آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی بائیںبازو کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ۔مارکسسٹ( سی پی آئی ایم ) نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو فوری طور پر پاکستان سے مذاکرات کرنے چاہئیں ۔ سی پی آئی ۔ ایم کے ترجمان رسالے ’’ پیپلز ڈیموکریسی ‘‘ میں گزشتہ ہفتے ایک مضمون شائع کیا گیا ہے ، جس میں نریندر مودی کی سوچ اور پالیسیوں پر بھارت کی بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا موقف پیش کیا گیا ہے ۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے کی مودی حکومت کی پالیسی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے ۔ اب نریندر مودی کی اپچ ( اپروچ) کو تبدیل ہونا چاہئے ۔ مضمون میں اسے ’’سیکورٹی اور عسکری اپچ ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے غلط ہونے کے لیے مضمون میں کئی دلائل دیئے گئے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے ستمبر 2016 ء میں سرحد پر پاکستانی علاقے میں جو کارروائی کی ، اسے ’’ اسٹرٹیجک اسٹرائیک ‘‘ کا نام دیا اور اس کا جواز یہ بتایا کہ سرحد پار سے بھارت پر حملے ہو رہے تھے لیکن بھارت کی اس کارروائی سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور حملوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں دونوں طرف سے اضافہ ہوا ہے ۔ 2003 ء میں سیز فائر کے بعد سب سے زیادہ سیز فائر

کی خلاف ورزیاں 2017 ء میں ہوئیں ۔ دونوں طرف سے بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں اور دونوں طرف سے فوجیوں کا نقصان بھی ہو رہا ہے۔ لہٰذا مودی سرکار کو ’’ سیکورٹی اور عسکری اپروچ ‘‘ تبدیل کرکے سیاسی اپروچ اختیار کرنی چاہئے ۔
سی پی آئی ۔ ایم نے انتہائی درست موقف اختیار کیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک جمہوری ریاست کی بجائے ایک ’’ سیکورٹی اسٹیٹ ‘‘ ( Security State ) میں تبدیل ہو رہا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ہو گیا ہے تو زیادہ مناسب ہو گا ۔ سیکورٹی اسٹیٹس کے خوف ناک انجام اور ان ریاستوں میں رہنے والی قوموں کی عبرت ناک داستانوں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں ۔ ریاستی امور کو صرف سیکورٹی ایشوز کے تابع کر دینے سے قومیں شدید بحرانوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اگرچہ سیکورٹی اسٹیٹس میں بھی سیاسی اپروچ ہوتی ہے لیکن وہ صرف اور صرف سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی اپروچ ہوتی ہے۔ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ہی یہ طے کرتی ہے کہ کون سی سیاسی جماعتیںیا مذہبی ، فرقہ ورانہ ، لسانی ، نسلی یا قومی گروہ ان کی سیکورٹی اپروچ پر عمل درآمد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور یہی جماعتیں یا گروہ ان کی نظر میں ’’ محب وطن ‘‘ یا ’’ اسٹرٹیجک پارٹنرز ‘‘ہوتے ہیں ۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ انتہا پسند جماعتیں یا گروہ ہی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی ہوتے ہیں ۔ یہی جماعتیں اور گروہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی اپروچ کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ اس اپروچ سے ہٹ کر کوئی بھی اپروچ ’’ غداری ‘‘ اور ’’ وطن دشمنی ‘‘ سے تعبیر ہوتی ہے ۔ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی اپروچ کا بنیادی جوہر تنگ نظری اور انتہا پسندی ہے ۔ سی پی آئی ایم کے رہنما اور تھنک ٹینک اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں گے ۔ وہ یقیناًاس امر کا بھی گہرا ادراک رکھتے ہوں گے کہ نریندر مودی یا ان کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی ( پی جے پی ) کو بھارت میں مقبولیت کیسے حاصل ہوئی ۔ سی پی آئی ۔ ایم کے لوگوں سے زیادہ کوئی اس بات سے واقف نہیں ہو گا کہ بھارت ایک سیکولر ریاست کی بجائے ایک ہندو ریاست میں کیوں تبدیل ہو رہا ہے اور اس کے بھارت اور بھارتی قوم کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اس اپروچ سے خود بھارت کی سیکورٹی کے لیے کیا خطرات پیدا ہو گئے ہیں ۔
اس امر کی بجا طو رپر نشاندہی سی پی آئی ایم کے ترجمان رسالے ’’ پیپلز ڈیمو کریسی ‘‘ کے مذکورہ مضمون میں بھی کر دی گئی ہے کہ بھارت میں جو علیحدگی پسندی کے رحجانات فروغ پا رہے ہیں ، ان کا سبب پاکستان نہیں ہے بلکہ یہی سیکورٹی اور عسکری اپروچ ہے ۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لوگوں میں بھارت سے دوری کی سوچ بھی اسی اپروچ کا نتیجہ ہے ۔ سی پی آئی ۔ ایم نے مودی سرکار کو پاکستان سے مذاکرات کی جو تجویز دی ہے ، یہ دراصل غیر فوجی اور نان سیکورٹی اپروچ ہے ، جو شاید بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنی اپیل کھو چکی ہے ۔ خود امریکا جیسا قدیم جمہوری ملک بھی مکمل سیکورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ نائن الیون کے واقعہ کے بارے میں اصل حقائق سامنے آنے کے باوجود امریکی قوم یا تو خاموش رہی یا پھر اس واقعہ کے سیکورٹی معاملات سے تعلق پر احتجاج کرنے میں ناکام رہی اور آج امریکا نہ صرف پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکے ہوئے ہے بلکہ اپنے تمام تر وسائل بھی اسی میں جھونک رہا ہے ۔ اس سیکورٹی اپروچ کے سب سے زیادہ متاثرین خود امریکی عوام ہیں ، جنہیں بے روزگاری اور عدم تحفظ کے خوف نے گھیرا ہوا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے انتہا پسند رہنما نے اس خوف کو امریکی قوم کی تنگ نظری میں تبدیل کر دیا ہے۔ امریکی نہ صرف دنیا کی بالادست قوم کا اپنا مقام کھو رہے ہیں بلکہ انتشار اور مذہبی ، نسلی ، لسانی ، علاقائی اور گروہی تقسیم کا شکار ہو رہے ہیں ۔ انتہا پسندی کا یہ رحجان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ بھارت اس حوالے سے بہت آگے جا چکا ہے ۔ سی پی آئی ۔ ایم نے مودی حکومت کو سیکورٹی اور فوجی اپروچ تبدیل کرنے کی تجویز تو دی ہے لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ اپروچ کسی کے مشورے سے ختم نہیں ہوتی ہے ۔ اس اپروچ کے بھیانک نتائج کی ماضی میں بھی بے شمار مثالیں ہیں اور عصر حاضر میں قوموں کو اس اپروچ کے عذابوں سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مودی حکومت نہ صرف بھارت بلکہ اس خطے کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں