آپ آف لائن ہیں
منگل4؍شوال المکرم 1439ھ 19؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ غالباً 1966ء کی بات ہے، مولانا مودودی کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ شائع ہو کر موضوع بحث بن چکی تھی، مختلف علما اس کتاب پر کڑی تنقید کر رہے تھے، تنقید کرنے والوں میں اُس وقت کے ایک مشہور مذہبی /سیاسی رہنما بھی شامل تھے، ایک روز اُن صاحب نے مولانا کے خلاف تند و تیز تقریر کی اور جوش خطابت میں کہا کہ مولانا مودودی یہ کتاب لکھ کر شدید بے ادبی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس مجمع میں ایک نوجوان بھی شامل تھا جو یہ تقریر سُن رہا تھا، اُس نے جب یہ سنا تو غصے سے بھر گیا اور اسی عالم میں مودودی صاحب کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اُن دنوں مولانا لاہور میں واقع اپنے گھر 6ذیلدار پارک، اچھر ہ میں روزانہ عصر کے بعد ایک نشست رکھتے تھے جس میں ہر خاص و عام کو آنے کی اجازت ہوتی، مولانا وہاں لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے، اسلام کے احکامات کی تشریح فرماتے، دین کی تفہیم کرتے اور نہایت دل نشیں انداز میں لوگوں سے گفتگو کرتے۔ یہ نوجوان بھی عصر کے بعد آپ کے گھر پہنچ گیا، اُس زمانے میں چونکہ خود کُش جیکٹ والی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی تھی سو اُس نے اپنے نیفے میں خنجر اُڑس لیا تاکہ موقع ملنے پر مولانا پر وار کر سکے، مولانا کی گفتگو شروع ہوئی، لوگوں نے سوال کرنے شروع کئے، آپ نے اسلا م کی تعلیمات کی روشنی میں اُن کے جواب دیئے، اُس نوجوان نے

x
Advertisement

جب مولانا مودودی کی باتیں سنیں تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا، اُس کے خیال میں تو مولانا واجب القتل تھے کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ خلافت و ملوکیت لکھ کر وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ یہاں مولانا کی گفتگو میں اُسے دور دور تک ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی بلکہ اُلٹا اسے محسوس ہوا کہ مولانا تو ایک جید عالم اسلام اور عاشق رسول ﷺ و عاشق صحابہؓ ہیں۔ اُس نے مولانا کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا، خنجر نکال کر اُن کی خدمت میں پیش ہوا اور بتایا کہ وہ کیوں اور کس ارادے سے آیا تھا۔ بات کھل گئی اور پتہ چلا کہ یہ نوجوان دراصل فلاں مذہبی رہنما کی تقریر سے متاثر ہو کر انہیں قتل کرنے آیا تھا، جب اُن مذہبی لیڈر سے بات ہوئی تو انہوں نے سخت تعجب اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے مولانا پر تنقید ضرور کی تھی مگر اُن کی منشا ہرگز یہ نہیں تھی کہ کوئی جا کر مولانا کو قتل ہی کر ڈالے۔ ابوالاعلیٰ مودودی کا انتقال بالآخر 75برس کی عمر میں نیویارک میں ہوا جہاں آپ علاج کی غرض سے تشریف لے گئے تھے، آپ کی تدفین البتہ ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور میں ہوئی۔
2018میں واپس آتے ہیں، آج جب کوئی شخص کسی کے چہرے پر سیاہی پھینکتا ہے یا کسی پر جوتا اچھالتا ہے تو فوراً چاروں طرف سے مذمتی بیانات آنے شروع ہو جاتے ہیں، ہر شخص اپنی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اختلافات اپنی جگہ مگر کسی پر سیاہی پھینکنے یا جوتا اچھالنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی، یہ ہماری روایت نہیں، ہماری اقدار اس کی اجازت نہیں دیتیں، کوئی کیسا بھی ہو ہم ان حرکتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم بہت اچھے ہیں! لیکن اصل میں یہ تمام باتیں منافقت پر مبنی ہیں، سچ یہ ہے کہ ہم نے خود اخلاقیات کا جنازہ نکال کر حالات کو آج اِس نہج تک پہنچایا ہے، جب لیڈران اپنی تقاریر کو گالیوں سے مزین کریں گے، جب اپنے مخالفین کو یزیدی کہیں گے، انہیں قاتل کہیں گے، انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کریں گے تو اُس کے بعد وہ محض مذمتی بیان جاری کرکے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مذکورہ مذہبی رہنما نے مولانا مودودی کو گستاخ صحابہ ؓ کہہ کر حیرانی کا اظہار کیا تھا کہ میں نے تو کسی کو قتل پر نہیں اکسایا! چند برس پہلے تک طالبان کے حامیوں کا بھی یہی قصہ تھا، ہر خودکُش واقعے کے بعد چاروں طرف سے مذمتی بیانات پھوٹنے شروع ہو جاتے، ان میں ایسے لوگوں کے بیان بھی ہوتے جو نہ صرف طالبان کے بیانیے کی مکمل حمایت کرتے بلکہ حسب توفیق اُس کی ترویج و اشاعت بھی کرتے اور پھر اسی منہ سے ’’اگر مگر‘‘ کے ساتھ لتھڑا ہوا ایک بیان بھی داغ دیتے کہ ہم اس خودکُش حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ایک اور مثال سیاپا کرنے والے اُن تجزیہ نگاروں کی ہے جو دن رات جمہوریت کے خلاف مقدمہ بنتے ہیں، جمہوریت کے خلاف دلائل کھوج کر اپنے مضامین میں پروتے ہیں، ہر جمہوریت پسند کو کوسنے دیتے ہیں اور پھر اتمام حجت کے طور پر نہایت بیزاری کے ساتھ ایک جملہ بول دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے ملک میں جمہوریت ہونی چاہئے مگر۔۔۔۔۔اور پھر سے وہی تاویلیں جو گل سڑ چکی ہیں، آمریت کی نئی بوتل میں ڈال کر پیش کرتے ہیں، اِس امید پرکہ شاید عوام چُسکی لگا لیں۔
اب تصویر کا دوسرا رُخ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ایک شخص خلوص نیت سے یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک طاغوتی نظام ہے، جعلی جمہوریت ہے اور کرپٹ حکمران ہیں سو ایسا شخص اِس نظام سے جڑے لوگوں کے خلاف ہر قسم کی جدوجہد کو جائز سمجھتا ہے، اس میں اگر کسی کو سڑک پر گھسیٹنا پڑے، کسی کو ڈنڈے کے زور پر راہ راست پر لانا پڑے، کسی کو گالی دینی پڑے یا کسی کا منہ کالا کرنا پڑے تو یہ بات اُس شخص کے لئے کسی جہاد سے کم نہیں کیونکہ اپنے تئیں وہ شخص نظریاتی ہے جو ایک اعلیٰ و ارفع مقصد حاصل کرنے کی خاطر یہ سب کر رہا ہے، وہ صدق دل سے یہ بھی سمجھتا ہے کہ جو لوگ اُس کی اِن باتوں کی مخالفت کرتے ہیں وہ ملک دشمن، بکاؤ اور مفاد پرست ہیں کیونکہ کوئی بھی محب وطن شخص اِس نظام کا دفاع کر ہی نہیں کرسکتا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو کم ازکم اسے گالی دینے میں تو بالکل کوئی حرج نہیں۔ اب ایسے شخص کے نظریات سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی، عین ممکن ہے کہ وہ تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہو، مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کے نظریات غلط ہوں اور اُس کا مخالف نقطہ نظر درست ہو تو پھر کیسے فیصلہ ہو کہ کون صحیح اور کون غلط ہے؟ موقف کی صحت کو پرکھنے کا ایک معیار ہے، یہ دیکھنا ہوگا کہ کون کس وقت کیا بات کر رہا ہے اور کس تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔
کوئی بھی شخص ماں کے پیٹ سے عالم فاضل بن کر نہیں نکلتا، وقت، تجربہ اور شعور اسے اِس قابل بناتا ہے کہ درست اور غلط کی تمیز کرے۔ اگر کوئی شخص ستّر کی دہائی میں کمیونسٹ ہو مگر وقت کے ساتھ وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ اِس نظام میں خرابی زیادہ اور خوبی کم ہے اور بالآخر اسّی کی دہائی میں تائب ہو جائے تو نیک نیت مانا جائے گا مگر اسی شخص کو اگر سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد 1992میں سمجھ آئے تو پھر بات اور ہے، بالکل اسی طرح جیسے چالیس کی دہائی میں جرمنی میں فاشزم عروج پر تھا، پوری قوم ہٹلر کی ہمنوا تھی، محض چند برس میں ہی انہیں پتہ چل گیا کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے۔ اپنے یہاں کا باوا آدم البتہ نرالا ہے، ہم اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو محض مفاد کی خاطر موقف تبدیل کرتے دیکھتے ہیں، ان کی تحریریں پڑھ لیں یا بیانات سن لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس کی زبان بول رہے ہیں مگر شرم اور ڈھٹائی ایسی ہے کہ سینہ تان کر دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ دلیل ان کے پاس ختم ہو چکی ہے سو گالی دے رہے ہیں، اس گالی کے نتیجے میں جب معاشرے کا سوشل فیبرک تباہ ہو چکا تو مذمتی بیانات جاری کرکے مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، اُسی مذہبی رہنما کی طرح جس نے حیرانی سے کہا تھا کہ میں نے مولانا مودودی کو قتل کرنے کسی کو نہیں بھیجا تھا !
ہم سب ایک ایسے الاؤ کے گرد بیٹھے ہیں جس میں باری باری ہر شخص کو پھینکا جا رہا ہے، بچنے والے تالیاں پیٹ رہے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ ایک روز انہیں بھی ایسے ہی جھونکا جاسکتا ہے۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں