آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے اعداد و شمار ، ’’گلوبلائز ازم بیس‘‘ اور انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق گزشتہ پندرہ سال میں دنیا بھر میں دہشت گردوں کا 75فیصد ہدف 25مسلم ممالک بنے، 2001سے 2015کے دوران دنیا بھر میں دہشت گردی کے نتیجے میں ایک لاکھ 67ہزار 221ہلاکتیں ہوئیں جو 98فیصد (ایک لاکھ 63ہزار 532) امریکہ اور مغربی یورپ سے باہر ہوئیں۔ امریکہ اور مغربی یورپ میں 3ہزار 689ہلاکتیں ہوئیں جن میں 9/11کے حملے میں ہونے والی 2ہزار 977ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ اس امر کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ صرف مسلم ممالک ہی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں۔ کیا اس کی وجہ مسلم ممالک کے اندرونی حالات ہیں یا وہ بیرونی طاقتیں،جو دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ صرف وہ اسلامی ممالک دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں جو سیاسی عدم استحکام کا شکار یا آمریت کے شکنجے میں رہے ہیں، عراق میں 2001سے 2011 تک 5ہزار افراد سیاسی و فرقہ وارانہ تقسیم کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں بھی 1999میں منتخب حکومت کی برخاستگی کے بعد حالات خراب ہوئے۔ہمارے خیال میں مسلمان ممالک کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاں جمہوریت قائم کریں اس

لئے کہ اسی نظام کے تحت عوام کے مسائل حل ہوتے اور ان کے لئے مطلوبہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔آمریت میں لوگوں کو حق بات کہنے اور اپنی خواہشات اور امنگوں کے اظہار کا موقع نہیں دیا جاتا جس سے بے اطمینانی اور بے چینی پھیلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور دہشت گرد قوتیں انہیں آسانی سے استعمال کرنے لگتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں