آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نااہلی کے Side Effects یا اقتدار سے جدائی کا صدمہ، میاں صاحب یکایک نظریاتی ہوئے، تحریک عدل کے گھوڑے دوڑادیئے، بھولا بھٹکا ووٹ اور ووٹرکا تقدس بھی یاد آگیا، عوامی عدالتیں لگالیں اور قوم کو اپنے ہی قائم کر دہ نظام کے خلاف بغاوت کی دعوت بھی دے دی، مطلب 33سالہ سیاست اور 66سال کی عمر تک جو سوچا، نہ کیا، وہ 4پانچ ماہ میں کرنے کی اداکاریاں، سبحان اللہ، آگے سنئے،دو چار روز قبل تو یہ بھی فرمادیا ’’یہ سکھا شاہی نہیں چلے گی اور اب انقلاب آ کر ہی رہے گا ‘‘، ماشاء اللہ۔۔ انقلاب اور ان کے انقلابی ہونے کی بات تو بعد میں، پہلے سرسری سا تذکرہ سکھا شاہی کا، کوئی پوچھے بندہ خدا اقتدار کے چار سالوں میں سرکاری خرچے پر کسی حاصل وصول کے بنا 3سو دن کے سیر سپاٹے کیا سکھا شاہی نہیں تھی، 6چھ ماہ قومی اسمبلی اور سال سال سینیٹ نہ آنا کیا سکھا شاہی نہیں تھی، آٹھ آٹھ ماہ کابینہ کا اجلاس نہ بلانااور 90فیصد فیصلوں کی اپنی پارٹی تک کو ہوانہ لگنے دینا کیا سکھا شاہی نہیں تھی، پانامے سے اقامے تک سب گورکھ دھندا سکھا شاہی نہیں تھی، بھوکی ننگی قوم کے 70کروڑ مری کے شاہی محل پر لگادینا اور وزیراعظم ہاؤس میں ڈھائی کروڑ کا باتھ روم بنوا لینا کیا سکھا شاہی نہیں تھی، کسی ادارے کو اعتماد میں لئے بغیر مودی کو گھر بلوا لینا اور سجن جندل کو گاڑی

میں بٹھا کر مری پہنچ جانا کیا سکھا شاہی نہیں تھی اور کیا یہ سکھا شاہی نہیں کہ’’اربوں کھربوں کے ثبوت مانگو تو وہ میرے پاس نہیں مگر عدالت فیصلہ واپس لے‘‘۔
اب بات کر لیتے ہیں انقلابی ہونے کی، گو کہ انقلابی ہزاروں ایکڑ کے محلات میں نہیں رہتے، انقلابیوں کی پانچ براعظموں میں جائیدادیں نہیں ہوتیں، انقلابیوں کے بچے غیر ملکی نہیں ہوتے، انقلابی اپنے عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بے وقوف نہیں بناتے، انقلابی سچ بولا کرتے ہیں، انقلابی وقت پڑنے پر اپنی ہتھکڑیاں کسی جاوید ہاشمی کو پہناکر پتلی گلی سے نکل نہیں جایا کرتے، انقلابی مشکل وقتوں میں اپنی گردن بچاکر طارق فاطمی، پرویز رشید اور مشاہد اللہ کی گردنیں نہیں پھنسا یا کرتے، انقلابی سکیورٹی اور پروٹوکول پر 10ارب نہیں خرچ کر ڈالتے، انقلابی اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیلئے 3ہزار پولیس اہلکار نہیں رکھتے اور انقلابی 35چالیس گاڑیوں کے شاہانہ جھرمٹ میں سفر نہیں کیا کرتے، لیکن چلو پھر بھی مان لیا کہ آپ انقلابی، ہمیں ہی پتا نہ چل سکا، تو سوال یہ کہ آپ کس قسم کے انقلابی، نیلسن مینڈیلا جیسے، جس نے اپنی قوم کیلئے 27سال جیل کاٹی، جو اب ہوگا،نہیں۔ بالکل نہیں، کیونکہ جب جیل کاٹنے کا وقت آیا تھا تو آپ پہلی فرصت میں ہی ڈیل کر کے چلتے بنے، آپ مہاتیر محمد جیسے انقلابی، جنہوں نے ملک میں معاشی انقلاب پربا کر دیا، جواب پھر نہیں۔۔بالکل نہیں، معیشت ٹھیک کیا کرنا تھی، آپ نے تو قرضے لے لے کر معیشت کا وہ ناس مارا کہ اب قرضوں کا صرف سود اداکرنے کیلئے بھی قرضے لینے پڑ رہے، آپ سنگاپور کے لی کوآن یو جیسے انقلابی کہ جنہوں نے دن رات ایک کرکے اپنے ملک کی کایا پلٹ دی، جوا ب ایک بار پھر نہیں۔ بالکل نہیں، بلکہ یاد آیا اپنے دوسرے دورِحکومت میں آپ نے تو سنگاپور کے اس مردِآہن کو پاکستان بلایا تھا اور ایک میٹنگ میں آپ نے پوچھا بھی تھا کہ’’پاکستان سنگاپور جیسا امیر ملک کیسے بن سکتا ہے‘‘، لی کوآن یوکا جواب تھا ’’مسٹر پرائم منسٹر پاکستان سنگا پور بن سکتا ہے، آپکا ملک بھی امیر ہو سکتا ہے، لیکن بات صرف اتنی سی ہے کہ آپکو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ ملک کو امیر بنانا چاہتے ہیں یا خود کو، کیا آپ اپنے ملک کیلئے غریب ہونے کو تیار ہیں‘‘ میٹنگ روم میں خاموشی چھا گئی، لی کوآن یو کو جواب مل گیا اور وہ اسی شام دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔
تو حضور عملی طور پر صورتحال یہ کہ آپ نے کبھی بھی ووٹ اور ووٹر کی عزت کی، عدل کو سمجھا اور نہ عدل کیا، عوام کی سنی نہ عوامی عدالتوں کو مقدم جانا اورجیسے آپ کبھی نظریاتی نہ تھے، ایسے ہی آپ کبھی انقلابی تھے اور نہ ہو سکتے ہیں، ارے ہاں یاد آیا، ابھی چند روز پہلے آپکا ایک 40پینتالیس سکینڈ کا ویڈیو کلپ نظر سے گزرا،یقین جانئے ہر وہ پاکستانی جو آپ کو نظریاتی یا انقلابی سمجھ رہا، اگر یہ ویڈیو کلپ دیکھ لے تو میر ی طرح اس کے doubts بھی کلیئر ہو جائیں، ہاں یہ علیحدہ بات کہ جس نے بڑے ہو کر خوشامد میں پی ایچ ڈی کرنی ہے، اسے یہ ویڈیو کلپ روزانہ دیکھنا چاہئے، یہ ویڈیو کلپ ا سٹارٹ ہوتا ہے تو نظر آتا ہے کہ ایک بہت بڑا ڈرائنگ روم، آپ اور مریم صاحبہ ایک صوفے پر براجمان، دائیں بائیں دونوں طرف صوفوں اور کرسیوں پر30کے قریب لوگ بیٹھے ہوئے، اچانک آپ اور مریم صاحبہ کے عین سامنے دوسرے Endپر بیٹھا ایک کلین شیو لیگی رہنما بولنا شروع کر دیتا ہے’’سر جس طرح 1947میں مسلمانوں اور پاکستان کو قائداعظم ؒ کی ضرورت تھی، سر 70سال بعد اسی طرح آج اس ملک اورقوم کو آپکی ضرورت ہے، سر جو قائداعظم نے کیا، وہی آج آپ کررہے اور جس طرح قائداعظم کا ساتھ مادرِملت فاطمہ جناح نے دیا، اسی طرح آج دخترِ پاکستان اور میری بہن مریم نواز صاحبہ آپکے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ماشاء اللہ۔ ۔ماشاء اللہ کی آوازیں آتی ہیں اور تالیاں بجتی ہیں‘‘، لیگی رہنما دوبارہ اسٹارٹ ہوا’’سر ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہماری بہن کو اور ہمت وجرأت عطا فرمائے، آپ سمیت سب آمین آمین کہتے ہیں اور دو چار لمحوں کی خاموشی کے بعد آپ اپنے اس پیارے سے پوچھتے ہیں ’’خانیوال کے حالات کیسے ہیں‘‘ یہ کہتا ہے ’’ٹھیک ہیں سر، ہم آپ کے منتظر ہیں‘‘ اور یوں یہ ویڈیو کلپ ختم ہوجاتا ہے۔
اب خوشامد کی ہر حد پار کرجانے والے اپنے چہیتے کو چھوڑیں، خوشامد پر ماشاء اللہ اور آمین کہہ کر تالیاں بجاتے باقی نورتنوں کو بھی رہنے دیں اور چلو وقتی طور پر یہ بھی مان لیتے ہیں کہ آپ بھی قائداعظم ؒ کا مقام حاصل کر چکے، لیکن پھر بھی مجھے یہ توقع تھی کہ مریم صاحبہ کو فاطمہ جناح سے ملانے پر آپ اوپر اوپر سے ہی مگر یہ ضرور کہیں گے ’’میاں تمہاری مہربانی مگر کہاں مریم اور کہاں فاطمہ جناح‘‘، لیکن آپ نے تو سب کچھ یوں سنا اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے یہ بھی حقیقت، قائد ِمحترم اب آپ خود ہی بتائیں بھلا اتنا خوشامد پسند رہنما نظریاتی یا انقلابی ہو سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں