آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے عمل میں اس ملک میں جس طرح جمہوریت کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی اس پر تما م جمہوریت پسند رنجیدہ ہیں۔ جس طرح راتوں رات وفاداریاں تبدیل کی گئیں،جس طرح غیر سیاسی قوتوں کی پشت پناہی پر ارکان کی خرید و فروخت ہوئی، جسطرح مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس سلسلے میں ہر فورم پر بہت تبصرے ہو چکے ہیں ، بہت سے پروگرام کئے جا چکے ہیں، بہت سے کالم لکھے جا چکے ہیں۔لیکن جمہوریت کی اس ہزیمت پر کہے کچھ لفظ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد سینیٹرحاصل بزنجو اور سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی تقاریر نے اس بات کی قلعی کھول دی کہ اس ملک میں کس قسم کی بھی جمہوریت ہے یا عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کا فیصلوں میں کوئی بھی عمل دخل ہے۔ ان دو تقاریر کا ایک ایک لفظ سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ خصوصا سینیٹر عثمان کاکڑ نے جس طرح جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی تقسیم بتائی، اس حوصلے اور جرات سے بات کرنے کی استطاعت کم ہی لوگوں میں ہے۔ عثمان کاکڑ اگر چہ پرانے سیاسی کارکن ہیں لیکن اس ایک تقریر سے یکدم سارے ملک کے ہیرو بن گئے ہیں۔ ان کا تعلق پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ پشتونوں کے حقوق کا علم اٹھائے ، یہ نظریاتی لوگ ہیں ۔ دہائیوں سے جمہوریت کے لئے جدوجہد کر

رہے ہیں۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر رہنے کے باوجود نہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام ہے نہ ہارس ٹریڈنگ انکی سرشت میں ہے نہ لائسنسوں اور پرمٹوں کی سیاست کے یہ روادار ہیں۔ ان پر ہمیشہ سے الزام جمہوریت پسند ہونے کا ہے اور آج تک یہ بڑی خوشدلی سے اس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ گزشتہ دنو ں سینیٹر عثمان کاکڑسے ایک ملاقات ہوئی ،ان کی مہمان نوازی کا لطف دیر تک قائم رہا۔ جس وثوق ، تیقن اور اٹل انداز کے ساتھ ملکی مسائل پر سینیٹر صاحب نے گفتگو کی وہ انہی کا خاصہ ہے۔اس ملاقات میں کی گئی چند باتیں ہی آج کا کالم ہیں۔ چونکہ یہ ملاقات کوئی باقاعدہ انٹرویو نہیں تھی اس لئے اگر بیان میں کوئی زیر زبر ہوجائے تو معذرت خواہ ہوں۔
عثمان کاکڑ اس بات پر بڑی شدت سے قائم ہیں کہ ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد سے آج تک اس ملک میں انتقال اقتدار نہیں ہوا ہے اسکے بعد جو کچھ ہوا ہے اس کو شراکت اقتدار ضرور کہا جا سکتا ہے، انتقال اقتدار نہیں۔ امریکہ کی اس جنگ میں ہم نے خود کو جھونک کر برباد کر لیا ہے۔ دہشت گردی کو پنپنے کا موقع دیا ہے۔ اس سارے کھیل میں نہ پارلیمان کی کوئی حیثیت تسلیم کی گئی نہ عوامی رائے کو کوئی اہمیت دی گئی۔ آج تک ہم اسی جنگ کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ اس دن کے بعد سے جمہوریت میں آمرانہ عناصر کسی نہ کسی شکل میں کارفرما رہے ہیں۔ جمہوریت آج تک ضیاء الحق کے قبضے سے آزاد نہیں ہوئی۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے حکومت وقت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دھرنا ون میں جب غیر جمہوری قوتوں کی شمولیت کا انکشاف ہو گیا تھا تو حکومت کو بھرپور احتجاج کرنا چاہئے تھا۔کسی طرح بھی غیر جمہوری عناصر کے اس جرم کو معاف نہیں کرنا چاہئے تھا۔ چاہے اس کے لئے اقتدار کی بھی قربانی دینی پڑ جاتی۔ لیکن حکومت نے سمجھوتے کی پالیسی اپنائی اور پھر سرنگوں ہوتی ہی رہی۔ کبھی ڈان لیکس پر سر جھکایا ، کبھی سینیٹر پرویز رشید کو برخواست کیا، کبھی طاہرا لقادری کو برداشت کیا ، کبھی خارجہ پالیسی پر غیر جمہوری قوتوں کو من مانی کرنے دی اور حتیٰ کہ خاد م رضوی تک سے مفاہمت کی راہ تلاش کرتے رہے۔ حکومت کو ان باتوں پر کبھی مفاہمت کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ پوری شدت سے غیر جمہوری قوتوں کے ایک، ایک اقدام پر مزاحمت کرنی چاہیے تھی۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ راجہ ظفر الحق کی نامزدگی بھی ایک طرح کا سمجھوتہ ہی تھا۔ پرویز رشید، مشاہد اللہ خان اور حاصل بزنجو بہت بہتر امیدوار تھے۔ ہم آخری لمحے تک رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کے لئے کوشش کرتے رہے مگر اس جمہوریت پسند چیئرمین کی تعیناتی کے راستے میں پیپلز پارٹی آڑے آ گئی۔بے نظیر شہید کے پاس بھی 1988 میں موقع تھا کہ وہ عوام کا حق حاکمیت منوا سکتی تھیں مگر انہوں نے بھی اقتدار کی خاطر غیر جمہوری قوتوں سے سمجھوتے کیے اور پھر اس کا خمیازہ اس سارے ملک کو بھگتنا پڑا۔ ا نہوں نے میاں نواز شریف کے موجودہ نعرے ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تائید کی اور کہا کہ یہی راستہ بہتر مستقبل کی طرف جاتا ہے اسی سے عوام کو حق حاکمیت ملے گا۔
جنرل مشرف کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ایساشخص جس نے اس ملک کے آئین کو پامال کیا، عوامی اداروں کی توہین کی، عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑایا، غیر آئینی طریقوں سے خود کو پارلیمنٹ سے بالا دست ثابت کیا ، ایسے شخص کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے ۔ میرے استفسار پر کہ بات تو درست ہے لیکن کیا ایسا ہو سکے گا؟ تو عثمان کاکڑ نے جواب دیا کہ حالات کی موجودہ روش کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نظر نہیں آتا لیکن جب تک ایسانہیں ہو گا ملک کے حالات نہیں بدلیں گے۔
آئندہ انتخابات کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ابھی الیکشن میں بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ نگران حکومتوں کے قیام سے پہلے بہت ضروری ہے کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے جس میں صرف تین نکاتی ایجنڈا ہو۔ پارلیمان کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، عوام کے حاکمیت پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔ غیر جمہوری قوتوں سے کسی قسم کی شراکت داری نہیں ہوگی، نگران حکومتوں کو صرف شفاف انتخابات کروانے کا پابند کیا جائے گا۔ جو پارٹیاں اس کانفرنس میںشامل ہو کر اس ایجنڈے پر عمل کریں گی وہی سیاست کے لائق کہلائیں گی اور جو اس ایجنڈے کا بائیکاٹ کریں گی وہ کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ عوام خود ان کو مسترد کر دیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ انتخابات میں مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کی جغرافیائی اور نظریاتی کوشش کی جائےگی ۔ جیسا کہ بلوچستان میں ابھی سے تاثر مل رہا ہے کہ انکی پارٹی کو کامیابی حاصل کرنے سے ہر ممکن حد تک روکا جائے گا لیکن ہم ان دھمکیوں کی پروانہیں کرتے ہم پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نےاس المیے پر شدید غم کا اظہار کیا کہ اب جو کچھ جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے وہ جمہوریت نہیں ہے۔ کہنے کو سینیٹ کے انتخابات آئین کے مطابق ہوئے ہیں مگر ان میں پوشیدہ قوتوں کے اثرات کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت اس وقت قائم ہو گی جب پارلیمان کو سب سے بالا دست تسلیم کیا جائے گا۔ اس کی حکمرانی کو اٹل مانا جائے گا۔ اس کے فیصلوں کو توقیر دینے کی روایت پڑے گی تو ہم جمہوری کہلا سکیں گے۔ دنیا کے سات ارب لوگ اور 193ممالک مدتوں پہلے اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ جمہوریت میں راہ نجات ہے اور ہم ابھی تک اس مسئلے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ اب نیا دور آچکا ہے ، یہ نیا زمانہ ہے اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو ووٹ کی تقدیس ہی رستہ ہے۔ عوام کا حق حاکمیت ہی ارفع ہے۔ہمارے علاقے میں دہائیوں سے اس منزل کو پانے کے لیے جدوجہد ہو رہی ہے پہلی دفعہ ہے کہ پنجاب بھی اس جدوجہد میں ہم آواز ہوا ہے۔
ملاقات کا وقت کم تھا لہٰذا جلدی میں ایک آخری سوال کیا کہ جس ملک میں غیر جمہوری قوتیں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر چکی ہوں وہاں کیا ایک تقریر سے ، ایک جماعت سے ، ایک حکومت سے، ا ن کو یک دم شکست دی جا سکتی ہے؟ میرے سوال پر سینیٹر صاحب خاموش ہو گئے۔ میںنے بھی سلام کیا اور اجازت چاہی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں