آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگلے روز قومی اسمبلی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو خطاب کیا، اس کا بیانیہ قدرے مختلف ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے، جو خارجہ امور چلانے والے اداروں اور افراد کے ساتھ ساتھ ملک کی قومی سیاسی قیادت کو بہت پہلے اختیار کرنا چاہئے تھا۔ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ یہ بیانیہ پاکستان کے حقیقی مقتدر حلقوں کا ہے یا پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اپنا بیانیہ ہے، جو اس نے شاید اپنی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے اختیار کیا تھا لیکن خواجہ آصف کی کچھ باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ مثلا خواجہ آصف کا یہ کہنا درست ہے کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے سے بات کرنے کوتیارنہیں ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کے لئے سرحدیں بند کی ہوئی ہیں جبکہ مسلمان ممالک کے حکمراں دشمنوں کے سہولت کاربنے ہوئے ہیں۔دنیا میں مسلمانوں پرمظالم ہورہے ہیں۔امت مسلمہ کو دشمنوں کی ضرورت نہیں۔ مسلم ممالک کسی ایک مسئلے پر بھی متحد نہیںہیں۔ مسلم امہ کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو ’’پراکسی وار ‘‘ میں جھونک دیا اور پاکستان میں ’’میڈ ان امریکا جہاد ‘‘ لڑا گیا۔ خواجہ آصف نے ایک بہت ہی اہم بات مختصر الفاظ میں کہہ دی ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ داعش کے پیچھے کون ہے۔ اگرچہ اس بات کی ان کو

کھل کر وضاحت کرنی چاہئے تھی اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کو یہ بتا دینا ضروری ہے کہ داعش، طالبان، القاعدہ، بوکوحرام جیسی دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے کون ہے کیونکہ اس حوالے سے غلط فہمیوں اور مغالطے کو دور کرنے سے عالمی سیاست کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ خواجہ آصف نے پاکستان کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پروپیگنڈے کا بہت ہی مدلل جواب دیا ہے۔ پاکستان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا ہے لیکن جن طالبان کے پاس 43 فیصد افغان سرزمین ہے ،انہیں پاکستان کی کیا ضرورت ہے۔ خواجہ آصف نے یہ بات بھی برملا کہہ دی ہے کہ کوئی سپر پاور افغانستان میں امن نہیں چاہتی۔ یہ پاکستان ہے، جو افغانستان میں امن چاہتا ہے ۔وزیر خارجہ کی یہ تجویز بھی مناسب ہے کہ پارلیمنٹ میں موجودہ صورت حال پر بحث ہونی چاہئے کیونکہ ان کا یہ خدشہ درست ہے کہ کل کو ہم بھی کچھ عالمی طاقتوں کا نشانہ بن سکتے ہیںاور ہم ان کے نشانے پر ہیں۔ پاکستان اس لئے بھی ہدف ہے کہ اس نے اب پہلے کی طرح کسی کی ’’ پراکسی وار ‘‘ لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
کاش ہم یہ بیانیہ بہت پہلے اختیار کرتے۔ ہماری تباہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے حقائق کو چھپانے والا بیانیہ اختیار کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں تیسری دنیا کے سامراج مخالف رہنماؤں نے جو بیانیہ اختیار کیا تھا اور جس طرح انہوں نے اس بیانیہ سے دنیا کی بڑی طاقتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا، اس پر انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ان میں پاکستان کے ذولفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ ان کے بعد پاکستان سمیت تیسری دنیا کی قومی سیاسی قیادت نے کھل کر بات کرنے سے احتراز کیا۔ کچھ حالات ایسے ہو گئے تھے کہ کھل کر بات نہیں کی جا سکتی تھی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا اور سرمایہ دار بلاک کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ امریکہ نے اپنا عالمی ضابطہ نافذ کر دیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا۔ یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وارث محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی یہی بیانیہ تھا کہ انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے اور طالبانائزیشن ہو رہی ہے، جسے روکنا چاہئے۔ خود شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے انتہا پسندی کو ایک ’’ Objective Phenomenon‘‘ کے طور پر تسلیم کیا یعنی ان کے نزدیک انتہا پسندی کا فروغ ناگزیر عمل کا نتیجہ تھا۔ اس اپروچ کی بنیاد پر انہوں نے اپنی کتاب ’’ مفاہمت ‘‘ لکھی۔ باقی لوگوں نے بھی یہی بیانیہ اختیار کیا، جس کے تحت امریکہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہا تھا، وہ ’’ جائز ‘‘ محسوس ہوتی تھی۔ انتہا پسندوں نے دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں کیں کہ دنیا دہل کر رہ گئی۔
حقیقت اس کے برعکس تھی۔ انتہا پسندی کا فروغ کسی معروضی یا قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک مصنوعی عمل (Artificial phenomenon)تھا اور ہے۔ خود دہشت گرد تنظیمیں بنا کر ان کی سرپرستی اور فنڈنگ کی جاتی رہی۔ کسی بھی مسلم ملک میں انتہا پسند گروہوں کو عوامی حمایت یا ڈھال حاصل نہیں رہی۔ انتہا پسند گروہوں کے پاس کہیں بھی مستقل مالی وسائل نہیں ہیں۔ ان انتہا پسند گروہوں نے ہر جگہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کا جواز پیدا کیا۔
تیسری دنیا خاص طور پر مسلم ممالک میں سامراج مخالف اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کا خاتمہ ہوا اور یہ ممالک تاریخ کی بدترین تباہی کا شکار ہو گئے۔
انتہا پسندی کے معروضی یا قدرتی عمل اور مصنوعی عمل کے مابین فرق کو سمجھنے میں بہت دیر ہو گئی ہے۔ بہت نقصان ہو چکا ہے اور مزید نقصانات اور تباہی کے امکانات موجود ہیں۔ خواجہ آصف کا یہ کہنا درست ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج موجود ہیں اور وہیں داعش، القاعدہ اور طالبان جیسی تنظیمیں پہلے سے زیادہ طاقتور ہیں اور وہاں افیون کی کاشت پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت جو بیانیہ اختیار کر رہی ہے اگرچہ وہ حقیقت پر مبنی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں اس کے برعکس بیانیہ اختیار کئےرکھا۔ اب یہ بیانیہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے، اس پر الگ بحث ہو سکتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کو اس پر مزید بحث کرنی چاہئے اور ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے پاکستان پر اس وقت جو خطرات منڈ لا رہے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ صورت حال بہت پیچیدہ ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے وابستہ ایک مخصوس مفاد جنم لے چکا ہے، جو کبھی بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی ختم نہیں ہونے دیگا اور ہم باامر مجبوری ’’ پراکسی وار ‘‘ میں الجھے رہیں گے۔ یہ مخصوص مفاد نہ صرف بیرونی قوتوں کا ہے بلکہ کچھ ملکی حلقے بھی اس مخصوص مفاد سے جڑے ہوئے ہیں۔ مسئلہ صرف یمن کی جنگ کا حصہ بننے یا نہ بننے کا نہیں ہے۔ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے۔ اب حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قومی حکمت عملی کیلئےمنتخب ایوانوں میں خاص طور پر کھل کر بحث ہونی چاہئے۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں