آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی ایشیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ بہتری آرہی ہے۔ ان حالات میں ایرانی وزیرخارجہ جوادظریف کا حالیہ دورہ پاکستان خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرخارجہ خواجہ آصف، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ سے اہم ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات و علاقائی امن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ایرانی وزیرخارجہ جوادظریف کی ملاقاتوں میں اقتصادی وعسکری تعاون کو فروغ دینے،دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نتیجے میں2021تک تجارتی حجم5ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ ایران پاکستان کی سرحد تک کسی بھی وقت گیس کی فراہمی کرنے کے لئے تیار ہے اور پاکستان اگر چاہے تو ایران گوادر کے ذریعے سی پیک کابھی حصہ بن سکتا ہے۔ مزیدبرآں چین کے ساتھ گیس کی منصوبوں کے لئے تیار ہیں۔واقفان حال کاکہناہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جوادظریف کے ساتھ پاکستانی عسکری قیادت کی ملاقات میں خطے کی صورتحال پرمفصل بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی اطمینان کااظہارکیا گیا۔پاکستان اور ایران کے دیرینہ

تعلقات مذہب،تجارت،ثقافت کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ایران ہی وہ برادر اسلامی ملک ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔پاکستان نے ہر موقع پر ایران کے ساتھ دوستی کارشتہ نبھایا ہے۔چند سال قبل ہندوستان کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوئے مگر جلد ہی یہ دوریاں بھی ختم ہوگئیں۔ افغانستان میں قیام امن کامعاملہ پاکستان اور ایران کے لئے بڑااہم ہے۔ماضی میں دونوں ممالک وہاں قیام امن کے لئے اپنا کردار اداکرتے رہے ہیں۔گزشتہ برس نومبر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ کاموجودہ دورہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔پاکستانی آرمی چیف نے اپنے دورہ ایران کے دوران پاکستان ایران سرحد کو امن اور دوستی کابارڈر قراردیا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کے شمالی علاقے ایران کے زیراثرہیں۔شمالی اتحاد کو ایرانی سپورٹ حاصل ہے۔اسی طرح افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کاگہراتعلق ہے۔اگر پاکستان اور ایران دونوں ملک چین کے ساتھ مل کر کوششیں کریں توافغانستان کاپائیدار حل نکالاجاسکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان کو چاہ بہار کے منصوبے اور اسے گوادر سے جوڑنے کی پیشکش خوش آئند ہے۔ پاکستان کو اس پیشکش کامثبت جواب دینا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیابھرکی نظریں پاک چین اقتصادی راہداری پر ہیں۔سی پیک کی کامیابی سے پاکستان،چین سمیت خطے کے تمام ممالک کوفائدہ ہوگا۔چین اور پاکستان کامعاشی استحکام امریکہ اور بھارت کوبرداشت نہیں ہورہا۔اس لئے وہ اس عظیم منصوبے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں بھارتی موجودگی بھی اسی لئے ہے کہ وہ گوادر بندرگاہ کوکامیاب ہوتادیکھنا نہیں چاہتا۔ایرانی حکومت کاموقف ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ مسابقت کاماحول پیداکرے گی اور اس سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔لیکن پاکستان کی تشویش درست ہے کہ ہندوستان کی چاہ بہار میں موجودگی پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے خطرناک ہے۔ ایران کو پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے پیش نظر انڈیا کو چاہ بہار منصوبے سے باہرنکالنا چاہئے۔ کیونکہ چین کبھی نہیں چاہے گا کہ ہندوستان چاہ بہار میں اپنے اڈے بنا کر گوادر پورٹ کے لئے مشکلات کھڑی کرے۔ اگر ایران پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتاہے تو اسے پھر انڈیا سے اپنی جان چھڑانا ہوگی۔پاکستان کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ وہ آخر کس طرح چاہ بہار سے ہندوستانی عمل دخل ختم کرسکتا ہے؟ اس سلسلے میں ایرانی حکومت سے مل کر چلنا چاہئے اور مستقبل میں پاک چین اقتصادی راہداری میں ایران کو پوری طرح شریک کرنا وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ کیونکہ ایران کے ساتھ چین اور پاکستان کے بہتر تعلقات افغانستان میں امن کے لئے ازحدضروری ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں انرجی بحران ختم ہوسکتاہے۔چاہ بہار اورگوادرکی بندرگاہیں ایک دوسرے کی معاون بن سکتی ہیں۔انڈیا اپنے اوچھے اور منفی ہتھکنڈوں سے پاکستان کو معاشی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
اس وقت پاکستان کی طرح ایران کو بھی دہشت گردی کے عفریت کاسامنا ہے۔ افغانستان میں امریکی سرپرستی میں داعش کا بننا ایران کے لئے پریشان کن ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ داعش کے سیلاب پر افغانستان میں بند باندھا جائے۔ شام، یمن، لیبیا اور عراق میں پہلے ہی حالات شدیدخراب ہیں۔ اب اگر ایران میں بھی خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے تو اُس کا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہوگا۔ پاکستان اور ایران اس معاملے میں خاصے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد مسلم ممالک کو ہی کیوں دہشت گردی کانشانہ بنایا گیا؟ ریاست میری لینڈکی امریکی یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ پندرہ سال میں دنیا بھر میں دہشت گردی کا75فیصد ہدف مسلمان ممالک بنے۔ اسی طرح 2001سے2015کے دوران دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ67ہزارہلاکتیں ہوئیں جن میں سے98فیصد ایک لاکھ 63ہزار ہلاکتیں امریکہ اور مغربی یورپ سے باہر مسلمان ممالک میں ہوئیں۔ ان ہلاکتوں میں نائن الیون کے حملے کی تین ہزار ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اسلامی ممالک بیرونی طاقتوں کی دہشتگردی کاشکار ہیں۔ خود امریکہ نے افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ امریکہ کے عراق سے نکل جانے کے بعد سے اب تک مشرق وسطیٰ کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے۔ یمن، شام، لیبیا میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ شام میں امریکہ اور روس دونوں مل کر مسلمانوں کی نسل کشی کررہے ہیں۔ دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی ممالک نے مسلمان ملکوں میں خانہ جنگی کی سرپرستی جاری رکھی ہوئی ہے ،اگر یہی صورتحال رہی تو امریکہ اور یورپی ممالک بھی نہیں بچ سکیں گے۔ دہشت گردی کی آگ ایران کے لئے بھی تباہ کن ثابت ہوگی۔ پاک ایران تعلقات میں بہتری کیلئے دونوں ملکوں کوکھلے دل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ایران کو افغانستان سے داعش کا خطرہ ہے جو کسی بھی وقت ایران کے لئے کئی مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔ افغانستان میں ایران اور پاکستان کا اثر و نفوذ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ افغانستان کے عوام بھی پاکستان اور ایران پر اعتماد کرتے ہیں۔دونوں ملک افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈ رز کوساتھ ملاکے امن عمل کے لئے کوششیں کریں تو بہت جلد حالات معمول پر آسکتے ہیں۔ انڈیا کاافغان سرزمین سے عمل دخل ختم ہونے سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔
پاکستان اور ایران کے مشترکہ تعاون سے دونوں ملکوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان بھارتی مکروہ عزائم سے نمٹ سکتا ہے اور ایران امریکی ریشہ دوانیوں کامقابلہ کرسکتا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اور چین کے ساتھ اشتراک عمل کی ایرانی خواہش سے خطے میں امن اور خوشحالی آسکتی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں