آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زبانی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں، قانونی تقاضے پور ے کرنا لازمی، سپریم کورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے نان نفقہ بیوی کا حق قراردیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہاہےکہ یہ بات سمجھ لی جائے کہ محض زبانی کلامی طلاق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، طلاق ایک حساس معاملہ ہے اس کیلئے قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی ہوتے ہیں، سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کےخلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے شوہر کو ماہانہ خرچ کی مد میں 5ہزار روپے بطور نان نفقہ ادا کرنے کا حکم دیدیا ۔ عدالت عظمیٰ نے ماہانہ خرچ بیوی کو ادا کرنے کےخلاف شوہر رشید احمد قریشی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماہانہ خرچ بیوی کا حق ہے لہٰذا وہ آپ کو ادا کرناہی پڑیگا۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو کراچی رجسٹری میں سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بیوی کو نان نفقہ دینے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر درخواست گزاررشید احمد قریشی اپنے وکیل کے ہمراہ جبکہ خاتون صفیہ بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ درخواست گزارکے وکیل نے فاضل عدالت کو بتایاکہ ان کے موکل نے بھری عدالت میں سب کے سامنے اپنی اہلیہ

کو طلاق دیدی تھی جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس میںکہاکہ صرف زبانی کہہ دینے سے طلاق واقعہ نہیں ہوتی،کاغذی کارروائی مکمل ہونے تک طلاق تصور نہیں کی جائیگی۔ عدالت نے استفسارکیاکہ آپ جو بات کررہے ہیں اسے تحریری طورپر سامنے لائیں جس کی قانونی حیثیت بھی ہونی چائیے جس میں آپ بتائیں عدالت کو کہ طلاق کہاں دی گئی، درخواست گزار کے وکیل نے پھر سے کہاکہ ان کے موکل نے زبانی طلاق دی جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ طلاق ایک انتہائی حساس معاملہ ہے،محض زبانی کلامی طلاق کیسے ہو سکتی ہے؟ فاضل عدالت نے وکیل پر برہمی کا اظہار بھی کیاکہ قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر طلاق نہیں ہوتی۔ عدالت عظمیٰ نے قراردیاکہ یہ بات سمجھ لی جائے کہ زبانی طلاق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ ماتحت عدالت نے اہلیہ کو ماہانہ 5 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیاہے جسے کالعدم قراردیاجائےجس پر عدالت عظمیٰ نے کہاکہ ماتحت عدالت چاہے تو 25 ہزار روپے بھی مقرر کر سکتی ہےکیونکہ ماہانہ خرچ بیوی کا حق ہے لہٰذا وہ آپ کو ادا کرناہی پڑے گا، عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے شوہر کو ماہانہ خرچ کی مد میں 5 ہزار روپے بطور نان نفقہ ادا کرنے کا حکم دیدیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں