آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

[email protected]

کراچی (محمد اسلام)محترم قارئین! کالم لکھنے کیلئے موضوع کی تلاش بھی ایک اہم مسئلہ ہے لیکن موجودہ سیاسی صورت حال میں ہم نے آسانی سے موضوع ڈھونڈ لیا ہے ہمارا آج کا موضوع ’’جوتا‘‘ ہے۔ یہ وہی جوتا ہے جس سے شریر بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ مگر آج یہ جوتا سیاست دانوں کی توہین کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور جواب آں غزل کی طرح اِدہر ہی نہیں اُدہر بھی جوتا چلایا گیا ہے حکیم شرارتی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں جس طرح لیڈیز ونگ یا یوتھ ونگ وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح عصر حاضر کی پاکستانی سیاست کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ہر پارٹی کو ایک جوتا ونگ کے قیام پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اور جس طرح لیڈیز ونگ، یوتھ ونگ اور سوشل میڈیا ونگ کے جلسے یا اجلاس ہوتے ہیں اسی طرح جوتا ونگ کا اجلاس یا جلسہ بھی ہونا چاہئے ہمارے معاشرے میں کرنے کے بہت سے کام ہیں لیکن چونکہ جوتا سیاست عروج پر ہے لہٰذا اب جوتا سیاست کیلئے نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا دراصل یار لوگوں نے سیاست کو ایسے پھنسا لیا ہے جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہو۔ سیاست کے لئے یہ وقت ایسا ہی جیسے کرکٹ میں اس وقت ہوتا ہے جب 25پر 5کھلاڑی آئوٹ ہوتے ہیں۔ جوتا لگنے کے بعد نواز شریف نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور اداکار علائو الدین کی طرح یہ ڈائیلاگ بھی نہیں بولا۔ کہ ’’کس نے بنایا ہے یہ جوتا، کہاں سے آیا ہے یہ جوتا، کس نے مارا ہے یہ جوتا۔‘‘ حکیم شرارتی کی اپنی رائے ہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔ اتفاق کر لیا یا نہ کریں آپ بھی ان کی رائے جان ہیں۔ وہ کہتے ہیں جیسے عوام جوتا سمجھ رہے ہیں دراصل وہ بوٹ ہے۔ بہرحال یہ جوتا ہے بوٹ ہے یا چپل مگر اپنا کام کرگیا ہے۔

دیکھئے صاحب! صرف سیاستدانوں کو جوتے مارنا بڑی ناانصافی ہے کیونکہ اس معاشرے میں ایسے کئی طبقات ہیں جو جوتے کھانے کے مستحق ہیں۔ مگر ابھی تک جوتے نے ان تک رسائی حاصل نہیں کی ہے۔ ہم نے جوتے پر بہت بات کر لی حالانکہ قوم جن مسائل سے دوچار ہے ان پر کوئی بات ہی نہیں ہو رہی۔ ہر شخص طاقت اور اقتدار کیلئے دیوانہ ہوا جا رہا ہے اسی لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس موقع پر یہ شعر آپ کو کیسا لگا ای میل کے ذریعے بتائیے گا ضرور۔

کسی صورت عروس اقتدار آجائے قبضہ میں

اسی باعث تو مسٹر ہے یہ سب ہنگامہ آرائی

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں