• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کتابوں کا قرض کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے سو سوچا آج اس کی پہلی قسط چکادی جائے۔ پہلا تحفہ ہے’’نقش چغتائی دیوان غالب مصور‘‘ جو 1935میں شائع ہوا تھا۔ غالب تو غالب ہے ہی، مجھ جیسا مغلوب کیا بات کرے۔ اسی طرح چغتائی بھی چغتائی ہے جسے مجھ جیسے چغد کے تبصرے کی ضرورت نہیں لیکن خطاطی ہوشربا ہے، بس میں ہوتا تو ہاتھ چوم لیتا، لفظ نہیں نگینے جڑے ہیں۔ ٹیکنالوجی مہربان ہی نہیں ظالم بھی بہت ہے جو خطاط اور خطاطی دونوں کو کھاگئی۔ دیوان غالب مصور کی چرمی جلد کچھ مرجھائی ہوئی سی ہے لیکن دیوان تازہ اور شگفتہ، 82برس پرانا یہ نایاب نسخہ مجھے مظہر ایف جنجوعہ صاحب نے نیدر لینڈز (NETHERLANDS)سے اک خط کے ساتھ بھیجا جس میں لکھتے ہیں۔’’آپ کی لائبریری کا استحقاق ہے یہ کتاب۔ مجھے یقین ہے پسند آئے گی۔ قبولیت کے لئے شکریہ۔ ہوسکے تو ملنے پر مطلع کیجئے‘‘۔ میں بذریعہ خط جنجوعہ صاحب کوو صولی کی رسید بھجوا چکا ہوں۔ شکریہ اس لئے ادا نہ کروں گا کہ بہت رسمی معمولی لفظ ہے۔ مجھے اس قابل سمجھنا میری خوش قسمتی اور جنجوعہ صاحب کی عالی ظرفی ہے۔دوسری کتاب ہے’’میں ہوں ملالہ‘‘ جو ملالہ یوسف زئی اور کرسٹینالیمب کا مشترکہ کارنامہ ہے۔ 369صفحات پر مشتمل اس کتاب پر کچھ کہنے سے پہلے دو باتیں۔ ملالہ کا اپنے انگریزی دستخط کے ساتھ اردو میں لکھے نوٹ کو میں نے بہت انجوائے کیا۔ خصوصاً اس کی ہینڈ رائٹنگ جو بالکل ویسی ہی ہے جیسی آج کل کے بچوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے زمانے میں خوش خطی پر بہت فوکس تھا۔ اب یہ ترجیحات میں شامل نہیں کہ’’ہم رہ گئےہمارا زمانہ چلا گیا‘‘۔ یہ آپ بیتی سادگی، برجستگی اور روانی کی عمدہ مثال ہے جس کی روشنی میں اک مختلف پاکستان اور اک مختلف نسل کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اپنی وادی اور کلچر سے لے کر والدین، بہن بھائیوں سے تعلق،چھوٹی سی عمر میں اندرون اور بیرون ملک بڑے بڑے تجربات سے گزرنے والی ملالہ قابل فخر بیٹی ہے جسے قابل فخر بنانے میں اس کے والد کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے۔ کتاب میں جہاں جہاں ابو ملالہ اور کرسٹینا کے ’’اثرات‘‘ نمایاں ہیں، صاف محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ کتاب کی اک اہم خصوصیت یہ کہ تلخی نام کو نہیں جو خوشگوار حیرت کو جنم دیتی ہے ورنہ سچ وہی جو ساحر نے’’تلخیاں‘‘ میں بیان کیا تھا؎دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میںجو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میںملالہ نے’’گولی‘‘ کے جواب میں’’معافی‘‘ لکھی ہے۔تیسری کتاب ہے بی پی ایل بیدی کی’’سرگنگارام‘‘۔ اک ایسے فرد کی طلسم ہوشربا جو اپنی زندگی میں ہی ایسا ادارہ بن گیا جو آج تک قائم ہے اور دونوں ملکوں میں قائم۔ مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ سرگنگا رام کے والد انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں یوپی کے ضلع مظفر نگر سے ہجرت کرکے مانگٹانوالہ تشریف لائے تھے جو ننکانہ صاحب سے چودہ میل کے فاصلے پر آباد تھا۔ یہ ایک سادھو صفت کے عزم و ہمت، ایثار، انکسار اور انسان دوستی کی لازوال داستان ہے۔چوتھی کتاب سلمیٰ خلیل کی ہے۔ عنوان’’جمہوری سیاست کی تعمیر نو اور قرآن‘‘ سچ یہ ہے کہ مردوں کو بھی ایسا کام کم کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ حیران کن اور شاندار۔ مجھے اعتراف ہے کہ مزید دو تین بار پڑھے بغیر میں اس پر تبصرہ کے قابل بھی نہیں حالانکہ میری تربیت ہی تصویر کا تیسرا رخ دیکھنے کی ہے۔ کاش! یہ کتاب حکمرانوں کے نصاب میں شامل کی جاسکتی ۔سلمیٰ خلیل تعارف میں خود لکھتی ہیں۔’’کیا ہم اسی طرح خود اپنا خون پیتے رہیں گے؟ اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے دنیا کا تماشا بنے رہیں گے۔ اگر احکام خداوندی کی قدروقیمت کھوئی ہی گئی ہے تو اس میں سے کچھ تو یاد ہوگا۔ آخرت پر ایمان اگر یاد ہے تو خدا کے لئے نہ سہی، اپنے لئے سہی، اپنے فیصلے کے دن کے لئے کچھ کرلو۔’’تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن‘‘۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، ظواہر پر بھی بہت زور ہے، صوم وصلوۃٰ پر بھی خوب ہے لیکن آپس کے معاملات مکمل طور پر بھلائے ہوئے بھیانک نتائج بھگت رہے ہیں، سوچنے پر آمادہ نہیں، سننے کو تیار نہیں کہ جو دنیا ہار گئے ان کی آخرت؟ کہ زندگی ہی تو آخرت کی ابتدا اور اس کا دیباچہ ہے۔حقوق العباد، اخلاقیات، عبادات، آداب، ضابطہ حیات کی طرف کوئی لوٹنا چاہے تو یہ کتاب ستارہ بھی، اشارہ بھی، کنارہ بھی، سہارا بھی اور استعارہ بھی لیکن کوئی اونٹ کو دریا تک ہی لے جاسکتا ہے، پانی تو اسے خود ہی پینا ہوتا ہے اور بدبختی کی انتہا یہ کہ کوئی دریا کنارے پیا سا مرجائے۔

تازہ ترین