آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الحمدللہ خدا خدا کر کے سینیٹ کے انتخابات جیسے تیسے پُرامن اور بروقت منعقد ہو گئے ہیں اگرچہ اپنے پیچھے ہارس ٹریڈنگ جیسا شدید الزام چھوڑ گئے ہیں۔ اگر ہم اس الزام کی حقیقت کا جائزہ لیں تو پارٹی ڈسپلن کی کمزوری عیاں ہوتی ہے جس کی گو کئی وجوہ ہیں لیکن فوری باعث ادارہ جاتی چپقلش اور منافقت قرار پائے گی۔
سیاست میں پارٹی ڈسپلن منہ زور گھوڑوں کے لیے لگام کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آپ نے اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے والی پارٹیوں کو تہس نہس کر کے کنگز پارٹیاں بنانی یا اگانی ہوں تو ہارس ٹریڈنگ کا الزام دوسروں پر دھرنے کے بجائے اپنے گریبان میں ایک نظر ڈالنے سے مل جائے گا۔ سابق کھلاڑی کا فرمانا تھا کہ قیادت اگر اُس جیسی ’’دیانتدار‘‘ ہو تو نیچے دیانت کی لہریں بہریں ہوتی ہیں مگر آج سب سے زیادہ واویلا وہی شخص کر رہا ہے ۔
سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی دہائی دینے والوں سے ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کو آج جب یہ عوامی جمہوری پارٹی بنی تو اسے اس حال میں کس نے پہنچایا ہے؟ کراچی سے بھاگے ہوئے ایک شخص کو نئے کپڑے پہنا کر دبئی سے یہاں کون لایا کس کی نگرانی میں یہاں سیاسی پوسٹ مارٹم کیے جارہے ہیں؟ کچھ اسی سے ملتی جلتی صورتحال بلوچستان میں بھی روا رکھی گئی۔ سیاسی قیادت کی یہ کتنی بڑی دانشمندی و دور

اندیشی تھی کہ انہوں نے قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے یا رکھنے کے لیے پہلی ٹرم سے نوازا جبکہ دوسری ٹرم کی ایسی تیسی کرنے کے لیے کس کی رہنمائی و قیادت میں جوڑ توڑ ہوئے۔ اسلام آباد دھرنے سے لے کر کوئٹہ کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ تک جب آپ قائداعظم کا غلط استعمال کرتے ہیں تو دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے دامن کی طرف جھانک لیجئے۔
ابھی دہری شہریت کے ایشو کو ملاحظہ فرما لیجئے کیا یہ مسئلہ عرصے سے چلا نہیں آ رہا ہے۔ آپ کی اپنی بیورو کریسی اس حوالے سے اول ایوارڈ یافتہ ہے تو پھر نوٹیفکیشن نو منتخب ممبران سینیٹ کیلئے ہی کیوں ضروری خیال کیے جا رہے ہیں، اس لیے کہ چیئرمین کے انتخاب میں مخصوص پاپولر پارٹی کو نقصان پہنچایا جا سکے جبکہ اس کی حالت تو پہلے ہی ایسی بنائی جا چکی ہے کہ سینیٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود 33پر 20کو حاوی بتایا جا رہا ہے۔ پارٹی کی موسٹ فیورٹ اگرچہ وہ مرنجاں مرنج شخصیت ہے جو ماقبل بھی نیوز لیکس کے تحت ناجائز طور پر زیر عتاب رہ چکی ہے اس کے باوجود چارٹر آف ڈیمو کریسی کی روح کے مطابق اگر سابق چیئرمین ہی کو اتفاق رائے سے مشترکہ نمائندے کی حیثیت سے لانے کی بات کی جا رہی ہے تو اس سے بڑی سیاسی بلوغت کیا ہو سکتی ہے مگر افسوس اس میں بھی کیڑے ڈالے جا رہے ہیں۔ بصورتِ دیگر توہینِ عدالت کے قانون کا ہتھوڑا ان دنوں خوب لہرایا جا رہا ہے جس کی زد سے مظلومین کا کوئی ساتھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
ہمارے بابا جی اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ اس ملک کو ان پڑھوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہے جتنا ان نام نہاد پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے۔ شاید ہر گاؤں کا سیانا رحمتا کچھ نہ کچھ پڑھا ہی ہوتا ہے یوں اندھوں میں ایک آنکھ والا راجہ قرار پاتا ہے۔ اشفاق صاحب کا اصرار تھا کہ اپنے اہل وطن کو آپ اور کچھ نہیں دے سکتے ہو تو کم از کم عزت و توقیر ہی دے دو اس پر تو کچھ خرچ نہیں آتا۔ آج ہمارے کرم فرماؤں کو اپنی عزتوں کی جتنی فکر ہے کاش اس عزت کا حقدار وہ ہر پاکستانی شہری کو خیال کرنے لگیں ایسی صورت میں کوئی کسی پر بیہودہ الزامات عائد کرے گا تو اُسے ڈیفامیشن کے قانون کی زد میں آنا پڑے گا جس کی کم ازکم اس وقت وطنِ عزیز میں قطعی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لیے کہ ہم صرف اپنے آپ کو قابلِ عزت سمجھتے ہیں یوں ہمیں اپنی توہین کا خیال تو پریشان کر دیتا ہے مگر بیس کروڑ عوام کی ہمارے دل میں یہ عزت ہے کہ جس لیڈر کی محبت کو عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے ثابت کریں وہ ہماری آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور عوام کا منتخب ادارہ یا اس کا بنایا ہوا آئین جب پاؤں تلے روندا جاتا ہے تو ہم روندنے والوں کی حمایت میں فیصلے صادر کرنے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں اس کے بعد انتخابی خرابیوں پر بحث بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ آخر میں ہماری صرف یہ گزارش ہے کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے جس کا جو کام ہے وہ کرے۔ کوئی بھی بیورو کریٹ چاہے وہ کسی بھی لباس میں ملبوس ہو، اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں پبلک کا سرونٹ نوکر یا خادم سمجھے۔ خود کو آئین کا وفادار سمجھتے ہوئے جس کے تحفظ کی اس نے قسم کھائی ہوتی ہے پبلک یا عوام کے منتخب ادارے پارلیمنٹ کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہو جائے ایسی صورت میں سسٹم ازخود مضبوط ہونا شروع ہو جائے گا۔ ترقی یافتہ اقوام کی مثالوں سے سیکھیں کہ خراب جمہوریت کا علاج آمریت نہیں مزید جمہوریت ہے۔ جب ہم صدقِ دل سے عوامی حاکمیت کے نظریئے پر ایمان لے آئیں گے اور جمہوریت کی گاڑی کو قومی موٹروے پر آزادی سے چلنے دیں گے تو جن نان ایشوز کا آج رونا رویا جا رہا ہے یہ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ ہماری قوم ایک باوقار قوم کی حیثیت سے مہذب اقوامِ عالم کے دوش بدوش چلنے کے قابل ہو جائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں