آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے پاکستان کے تینوں چھوٹے صوبے شکایت کرتےرہے ہیں کہ ان کے ساتھ فلاں فلاں شعبوں میں ناانصافی ہورہی ہے اور ان کو اپنے حقوق نہیں مل رہے ہیں‘ پہلے تو ملک میں کوئی آئین ہی نہیں تھا‘ ملک پہلے ایک گورنر جنرل غلام محمد کی تحویل میں تھا‘ وہ جو چاہتے وہ کرتے‘ اس کے بعد مارشل لائوں کے دور شروع ہوئے‘ پہلے ملک غلام محمد سویلین ڈریس میں چھوٹے صوبوں کو دبائو میں رکھتےتھے‘ ملک صاحب نے تو اس وقت کے بڑے صوبے مشرقی پاکستان کو بھی نہیں بخشا‘ قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد بن گئے اور بڑی ’’دریا دلی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے عوام دوست سیاستدان خواجہ ناظم الدین کو پاکستان کا وزیر اعظم بنایا گیا مگر ابھی کچھ دن ہی گزرے ہوں گے کہ گورنر غلام محمد کے احکامات کے تحت اچانک خواجہ ناظم الدین کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو شاید امریکہ ‘ سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کے مطابق وقتی طور پر پاکستان کا وزیر اعظم نامزد کردیا گیا مگر جلد ہی انہیں بھی گھر بھیج دیا گیا اور ملک ایک طویل عرصے تک مارشل لائوں کی تحویل میں آگیا‘ اس عرصے کے دوران نہ فقط بڑے صوبے مشرقی

پاکستان مگر تین چھوٹے صوبوں کے ساتھ جو حشر ہوا یہ شاید دنیا کی سیاہ ترین تاریخ ہو‘ اس دوران کیا کیا نہ کیا گیا‘ لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے‘ وقت آرہا ہے کہ بڑا صوبہ جس کی اکثریت Parity کے نام پر ختم کردی گئی تھی‘ اس نے جو راستہ اختیار کیا اور اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ہمارے سامنے ہے‘ فقط بڑے صوبے کے ساتھ ایسانہیں کیا گیا بلکہ تینوں چھوٹے صوبوں کی صوبائی حیثیت ختم کرکے ون یونٹ کے نام بنا دیا گیا۔اس دوران ان تینوں چھوٹے صوبوں کے ساتھ کئی نا انصافیاں ہوئیں ‘ باقی دو چھوٹے صوبوں کے عوام کی آرا کا تو علم نہیں مگر سندھ کے عوام اس عرصے کو نہیں بھولے۔ اطلاعات کے مطابق ون یونٹ کے دوران سندھ میںجس طرح اقتصادی‘ سیاسی‘ انتظامی اور ثقافتی لوٹ مار ہوئی اس کی مثال سندھ کی ہزاروں سال کی تاریخ نہیں ملتی۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت سندھ کے محققین ون یونٹ کے دوران سندھ کے وسائل جس بیدردی کے ساتھ ملک کے دیگر علاقوں اور خاص طور پر بڑے صوبے کو منتقل کیے گئے ،اس بارے میں تفصیل سے اعداد و شمار جمع کررہے ہیں۔ شاید وہ وقت دور نہیں جب سندھ کے کئی سیاسی گروپ ان اعداد و شمار کو جمع کرکے اس لوٹ مار کا حساب مانگنے کے لئے کوئی تحریک چلائیں۔ فی الحال میں سندھ کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں کو یہاں مختصر کرکے بلوچستان کا ذکر کروں گا۔ سینیٹ کے الیکشن میں جو کھلواڑ کیا گیا ہے اسے بلوچستان کی بے پناہ عزت افزائی کا نام دیا جارہا ہے‘ جناب اگر بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنی ہیں تو سب سے پہلے بلوچستان سے استعمال کی گئی گیس کا بلوچستان کے عوام کو حساب دیا جائے‘ یہ بتایا جائے کہ یہ گیس جسے سوئی گیس کہا جاتا ہے کب سے بلوچستان سے نکالی جاتی رہی اور اس سے کون سا علاقہ فائدہ اٹھاتا رہا جبکہ بلوچستان محروم رہا‘ گیس اور تیل کے حوالے سے تو سندھ کا بھی ایک مضبوط کیس بنتا ہے مگر اس کا ذکر بھی کسی اور وقت کریں گے‘ دراصل میں نے یہ کالم خیبرپختونخواکے حوالے سے لکھنے کا ارادہ کیا مگر محرومیاں ان تینوں چھوٹے صوبوں کی اتنی مشترکہ ہیں کہ کے پی سے پہلے میں سندھ اور بلوچستان کا ذکر کر بیٹھا۔
میرے پچھلے کالم کا عنوان تھا ’’پنجاب کی ضرورت تربیلا ڈیم نہیں کالا باغ ڈیم ہے‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے کالم میں پنجاب کے مفادات کے حوالے سے تربیلا اور کالا باغ ڈیم کی افادیت کا تقابلی جائزہ لینے کے لئے مختلف آبی ماہرین سے بات چیت کے دوران سند ھ کے ساتھ کے پی کا ذکر نکل آیا‘ اس وقت میری جن ماہرین سے بات چیت ہوئی ان کا تعلق سندھ سے تھا‘ اس بات چیت کا ماحصل یہ تھا کہ عالمی بینک کی مدد سے تربیلا ڈیم بنایا گیا‘ یہ ریزرو واٹر کے پی کے علاقے میں تھا‘ اس وقت کے پی کو صوبہ سرحد کہا جاتا تھا مگر آصف زرداری جب ملک کے صدر تھے تو انہوں نے سرحد صوبے کا نام تبدیل کرکے ’’خیبرپختونخوا‘‘ کا نام رکھا‘ اس طرح پختونوں کو اپنے صوبے کی شناخت مل گئی‘ اب میں کے پی کو آئینی شق پر عمل نہ کرتے ہوئے اسے پہنچنے والے نقصان کا ذکر کروں گا‘ ایک دن پہلے اس سلسلے میں میری بات چیت اے این پی کے ایک ممتاز رہنما و سینیٹر افراسیاب خٹک سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 73 ء کا آئین بناتے وقت نیپ کے سربراہ خان عبدالولی خان نے جو مطالبات کیے تھے ان میں ایک یہ مطالبہ تھا کہ آئین میں یہآرٹیکل شامل کیا جائے کہ تربیلا ڈیم میں ریزرو واٹر بنانے اور بجلی کی پیداوار ہونے پر کے پی ‘ کے لئے ایک خطیر رقم کی رائلٹی سالانہ ادا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے خان ولی خان کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا اور اس سلسلے میں ایک آرٹیکل شامل کردیا گیا مگر آئین منظور ہونے کے باوجود 18 سال تک کے پی کو رائلٹی نہیں دی گئی‘ بعد میں 1991ء میں جب وزیر اعظم نواز شریف نے 91کے پانی معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات کیے تو اے این پی کا مطالبہ تھا کہ آئین کے اس آرٹیکل میں ہر سال کے پی کو رائلٹی دینے کے لئے جو فارمولا پیش کیا گیا اس کے مطابق کے پی کو رائلٹی دی جائے‘ اس کے بعد اے جی این قاضی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی جس نے سفارش کی کہ اس سال کے پی کو 6 ارب کی رائلٹی دی جائے مگر افراسیاب خٹک نے بتایا کہ بعد میں ہر سال آئین میں دیئے گئے فارمولا کے مطابق رائلٹی دینے کی بجائے ہمیشہ کے لئے 6 ارب کی رقم فریز کردی گئی جبکہ یہ فیصلہ آئین کی متعلقہ شق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ہر سال جمع ہونے والے پانی کی مقدار اور اس سے تیار ہونے والی بجلی کی مقدار کو مدنظر رکھ کر آئین کے آرٹیکل کے عین مطابق ہر سال نئے سرے سے رائلٹی کی رقم کا تعین کیا جائے مگر ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں