آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں خودکش حملوں کی کوشش پاکستان کی مدد سے ناکام بنادی، ایرانی وزیرخارجہ

ایران میں خودکش حملوں کی کوشش پاکستان کی مدد سے ناکام بنادی، ایرانی وزیرخارجہ

کراچی(ٹی وی رپورٹ)ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ کل رات پاکستان کے راستے دو خودکش بمباروں نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ناکام بنایا گیا۔پاکستان کو گیس اور بجلی کے قابل اعتمادذرائع فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، پاک ایران گیس لائن منصوبہ ابھی ختم نہیں ہوا ، پاکستان کی سرحد تک کسی بھی وقت گیس کی فراہمی کیلئے تیار ہیں، گیس پائپ لائن منصوبہ میں چین کو شامل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،ایران گوادر اور چاہ بہار کے ذریعے سی پیک کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے، سی پیک سے خطے میں اقتصادی ترقی اور خوشحالی سے امن، سیکیورٹی اور استحکام کو دوام ملے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میرسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کا مزید کہنا ہے کہ گوادر اور چاہ بہار کی بندرگاہیں ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں بلکہ معاون ہیں، ایران کا بھارت پر انحصار دونوں ممالک کے باہمی اور خطے کے مفاد میں ہے، ایران اور بھارت

کا تعلق پاکستان کیلئے نقصان دہ نہیں ہوگا،چاہ بہار پاکستان، چین اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کیلئے بھی اوپن ہے ،ایران نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا لیکن بدقسمتی سے سعودی عرب نے ان کی تجویز کا خیر مقد م نہیں کیا، ایران اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، سعودی عرب اختلافات ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو ہمارا دروازہ کھلا ملے گا، کلبھوشن سے متعلق اپنے پاس موجود اطلاعات پاکستان کو فراہم کردی ہیں، کل رات پاکستان کے راستے دو خودکش بمباروں نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ناکام بنایا گیا، مسئلہ کشمیر کو پرامن انداز میں عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہئے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت متفق ہوں تو معاونت کرنے کیلئے تیار ہیں، اقوام متحدہ فلسطین میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، او آئی سی ایک موثر تنظیم نہیں رہی ہے، نیوکلیئر ڈیل ایران اور امریکا کے درمیان نہیں ہے، یہ ڈیل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت ہوئی ہے، امریکا نہ تو اس ڈیل کی خلاف ورزی کرسکتا ہے نہ ہی کوئی نئی شرائط عائد کرسکتا ہے، صدر ٹرمپ ناقابل اعتبار ہیں،ان کے بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔میزبان حامد میر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے مزید کہا ہے کہ ایرانی پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، ایران اور پاکستان تمام نشیب و فراز کے باوجود ستر سال سے دوستی نبھارہے ہیں، ہم پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں دو ارب ڈالر خرچ کرچکے ہیں، امید ہے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل نکال لیں گے، وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا ہے، ایران اور پاکستان کے درمیان ایسے تمام مسائل حل ہونے چاہئیں، پاک ایران گیس پائپ لائن پاکستان اور ایران دونوں کے مفاد میں ہے، ہم اس منصوبہ کے ذریعہ پاکستان کو توانائی کی سیکیورٹی فراہم کررہے ہیں، ایران پاکستان کو گیس اور بجلی کے قابل اعتماد ذرائع فراہم کرنے کیلئے تیار ہے، امید ہے گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کی طرح بجلی کی فراہمی کے منصوبے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں، پاک ایران گیس پائپ منصوبہ ابھی بھی موجود ہے اور اس کا مستقبل روشن ہے، پاکستان کی سرحد تک کسی بھی وقت گیس کی فراہمی کیلئے تیار ہیں، جب بھی پاکستان اپنی طرف پائپ لائن تیار کر کے سپلائی کیلئے کہے گا ہم شروع کردیں گے، امید ہے ایسا بہت جلد ہوجائے گا کیونکہ یہ منصوبہ 2014ء میں مکمل ہونا طے پایا تھا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن میں چین کو شامل کرنے سے متعلق سوال پر ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ اسی طرح کے تعمیراتی منصوبوں میں گوادر اور چاہ بہار سمیت کسی بھی جگہ کسی بھی قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں، پاکستان اور چین دونوں کے ساتھ اس طرح کے منصوبوں کو صرف بیان کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت بنانے کیلئے تیار ہیں۔ سی پیک سے متعلق جواد ظریف نے کہا کہ سی پیک خطے کیلئے ضروری ہے، ایسے منصوبوں سے خطے میں اقتصا د ی ترقی اور خوشحالی سے امن، سیکیورٹی اور استحکام کو دوام ملے گا، ہمارے خطے میں اقتصادی بدحالی کی وجہ سے انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ ملا ہے، ضروری ہے کہ گوادر اور چاہ بہار کے انفرااسٹرکچر کے منصوبے مکمل ہوں، ہم ایسے منصوبوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا حصہ بننے کیلئے تیار ہیں، ایران گوادر اور چاہ بہار کے ذریعے سی پیک کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے، یہ ہم اعزازی طور پر کریں گے، گوادر اور چاہ بہار کو آپس میں ملانا بہت زیادہ ممکن ہے، گوادر اور چاہ بہار کی بندرگاہیں ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں بلکہ معاون ہیں، بالخصوص چاہ بہار بندرگاہ وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان کو بہترین راستہ فراہم کرسکتی ہے،چاہ بہار اور گوادر آپس میں منسلک ہوں گی تو خطے کی کمیونٹی کی ضروریات پوری ہوں گی۔جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران کا بھارت پر انحصار دونوں ممالک کے باہمی اور خطے کے مفاد میں ہے، ایران اور بھارت کا تعلق پاکستان کیلئے نقصان دہ نہیں ہوگا، اسی طرح جیسے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات ایران کیلئے نقصان دہ نہیں ہیں، بھارت چاہ بہار میں ایران کا پارٹنر ہے اور یہ پارٹنرشپ خصوصی نہیں ہے، چاہ بہار پاکستان، چین اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کیلئے اوپن ہے جیسے کہ ہم سی پیک میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان دونوں افغانستان میں عدم استحکام سے بہت متاثر ہوئے ہیں، دونوں ممالک کا افغانستان میں فریقین کے درمیان بات چیت اور استحکام یقینی بنانے میں فائدہ ہے،خطے میں استحکام اور پرامن تعلقات کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے جس سے خطے میں انتہا پسندی اور تشدد کم ہوسکے، تشدد پاکستان میں ہو یا افغانستان میں یا کسی اور جگہ ہو اس کا اثر ہر جگہ پڑتا ہے، ہمیں اعتماد پیدا کرنا ہوگا تاکہ انتہاپسندی ختم ہوسکے، بدقسمتی سے داعش کے دہشتگرد شام اور عراق سے ہمارے خطے میں منتقل ہوگئے ہیں،یہ دہشتگرد پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا میں آرہے ہیں اور ہر جگہ خطرہ بن رہے ہیں، ہم سب کو مل کر اس خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہونا ہوگا۔ جواد ظریف نے کہا کہ داعش کے خلاف زیادہ لوگ نہیں لڑ رہے ہیں، ہم شروع سے ہی عراق اور شام کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں، شام اور عراق میں جہاں داعش کو شکست ہورہی تھی وہاں سے انہیں اٹھا کر افغانستان اور اس خطے کے دیگر ممالک میں منتقل کردیا گیا، ان کے پیچھے کچھ قوتیں ہیں،ہم جانتے ہیں کون داعش کی سپورٹ کرتا ہے اور کون اس کے پیچھے ہے، مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش کے پاس امریکی اسلحہ ہے اور وہ شاید ان کیلئے کام کرتے ہیں جو دراصل ان کے مفاد میں بھی نہیں ہے، داعش نے اپنے آقاؤں کو بھی دھمکایا ہے اس لئے ہر شخص کیلئے یہ بیداری کا وقت ہے کہ ایسی سیاست دراصل انہیں فائدہ نہیں پہنچارہی ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران کو بین الاقوامی اتحاد سے باہر رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، ایران ہمیشہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کیخلاف لڑنے کیلئے سب سے آگے رہا ہے لیکن سعودی عرب کا ایسا ریکارڈ نہیں ہے، عالمی میڈیا کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ کون ایسے گروپس کی حمایت، فائنانسنگ اور انہیں اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے، امید ہے سعودی عرب کو سمجھ آجائے گا کہ وہ فورسز جو اس نے خود بنائی تھیں اب انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کی بھی دشمن بن چکی ہیں، سعودی عرب کو اس حقیقت سے سیکھنا چاہئے کہ ایسی پالیسیاں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جب یہ تبدیلی ہوگی تو خطے میں سلامتی کی اسکیم تبدیل کرنا ہوگی جوخطے کے ہر ملک کے مفاد میں ہو۔ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے صدام حسین کو اسلحہ اور کیمیکل ہتھیار دیئے اور کہا ایران پر حملہ کرو، وہ بڑی دلیری سے کہتے رہے کہ جنگ کو ایران کے اندر لے جاؤ،سعودی ولی عہد نے بیان دیا کہ کوشش کی جائے گی کہ جنگ ایران کے علاقوں تک پھیلائی جائے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ سعودی عرب کا استحکام ہمارے مفاد میں ہے، خطے کا استحکام ہمارے مفاد میں ہے، ہمیں خطے میں کسی حکومت کو مرعوب کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے حجم اور وسائل سے مطمئن ہیں، ہمیں اپنا رقبہ بڑھانے کیلئے دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی، 1985ء میں ہماری پیشکش سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق تھی مگر ہمارا پڑوسی اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ وہ سیکیورٹی خرید سکتا ہے، سیکیورٹی خریدی نہیں جاسکتی،سیکیورٹی کو ٹھوس بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے، جب آپ سیکیورٹی خریدتے ہیں آپ یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ دوسرے ممالک کا صدر تمسخر اڑاتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ وہ اس خطے سے دودھ دوہنے جارہا ہے اور یہ توہین آمیز ہے، میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب خود پر اور اپنے پڑوسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی عوام کو بہت بہتر سیکیورٹی فراہم کرسکتا ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے پر اعتماد کرے جس کا مقصد صرف انہیں اپنا مزید اسلحہ بیچنا اور اپنا مفاد حاصل کرنا ہو۔ پاکستان کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں سے متعلق سوال پر ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا لیکن بدقسمتی سے سعودی عرب نے ان کی تجویز کا گرمجوشی سے خیرمقدم نہیں کیا، ایران سمجھتا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، ہمیں پاکستان پرا عتماد ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایران کے مفادات کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا ،ایران بھی کبھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے پاکستان کو نقصان ہو، ایران اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، ہمیں اعتماد ہے پاکستان بھی ایران کیخلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے نہیں دے گا، ہم سب کو مل کر خطے کا ماڈل تبدیل کرنا چاہئے، سعودی عرب اور ایران دونوں ایک دوسرے کو خطے سے بے دخل نہیں کرسکتے ہیں، ہم اس حقیقت کا اعتراف کریں گے تب ہی ایک دوسرے کو بے دخل کرنے کے نظریے کے بجائے ایک دوسرے کو شامل کرنے کے نظریے کو اپنائیں گے، جب ہم ایسا کریں گے تو ایک دوسرے سے بات کرنے اور تعاون کی طرف آئیں گے، اس طرح ہم داعش طرز کے دیگر خطرات سے بھی نمٹ سکیں گے، ہم کہتے ہیں سعودی عرب نے داعش کو بنایا اور اب خود داعش کے خطرے سے دوچار ہے، بالکل اسی طرح جیسے صدام حسین کی مدد کی گئی اور پھر صدام نے انہیں دھمکی دی، اس لئے ہم پہلے سے اس مشترکہ دشمن داعش کے خلاف لڑنے کیلئے مدد کررہے ہیں۔ کیا سعودی عرب اور ایران مذاکرات کی میز پر آئیں گے؟کے سوال پر جواد ظریف نے کہا کہ اس کیلئے پرامید ہوں اور مجھے کچھ علامات نظر آئیں ، اگر سعودی عرب اختلافات ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس کو ہمیشہ ہمارا دروازہ کھلا ملے گا، اگر سعودی عرب تصادم اور بحران کا بہانہ کرے گا اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف اسرائیل پر بطور اتحادی انحصار کرے گا تو یہ درست قدم نہیں ہوگا، سعودی عرب اس مغالطے سے نکلے کہ صیہونی اور امریکی اس کے اتحادی ہوسکتے ہیں، وہ اتحادی نہیں صرف سعودی عرب سے اپنا مفاد اٹھارہے ہیں اور سرعام ایسا کہہ رہے ہیں، سعودی عرب اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ ہمیں مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے ،آپ دیکھیں کہ جب صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تو وہ سمجھتا تھا کہ وہ سات دن میں جنگ ختم کردے گا لیکن آٹھ سال جنگ جاری رہی، سعودی عرب کو یمن کے خلاف فوجی مہم شروع کرتے ہوئے یقین تھا دو تین ہفتے میں یمنیوں کو ختم کردے گا لیکن اب اسے چوتھا سال ہے، اسی طرح شام میں سات سال پہلے جنگ شروع ہوئی لیکن ابھی تک کوئی اختتام نظر نہیں آرہا، سعودی عرب کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ شام، یمن یا کسی دوسری جگہ داخلی انتشار کا حل فوجی کارروائی نہیں ہے،ان میں سے کسی مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے،سیاسی حل نکالنا ہوگا، سیاسی حل ہی حقیقی طور پر زمین پر نافذ کیا جاسکتا ہے،اس حقیقت کو تسلیم کر کے اسی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یمن جنگ کے آغاز کے چند ہفتے بعد چار نکاتی پلان لے کر پاکستان آیا تھا، سیز فائر، انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد، یمنیوں کے آپس میں ڈائیلاگ اور مشترکہ حکومت،یہ یمن کے مسئلہ کا حل ہے، شام میں بھی یہی فارمولا قابل عمل ہے، ہم نے شام کیلئے بھی جنگ بندی، قومی اتحاد کی حکومت، آئینی اصلاحات اور انتخابات کا چار نکاتی فارمولا دیا تھا، بدقسمتی سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں وہ فوجی فتح حاصل کرلیں گے، کیا فوجی فتح خلافت کے نام پر دہشتگردوں کو اجازت دینا ہے، انتہاپسندوں کو کھلی اجازت ہو کہ وہ دمشق کا چارج سنبھال لیں اور خلافت قائم کریں، یہ سعودی عرب، پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے لئے تباہی ہے، ہمیں خوشی ہے شام میں ایسا نہیں ہوا، شام اور یمن کیلئے یہی چار نکاتی فارمولے قابل عمل ہیں، شام میں روس اور ترکی کے ساتھ مل کر حالات کو نارمل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں،حالیہ دنوں میں دو شہروں میں حالات خراب ہوئے لیکن امید ہے وہاں بھی جلد حالات دوبارہ نارمل ہوجائیں گے، ہم آستانہ میں جلد وزارتی سطح پر ملاقات کریں گے،ایران ، ترکی اور روس شام میں قیام ان کیلئے اپنا مرکزی کردار جاری رکھیں گے، ہمیں امید ہے اقوام متحدہ کے تعاون سے مسئلہ کا سیاسی حل نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کلبھوشن یادو سے متعلق سوال پر ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کے معاملہ پر ہماری اعلیٰ سطح پر پاکستانیوں سے بات چیت ہوئی ہے، ہم نے اس ضمن میں اپنے پاس موجود اطلاعات پاکستان کو فراہم کردی ہیں، ہم اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ایران کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف کسی قیمت پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایران کو سرحد پر دہشتگردی کا سامنا رہتا ہے، کل رات کو بھی پاکستان کے راستے دو خودکش بمباروں نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیااور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا جس پر خوش ہیں، پچھلے سال ایران میں دہشتگردی کی بڑی واردات میں ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورس کے دس جوان شہید ہوئے اور کچھ کو اغوا کرلیا گیا تھا، اس واقعہ کے بعد بھی پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایران کے ساتھ مل کر زبردست سیکیورٹی اقدامات کیے، کل رات کا واقعہ بھی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور ایران میں سیکیورٹی تعاون تسلی بخش ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں