آپ آف لائن ہیں
پیر 03 شوال المکرم 1439ھ 18؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا بھر کی نظریں اس وقت پاکستان اور چین کے اشتراک عمل سے بننے والے اقتصادی راہداری منصوبے پر ہیں، جو چین کے لئے تو مفید ہے ہی پاکستان کو بھی معاشی استحکام اور دفاعی مضبوطی سے ہمکنار کرے گا۔ چین کی معاشی برتری امریکہ اور پاکستان کا معاشی و دفاعی استحکام بھارت اور اسرائیل کے لئے ناقابل برداشت ہے چنانچہ یہ اتحاد ثلاثہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے اور اس کے مقابل منصوبے بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کررہا۔ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں بھارت کی شمولیت کو اسی لئے کئی حوالوں سے پاکستان، چین بمقابلہ ایران، بھارت قرار دیا گیا۔ ایرانی صدر نے حال ہی میں اس بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کا افتتاح کیا تو اس موقع پر بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج اور افغان حکام بھی موجود تھے، جن کی وہاں موجودگی کا مطلب امریکہ کی وہاں پر موجودگی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ بندرگاہ مثبت مسابقت کا ماحول ضرور پیدا کرے گی لیکن یہ خطے کے اتحاد کا سبب بھی بنے گی۔ چاہ بہار پر بھارتی موجودگی پاکستان کے لئے بلاشبہ ایک خطرہ ہے، جس پر پاکستان کی تشویش بجا ہے۔ تاہم اب پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے پاکستان کو چاہ بہار کے منصوبے اور اسے گوادر سے جوڑنے کی پیشکش کی

x
Advertisement

ہے۔ اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران، بھارت تعلقات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح ایران، پاکستان کے عرب ممالک سے تعلقات سے خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ پاکستان کو ایران ایسے دیرینہ دوست کی پیشکش کا معقول و مثبت جواب دینا چاہئے۔ چاہ بہار میں پاکستان کی موجودگی بھارت کو اس کی حد میں رکھے گی لیکن گوادر کے معاملے میں چین تحفظات کا اظہار کرسکتا ہے۔ لہٰذا ضروری نہیں کہ ان دونوں منصوبوں کو منسلک کیا جائے۔ پاکستان کو یہ فیصلہ انتہائی دانشمندی سے کرنا چاہئے اور اپنا استحکام ہر صورت میں مقدم رکھنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں