آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے انقرہ میں ایک نجی محفل کے دوران میرے چند دوست ترکی کے صدر ایردوان کو ڈکٹیٹر قرار دےرہے تھے اور اس کی وجہ ان کے نزدیک صحافیوں کی گرفتاری تھی۔اسی طرح پاکستانی میڈیا میں بھی چند کالم نگار جو مغربی میڈیا سے بڑے متاثر ہیں، صدر ایردوان کو ڈکٹیٹر کے طور پر پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ بھی صحافیوں کی گرفتاری اور ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی اور اس کی مدت میں توسیع کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے ترکی میں ایردوان دور سے قبل کیا ڈیمو کریسی کا دور دورہ تھا ؟۔ ایردوان سے قبل ترکی دنیا بھر میں ایک ایسے ملک کے طور پر مشہور تھا جہاں پر تقریباََ تمام ہی شعبوں میں فوج کا عمل دخل تھا ۔خاص طور پر میڈیا کی رسی خفیہ طور پرفوج ہی کے ہاتھوں میں تھی اور کوئی خبر اور کالم فوج کی پیشگی اجازت کے بغیر شائع ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ آپ اُس دور میں ڈیموکریسی کی عظمت اور معیار کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ اُس وقت کے وزیر اعظم مرحوم نجم الدین ایربکان کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار علما ء کے اعزا ز میں افطار ڈنر دیا گیا۔ بس اس افطار ڈنر کے بعد میں ملک میں ایسا طوفان برپا ہوا جو ایربکان حکومت ہی کو لے ڈوبا اور ان کو فوج کے شدید دبائو کی وجہ سے اپنے عہدے

سے مستعفی ہونا پڑا۔ یہ تھی فوج کے زیر کنٹرول ڈیمو کریسی کی عظمت۔ کیا ہمیں یہ نہیں معلوم کہ موجود صدر ایردوان کو جنہوں نے مرحوم ایربکان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد نئی پارٹی ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ ‘‘ تشکیل دی تھی اور پارٹی کے جلسہ عام میں ’’مسجدیں ہماری پناہ گاہیں ہیں ۔ان کے مینار ہمارے نیزے ہیں۔ان کے گنبد ہماری ڈھال ہیں اور اہلِ ایمان ہمارے سپاہی ہیں ۔‘‘ پڑھنے کی بنا پر بغاوت کا مقدمہ چلاتے ہوئے آٹھ ماہ کے لئے پابند سلاسل نہیں کیا گیا تھا؟ ۔اس وقت ہمارے میڈیا میں سے کس کو ترکی کی ڈیموکریسی پر آواز بلند کرنے کی ہمت ہوئی تھی کیونکہ اس وقت مغربی میڈیا خاموش تھا اور انہوں نے بھی خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدر ایردوان پاکستان کے سچے دوست اور خیر خواہ ہیں۔ کسی بھی انسان کو صدر ایردوان کو آمر کہنے سے قبل کم ازکم اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جب دہشت گرد تنظیم ’’ فیتو‘‘ نے فوج کے اعلیٰ افسران کے ساتھ مل کر ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو ان کی ایک کال پر عوام نے ٹینکوں کا رخ موڑ دیا اور سیسہ پلائی دیوار بن کر ایردوان کے لئے ایک ڈھال ثابت ہوئے ۔کیا کبھی آپ نے اتنی بڑی تعداد میں عوام کو کسی ڈکٹیٹر کی خاطر سڑکوں پر نکل کر اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہوئے دیکھا ہے؟ ایردوان کو ڈکٹیٹر کہنے والےکیا یہ بتاسکتے ہیں ان کے برسر اقتدار آنے سے اب تک ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہےجبکہ ڈکٹیٹر کبھی بھی اپنی مقبولیت طویل عرصے قائم نہیں رکھ سکتا۔
رجب طیب ایردوان درحقیقت صرف ایک ترک رہنما کا نام نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر ہو ایردوان ان کی نہ صرف آواز بنتے ہیں بلکہ ہر ممکن مدد بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی عالمی پلیٹ فارم پر جس طرح کھل کر حمایت کی ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ صدر ایردوان ہی تھے جنہوں نے پاکستان کی حمایت میں بنگلہ دیش کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی دئیے جانے پر نہ صرف رابطہ قائم کیا تھا بلکہ ان کی درخواست پر کان نہ دھرنے پر بنگلہ دیش سے اپنے سفیر کو ہی واپس بلوا لیا تھا۔ ایردوان کی قیادت میں اسلام سے محبت کا دم بھرنے والا ترکی دنیا میں ہر جگہ مظلوم و مقہور مسلمانوں کے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہے۔ مسلمانوں پرکہیں کوئی آفت ٹوٹے یا مظالم ہوں ،ترکی کا دل ان کے غم میں سب سے بڑھ کر دکھتا ہے۔ یورپین جو اپنے آپ کو انسانی حقوق اور ڈیموکریسی کے چیمپئن کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دی؟ ہر گز نہیں۔ یہ ایردوان ہی تھے جنہوں نے شامیوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اوران کے لئے ملکی سرحدوں کو کھول دیا اور اس وقت تین ملین کے لگ بھگ شامی پناہ گزین ترکی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ایردوان نے دراصل شام کے مہاجرین کو گلے لگا کر ’’انصار مدینہ‘‘کی یاد تازہ کی ہے۔
میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر سب سے توانا آواز اور سب سے اہم کردار ترکی کے صدر ایردوان کا ہے، جنھوں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کرنے کے ساتھ ساتھ برما کی آنگ سان سوچی کو فون کرکے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بنگلا دیش میں آنے والے تمام روہنگیا مہاجرین تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔ اہل غزہ سے ان کی محبت سب کے سامنے ہے۔2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعدایردوان کے زیر قیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ڈیوس عالمی اقتصادی فورم میں ایردوان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دو ٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈیوس فورم کے اجلاس کے کنوینر کی جانب سے انھیں وقت نہ دینے پر ایردوان فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے۔ اس کے بعد 31 مئی 2010ء کو محصور غزہ پٹی کے لئے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے میں 9 ترک شہریوں کی شہادت کے بعد ایک بار پھر ایردوان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھرے۔ چند ماہ قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مشرقی القدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کا مسئلہ ابھرا تو کھلے عام جس مسلمان رہنما نے اس کی مخالفت کی وہ طیب ایردوان ہی تھے۔ اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں فلسطین اور مصر کے ساتھ مل کر قراردادیں لانے والا ملک بھی ترکی ہی تھا۔ ایردوان کے مطابق بیت المقدس اور حرم شریف کی مقدس اور تاریخی حیثیت کی حفاظت کرنا تمام اسلامی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایردوان نے جب بھی دنیا میں کہیں مسلمانوں کو مشکل میں دیکھا تو سب سے پہلے آواز بلند کی۔ دنیا کے کسی مسلم ملک میں زلزلہ، طوفان، قحط سالی، سیلاب یا دہشت گردی و مسلم کشی کی لہر، ایردوان اور ان کی ٹیم مدد میں پیش پیش رہے۔ پاکستان میں 2005ء کا ہولناک زلزلہ اور 2010 کا شدید سیلاب دونوں مواقع پر ایردوان خود پہنچے اور متاثرہ افراد کے نہ صرف آنسو خشک کیے بلکہ خود اپنےہاتھوں سے امداد بھی تقسیم کی۔ صومالیہ اور افریقہ سمیت کئی اسلامی ممالک کا دورہ کرتے ہوئے افریقی عوام سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے تو وہ بھی ایردوان ہی نے کیا ہے۔ انہوں نےوہاں ترقیاتی ادارے ’’ تیکا‘‘ کے دفاتر قائم کرتے ہوئے غریب افریقی باشندوں کو ہر ممکنہ امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔ اگر اس وقت تمام اسلامی ممالک میں مقبولیت کے لحاظ سے رہنماؤں سے متعلق سروےکروایا جائے تو بلاشبہ ترک صدر ایردوان ہی اس وقت عالم اسلام کے بہترین اور مقبول ترین رہنما منتخب ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں