آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیڈر ہو یا کوئی بھی اہم شخصیت، وہ اپنے کارناموں، کردار، عظمت، ایثار اور کامیابیوں سے تاریخ میں اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی اور جگہ پاتی ہے۔ قائد اعظم بابائے قوم اور بانی پاکستان ہیں۔ وہ اپنی ذہانت، سیاسی کردار اور کامیابیوں کے سبب عالمی لیڈروں اور تاریخ ساز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ موضوع تفصیل طلب ہے لیکن میں نہایت مختصر انداز سے اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے اس خاکے میں رنگ بھر کر آپ کو ایک ایسی تصویر دکھانے کی کوشش کروں گا جس سے آپ کے ذہنوں میں ایک معیار کے خطوط مرتب ہوجائیں ۔
1945-46کے انتخابات مسلمان قوم، مسلم لیگ اور قائد اعظم کے لئے زندگی و موت کا سوال تھے کیونکہ ان انتخابات نے مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا۔ سندھ میں جی ایم سید مسلم لیگ کی مخالفت میں ڈٹے ہوئے تھے۔ چند صوبائی لیڈران قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلم لیگ کے فنڈز سے ایک مخصوص رقم مانگی جس سے وہ سیاسی خرید و فروخت کرکے جی ایم سید کو ہرانا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کا جواب نہایت سیدھا تھا کہ میں سیاسی کرپشن اور وفاداریوں کی خرید کے بجائے سیٹ ہارنے کو ترجیح دوں گا۔ جائیں اور میدان میں شفاف مقابلہ کریں۔ وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔ اسی طرح کے 1946 کے انتخابات کے حوالے سے کئی واقعات ہیں لیکن کالم کا دامن محدود ہے۔

قائد اعظم جلسہ گاہ میں پہنچے تو نعرہ بلند ہوا شہنشاہ پاکستان، اسی طرح کا ایک پرچم بھی ہوا میں لہرا رہاتھا۔ قائد اعظم نے شہنشاہ کہنے والوں کو سختی سے منع کیا اور اس پرچم کو فوراً ہٹوا دیا کیونکہ وہ خوشامد اور القابات کے شدید خلاف تھے۔ اے ڈی سی گل حسن کا بیان ہے کہ قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل کبھی کبھار اتوار کے روز کراچی کے قرب و جوار میں چلے جاتے تھے۔ قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح ملیر سے واپس آرہے تھے تو ریلوے پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے رکنا پڑا۔ قائد اعظم کے پیچھے صرف ایک کار کی اجازت تھی جس میں سیکورٹی آفیسر موجود ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی پروٹوکول اور نہ ہی کوئی آگے ہٹو بچو۔ کار رکی تو کیپٹن گل حسن اپنے طور پر پھاٹک کے چوکیدار کے پاس گئے اور اسے چند لمحوں کے لئے گیٹ کھولنے کا کہا کیونکہ دور دور تک گاڑی کا نشان نہیں تھا۔ پھاٹک کھل گیا اور گل حسن واپس آ کر گورنر جنرل کی کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ قائد اعظم نے ڈرائیور عزیز کو گاڑی چلانے سےمنع کردیااور گل حسن سے کہا کہ فوراً واپس جائو اور پھاٹک بند کرائو۔ گل حسن تعمیل حکم کے بعد واپس پہنچا تو قائد اعظم نے کہا’’ گل اگر میں قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو میں دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھوں‘‘۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر بے چینی پھیل رہی تھی۔ قائد اعظم نے مارچ 48میں مشرقی پاکستان کے دورے کا ارادہ کیا۔ سیکرٹریٹ سے فائل آئی کہ قائد اعظم کے آرام کی خاطر نجی ائیر لائن کا طیارہ چند ہزارپائونڈ میں چارٹر کروا لیا جائے کیونکہ گورنر جنرل کا چھوٹا طیارہ ایک اڑان میں ڈھاکہ نہیں پہنچ سکتا اس لئے ہندوستان میں ’’فیول‘‘ کے لئے رکنا پڑے گا۔ قائد اعظم نے لکھا’’میرے غریب ملک کا خزانہ غیر ضروری اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ گورنر جنرل کے ڈیکوٹا طیارے میں فیول کا ایک اور ٹینک لگادیا جائے کیونکہ میں ہندوستان میں اترنا نہیں چاہوں گا، چنانچہ اسی طرح کیا گیا اور ہزاروں پائونڈ بچا لئے گئے۔ زیارت میں علیل پڑے تھے اور بھوک بہت کم ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے ایک ماہر باورچی کو لاہور سے بلوایا جس کا پکایا ہوا کھانا قائد اعظم نے رغبت سے کھایا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ باورچی باہر سے بلایا گیا ہے۔ فوراً چیک بک منگوائی اور اس کا سارا خرچہ اپنی جیب سے ادا کیا۔ مسز اکرام وہ نرس تھی جو زیارت میں قائد اعظم کی خدمت کرتی تھی۔ ایک دن پریشان لگی تو قائد نے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ مسزاکرام نے بتایا کہ اس کا خاوند بھی سرکاری ملازم ہے۔ ہم دو مختلف مقامات پر تعینات ہیں اگر ایک جگہ پر اکٹھے ہوجائیں تو پریشانی رفع ہوجائے گی۔ قائد اعظم نے جواب دیا، تمہارا مسئلہ بالکل جائز ہے اور حکومتی مشینری کو مدد کرنی چاہئے لیکن میں سفارش کرکے پاکستان میں سفارش کلچر پروان نہیں چڑھانا چاہتا ۔ قائد اعظم کے دوست اور امریکہ میں سفیر جناب اصفہانی بیمار پرسی کے لئے آئے تو تجویز دی کہ بیرون ملک علاج کروائیں یا اجازت دیں تو میں امریکہ سے کوئی ماہر ڈاکٹر بھجوادوں۔ قائد اعظم کا جواب نفی میں تھا، کہا میں ملکی خزانے پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ یہی اصفہانی صاحب جب چند ماہ قبل گورنر جنرل ہائوس میں قائد اعظم سے ملنے آئے تو لکھتے ہیں کہ قائد اعظم ڈنر کے بعد مجھے خدا حافظ کہنے باہر آئے تو ساتھ ہی ساتھ برآمدے کی غیر ضروری بتیاں بجھاتے جاتے تھے۔ سیڑھیوں پر رخصت ہوتے ہوئے میں نے مسکرا کر کہا کہ آپ بتیاں بجھا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب تم سیڑھیاں اتر جائو گے تو میں یہ بتی بجھا کر واپس جائوں گا۔ ملکی خزانے اور قومی امانت کا اتنا احساس؟ کیا آپ کو اپنی تاریخ میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے؟ پاکستان بنے چند ماہ گزرے تھے ۔ ایک روز اے ڈی سی نے آپ کے سامنے ایک وزٹنگ کارڈ رکھا۔ کارڈ پر نام کے بعد لکھا تھا برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح گورنر جنرل پاکستان۔ گویا قائد اعظم کا بھائی ملنے آیا تھا۔ آپ نے قلم اٹھایا اور اس کے نام کے سوا سب کچھ کاٹ کر کارڈ اے ڈی سی کو دیا اور کہا کہ اسے کہو صرف اپنے نام کا کارڈ بنوائے، میرا ذکر بالکل نہ کرے اور آئندہ وقت لے کر ملنے آئے یہ اقرباء پروری کی روایت کو ختم کرنے کی بہترین مثال تھی۔ وہ چاہتے تو اپنی بہن یا بھائی یا کسی رشتے دار کو سیاست میں لاتے، سرپرستی کرکے اقتدار میں بٹھا دیتے لیکن یہ خیال کبھی ان کے قریب سے بھی نہ گزرا۔ کابینہ کی میٹنگ تھی جس پر گورنر جنرل کو صدارت کرنی تھی۔ اے ڈی سی نے پوچھا سر میٹنگ میں کیا(Serve)کیا جائے۔ جواب ملا وزراء یقیناً گھروں سے ناشتہ کرکے آئیں گے۔ خالی چائے مناسب ہوگی، اسے کہتے ہیں سادگی اور امانت۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قیام اور افتتاح کی تقریب تھی۔ گورنر جنرل بالکل وقت پر پہنچے۔ اسٹیج پر گورنر جنرل کے ساتھ وزیر اعظم کی کرسی رکھی تھی جو کسی وجہ سے لیٹ ہوگئے۔ قائد اعظم نے اسٹیج سے ان کی کرسی اٹھوا دی۔ لیاقت علی خان تقریب شروع ہونے کے بعد پہنچے اور آکر نیچے کھڑے ہوگئے۔ مقصد وقت کی پابندی کا پیغام دینا اور مثال قائم کرنا تھا۔ رعنا لیاقت علی لکھتی ہیں کہ ایک بار مسلم لیگ کے اجلاس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ ہر سال انتخاب کے بجائے قائداعظم کو مستقل صدر بنادیا جائے۔ قائد اعظم نے سختی سے اس تجویز کو مسترد کردیا اور کہا کہ میں جمہوری اور آئینی روایات کے خلاف کچھ نہیں کروں گا۔ میں ہر سال آپ کے سامنے پیش ہوں گا۔پریوی کونسل میں پریکٹس کرتے تھےاور لندن میں آباد ہوگئے تھے۔ وہاں ایک خوبصورت گھر خریدا ہوا تھا جس کے سامنے باغ باغیچہ بھی تھا۔ ہندوستان واپسی کا قصد کیا تو وہ خوبصورت گھر بیچ دیا اور پھر زندگی بھر ہندوستان یا پاکستان سے باہر کوئی اثاثہ نہ رکھا۔ شاندار وکالت کی اور سرمایہ کاری کی جس سے خوب دولت کمائی۔ مسلم لیگ کے صدر بنے تو اپنے خرچ پر سفر کرتے اور مسلم لیگ کی میٹنگوں اور جلسوں میں شریک ہوتے۔ 1939ہی میں وصیت لکھوادی اور اپنی تمام جمع پونجی میں قریبی رشتہ داروں کے حصوں کے بعد ساری رقم قومی اداروں ، انجمن اسلامی ا سکول بمبئی، عربیک کالج دہلی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، اسلامیہ کالج پشاور اور سندھ مدرستہ اسلام کراچی میں تقسیم کردی۔
کیا ہماری تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال ہے کہ لیڈر نے اپنی تمام جمع پونجی قوم پہ نچھاور کردی ہو۔ بےشمار واقعات سے درج ذیل اصول اور معیار اخذ کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی لیڈر کو بھی قائد اعظم ثانی قرار دینے کے لئے یہ دیکھا جائے کہ کیا وہ اس معیار پر پورا اترتا ہے؟ (1)اس نے زندگی بھر کبھی سیاسی کرپشن نہ کی ہو اور نہ ہی وفاداریوں کی خرید و فروخت میں ملوث رہا ہو،(2)ملکی قوانین پر سختی سے عمل کیا ہو اور قانون کی حکمرانی کے لئے مثالیں قائم کی ہوں،(3)قومی خزانے سے ایک رو پے کے ضیاع کا بھی الزام نہ ہو،(4)قومی خزانے سے بیرون ملک علاج سے اجتناب کیا ہو اور شان و شوکت، پروٹوکول کی نفی کی ہو،(5)ملک سے باہر کوئی اثاثے نہ ہوں نہ بینک اکائونٹ، (6)اقرباءپروری، دوست نوازی، خوشامد پرستی کا الزام ہو نہ ہی حکومتی عہدے میرٹ کو پامال کرکے خوشامدیوںمیں بانٹے ہوں،(7)قومی خزانے سے اپنی ذات پر ایک ایک پائی کا حساب رکھا ہو اور راتوں کو سرکاری گھر کی بتیاں بجھاتا ہو، (8)کبھی سفارش کی ہو نہ رولز کی خلاف ورزی، (9)وقت کی پابندی اور حکومتی سادگی کی مثال ہو، (10)موت سے قبل اپنی تمام جمع پونجی قوم کو دے دی ہو ، میں نے فقط چند موٹے موٹے اصولوں پر قائد اعظم ثانی کے لئے معیار مرتب کیا ہے ورنہ کئی اہم باتیں رہ گئی ہیں۔ اس معیار پر پرکھ کر آپ جسے چاہیں قائد اعظم ثانی بنادیں مجھے تو اپنی تاریخ میں کوئی بھی قائد اعظم ثانی نظر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی لیڈر بھی ان میں سے کسی ایک اصول پر بھی پورا نہیں اترتا۔ قائد اعظم ایک ہی تھا اور ان شاء اللہ ایک ہی رہے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں