آمرانہ ذاتی تہذیب نے پاکستانی عوام کے حق انتخاب کی قبر کھود کر ان کے منتخب منصب سے ہٹا دیا۔
گو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کے بیانئے سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں، تاہم ان کا یہ خیال بھی اسی طرح مفسد ہے جیسا میاں نواز شریف کا جرنیلوں کے احتساب کی کہانی کا آغاز ضیاء کو چھوڑ کر مشرف سے احتساب کرنے کا فیصلہ!
بلاول کی یاددہانی کے لئے ہم پاکستاقن کی منتخب سیاسی تاریخ کا مختصراً ریکارڈ دہرانے پر مجبور ہیں۔ وہ مطالعہ فرمائیں۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ملت لیاقت علی خان 4سال 2ماہ اور دودن اپنے عوامی عہدے پررہے۔ 16اکتوبر 1951کو انہیں راولپنڈی کے جلسہ عام میں گولی کا نشانہ بنادیا گیا۔ قاتل موقع پر ہی فوری مار دیا گیا۔ سازش ابھی تک نہ معلوم! خواجہ ناظم الدین اکتوبر 1951کو دوسرے منتخب وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے۔ ایک ذہنی اورجسمانی بدقسمت اختلاجی شخصیت، اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے انہیں 17اپریل 1953کو اس عوامی انتخابی عہدے سے برطرف کردیا۔ وہ صرف ڈیڑھ سال وزارت ِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ محمد علی بوگرہ تیسرے وزیراعظم تھے۔ وہ دوبرس 3ماہ اور26دن ہی وزیراعظم رہ سکے۔ معذوری کی بیماری کے شکار اس گورنر جنرل ملک غلام محمد نے انہیں ساتھیوں کے ’’عدم اعتماد‘‘ کی سان پر چڑھا دیا۔12ستمبر 1956کو حسین شہید سہروردی نے اپنی اتحادی جماعت کے بل بوتے پر وزارت ِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ جلد ہی یہ اتحادی جماعت پتہ نہیں کس ’’حادثے‘‘ کاشکارہوئی۔ سہروردی بھی 17اکتوبر 1957کو مستعفی ہو گئے۔ وہ صرف 13ماہ اور پانچ د ن ہی بطور وزیراعظم اپنے فرائض ادا کرسکے۔ ان کے بعد 17اکتوبر 1957کو ابراہیم اسماعیل چندریگر نے وزارت ِعظمیٰ کے اس منتخب عہدے کا بار اٹھایا لیکن ایک ماہ 29دن بعد ہی اس وقت کی پارلیمنٹ نے انہیں چلتا کردیا۔ معلوم نہیں کیاہوا؟ پھر وزارت ِ عظمیٰ کا قرعہ فال ملک فیروزخان نون کے نام نکلا۔ 9ماہ اور 21دن ہی گزرے تھے، میجر جنرل (ر) اسکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958کو مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کردیا بالآخر وہ ’’مقدس اور سنہری گھڑی‘‘ اس ملک کی ’’پیشانی کاسورج‘‘بن کے طلوع ہوئی جس کا اسم گرامی جنرل محمد ایوب خان تھا۔ ان دنوں پاکستان آرمی کے سپہ سالار!
جنرل محمد ایوب خان، 1958میں کمانڈر انچیف پاکستان آرمی کا سریرآرائے اقتدار ہونا غیرآئینی کہانی کی شروعات تھیں پھر انہوں نے آئین پاکستان کے پائوں جمنے ہی نہیںدیئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، محمد خان جونیجو کی برطرفی، بینظیر کی شہادت، نوازشریف اوربی بی شہید کی دو دو مرتبہ برخاستگیاں، تیسری دفعہ بذریعہ عدلیہ نوازشریف کامنتخب وزارت ِ عظمیٰ سے دیس نکالا۔ اللہ اللہ خیر صلا!
پاکستان کے آئین کی یہ حشر سامان داستان بلاول کے اس جملے پر احتجاج کا استحقاق رکھتی ہے یعنی کہ تیسری بار منتخب وزیراعظم کے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کے سوال سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں؟ یہ ویسی ہی کم نگاہ فکر ہے جیسے کسی زمانے میں چوہدری شجاعت حسین سمیت بہت سے سیانے اکثر کہہ دیتے تھے ’’عوام کو آئین نہیں روٹی چاہئے‘‘ جبکہ ملکی آئین ہی ’’روٹی‘‘ ہے بلاول صاحب کے بیان کردہ عوامی غربت دہشت گردی اور بیروزگاری کے دکھوں کا مطلوب جواب بھی! چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اوربی بی شہید کے فرزند ارجمند کو فکری طورپر Low Profile بیانئے کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہئے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے فعال رہنما سیاسی کارکن مولا بخش چانڈیو نے اپنی کتاب ’’فکر بھٹو‘‘ کے اس پیراگراف کے ذریعے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کے علمبردار تیسری مرتبہ ’’منتخب نااہل‘‘ وزیراعظم کو اس بنیادی سچائی کے تباہ کن برگ و بار سے مطلع کیا جنہو ںنے ان کی تیسری دفعہ منتخب وزارت ِعظمیٰ کو اپنے آسیبی اثرات کے زور پر ، عوام کے حق انتخاب کی شکست خوردہ آکاس بیل میں تبدیل کردیا۔ گویا اس قصے کو ’’مولا بخش چانڈیو بنام مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نام ہی دیا جاسکتا ہے!
پاکستان کے تیسری بار نااہل منتخب وزیراعظم کو صدیوں کی دانش کے حاصل ضرب سے زندگی کے مستقل بالذات حقائق پر کبھی نہ کبھی نظر ڈال لینی چاہئے۔ یہ سوفیصد حد تک خسارے کا نہیں نفع کا سامان ہوگامثلاً ایک حقیقت یہ ہے ’’تم ماضی کو پستول کا نشانہ بنائوگے ، مستقبل تمہیں توپ کے دہانےسے باندھ دے گا‘‘ پھر کیا کیا جائے؟ پھر قوم سے ایسے ’’پستولی‘‘ واقعات پر سرعام ہاتھ باندھ کر معافی مانگی جائے، آج کا مقبول عام لیڈر نوازشریف بلا کسی ذہنی ہچکچاہٹ یا کمپلیکس کے عاجزانہ بے باکی کے ساتھ پاکستان کے باوقار عوام کی خدمت میں چند معافیوں کا درخواست گزار ہو۔ ان معافیوں کے نام یہ ہیں:۔
Oفیصل آباد کی کھلی کچہری میں ریاستی اہلکاروں کو سرعام ہتھکڑیاں لگوانا۔
Oچھانگا مانگا۔
Oکوئٹہ رجسٹری متبادل چیف جسٹس کا اعلان۔
Oسپریم کورٹ پر حملہ۔
Oسیف الرحمٰن (وہ خود آصف زرداری کے پائوں پکڑ کے معافی مانگ چکا)
پاکستان کے دانشور اور اہل فکر و نظر آج کے مقبول عام لیڈر اورتیسری بار ’’منتخب نااہل وزیراعظم‘‘ کے سیاسی بحران اور ذاتی دبائو کی نظریاتی تصویر کشی کے اجتماعی منظر کے جو حالات بیان کر رہے ہیں وہ ہمیں مستقبل قریب کی قومی سیاست کے خطوط فراہم کرسکتے ہیں۔ آیئے نواز شریف کے سیاسی بحران اور ذاتی دبائو پر دانشوروں اور اہل فکرو نظر کی منظرنگاریاں سامنے لاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:۔
’’احد چیمہ کی گرفتاری بروقت ٹائمنگ کے ساتھ ترپ کی بہت بڑی چال ہے۔ اس نے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ والے بیانئے کو بھلا دیا ہے۔ جوابی وار کے لئے شریف برادران کو اب کوئی نئی چال سوچنا ہوگی۔ میرے ذہن میں آئی ممکنہ چالوں کی سب صورتیں مگر اس طرف بڑھتی نظر آتی ہیں جس کے اختتام پر شہ مات نہیں ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ ہوا کرتاہے۔ ترجیح ن کے لاحقے والی مسلم لیگ کی لیکن اب بھی ’’نیویں نیویں‘‘ ہو کر ’’براوقت‘‘ گزار ووالی نیم مردہ دکھتی چال ہوگی اس کا انجام اگرچہ سوپیاز اور سو جوتے ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔‘‘
کالم کی گنجائش تمام ہوئی، قصہ ابھی تمام نہیں ہوا!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں