آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ہر کوئی سیاست میں الجھا ہوا ہے ، معیشت پر کسی کی بھی توجہ نہیں ہے ۔ عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کی حالیہ ’’ پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ رپورٹ ‘‘ میں اس تشویش ناک امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی معیشت انحطاط کا شکار ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ پاکستان اپنے قرضے ادا نہیں کر سکے گا کیونکہ پاکستان کے تجارتی اور مالی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی مقررہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہو گئے ہیں لیکن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں اقتصادی صورتحال بہتر نظر آتی ہے، 2017ءاور 2018ءمیں معیشت کی شرح نمو 5.6فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ایک طرف تو پاکستانی معیشت کے انتہائی منفی اشاریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور دوسری طرف معیشت کی بہتری کی امید بھی دلائی گئی ہے ۔ آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی ادارے ، جن کے بل بوتے پر عالمی سرمایہ دارانہ نظام چل رہا ہے ، اسی طرح کی رپورٹس ہی تیار کرتے ہیں تاکہ ان اداروں کی جکڑ بندی کا شکار ممالک ان کے جال سے نکل نہ سکیں ۔اس لئے ان عالمی مالیاتی اداروں کو ’’ غربت کے آقا ‘‘ قرار دیا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اس رپورٹ سے کہیں زیادہ خطرناک صورت حال سے

دوچار ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر بجلی اور گیس کے ٹیرف بڑھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے ۔ روپے کی قدر میں مزید کمی کو رپورٹ میں ایک بہتر اقدام قرار دیا گیا ہے ۔ اگر عام انتخابات سے قبل حکومت بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں مزید کمی کرتی ہے تو یہ پاکستان کے عوام کےلئے انتہائی پریشان کن بات ہو گی شرح نمو میں اضافے کا جو امکان ظاہر کیا گیا ہے ، اس کا سبب رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں ہونیوالی سرمایہ کاری ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی اپنی معیشت میں کوئی صلاحیت نہیں ہے ۔ اب آتے ہیں اصل حقائق کی طرف ۔ اس وقت پاکستان میں وہ تمام ادارے خسارے میں ہیں ، جنہیں پاکستان کی معیشت کو چلانا تھا ۔ ان اداروں کی حالت کا اندازہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’ پی آئی اے کا قرضہ جو شخص ادا کر دے گا ، اسے پاکستان اسٹیل ملز مفت دے دی جائیگی ۔ ‘‘ پاکستان اسٹیل ملز پر سوئی سدرن گیس کا بل اتنا زیادہ ہے کہ بل کے بدلے مل دینے کی بات ہو رہی ہے ۔ اسی طرح بے شمار ادارے ایسے ہیں ، جنہیں سالانہ اربوں روپے کی سبسڈیز پر زندہ رکھا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے قرضے لینے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہی نہیں کیا ۔ 2013 ء میں پاکستان کے کل اندرونی اور بیرونی قرضے 16338 ارب روپے تھے ۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران 10ہزار ارب سے زیادہ قرضےلئے ہیں اور اب قرضوں کا مجموعی حجم 26500 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان کی معیشت اب مکمل طور پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے ۔ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ بیرونی قرضے 100 ارب ڈالرز یعنی 100 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں ، جو 2013 ء میں تقریباً 6 ہزار ارب روپے تھے ۔ 26500ارب روپے کے قرضوں میں 7 ارب ڈالرز یعنی 700 ارب روپے سے زیادہ کا چین کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا قرضہ شامل نہیں ہے ، جو سی پیک کے مختلف منصوبوں کی وجہ سے پاکستان پر واجب الادا ہو گیا ہے ۔ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان نے قرضوں پر سود کی مد میں 50 ارب ڈالرز ادا کئے ہیں رواں سال قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں 1320ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اوسطاً ہر سال 12ارب ڈالرز قرضوں اور سود کی مد میں ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ قرضے پاکستان کی معاشی ترقی کو نگل رہے ہیں ۔ قرضوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالی خسارے میں بھی خوف ناک اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی برآمدات تقریباً 20ارب ڈالرز جبکہ درآمدات 53ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں۔ہمارے بجٹ کا خسارہ 2 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے ۔ یہ ایسے حقائق ہیں ، جن کو سامنے رکھ کر ایک عام آدمی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ہم کس قدر خطرناک معاشی بحران سے دوچار ہیں ۔ معیشت میں بہتری آئی ایم ایف کو تو نظر آ رہی ہے کیونکہ اسے پاکستان کو اسی ڈگر پر چلانا ہے لیکن برسرزمین کوئی امید افزا صورت حال نہیں ہے ۔ ٹیکسٹائل سمیت ہمارا کوئی بھی صنعتی شعبہ مقابلے کے قابل نہیں رہا کیونکہ یہاں پیداواری لاگت دنیا کے دیگر ملکوں سے بہت زیادہ ہے ۔ تجارت کیلئے بھی یہاں حالات زیادہ سازگار نہیں ہیں کیونکہ پاکستان تجارتی سہولتوں کی انڈیکس میں دنیا میں 145 ویں نمبر پر ہے ۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے 977 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں ۔ یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ توانائی کا شعبہ کیسے اپنے آپ کو چلا پائے گا ۔ پاکستان میں زراعت ، لائیو اسٹاک ، ڈیری فارمنگ اور فشریز پر بھی توجہ نہیں دی گئی ۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ قدرتی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا ملک کی بڑی آبادی براہ راست ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے اور جو ادارے یا افراد ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں ، وہ ٹیکس جمع کرنیوالے لوگوں کیساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کرتے ہیں ۔ بہتری کہاں نظر آ رہی ہے ؟ اسکا کوئی واضح جواب آئی ایم ایف کی رپورٹ میں نہیں ہے ۔ صرف ایک ہی امید دلائی جا رہی ہے کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن جائے گا یہ فی الحال ایک پرکشش نعرہ ہے ۔ اسکے حقیقی اثرات کیا ہوتے ہیں ، اس پر قومی مباحثے کی ضرورت ہے ۔
عام آدمی کی زندگی پاکستان میں اجیرن ہو گئی ہے ۔ غربت میں خوف ناک اضافہ ہو گیا ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ معیشت کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال کے باعث ہر شعبہ تباہی کا شکار ہے ۔ ہمارے پاس عظیم تاریخی ورثے کے سوا کچھ بھی ایسا نہیں ہے ، جس پر فخر کر سکیں اور اس تاریخی ورثے کو بھی ہم نہیں سنبھال سکے ہیں ۔ ڈاکٹر ادیب الحسن جیسے کچھ افراد اور چند خیراتی یا فلاحی اسپتال اور ادارے ہیں ، جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں ۔ لیکن یہ افراد اور ادارے اتنے بڑے معاشی اور سماجی بحران سے اکیلے نہیں نمٹ سکتے ۔ دنیا بھر میں سیاسی قیادتوں نے معیشت پر توجہ دی ۔ انہوں نے معیشت کا ادراک کیا اور اپنے ملکوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام یا عالمی مالیاتی اداروں کے رحم وکرم پر اس طرح نہیں چھوڑا ، جس طرح ہماری سیاسی قیادتوں نے پاکستان کو چھوڑ ا ہے ۔ ہم ایک خوف ناک معاشی بحران کے ساتھ عام انتخابات کی طرف جا رہے ہیں ۔ہم اندازہ ہی نہیں لگا رہے کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ ملکی معیشت کو بہتر کر نے کیلئے جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھایا جائے گااور اس کیلئے خطہ میں دوسرے ممالک یعنی چین، بنگلادیش، ہندوستان کے مقابلے میں پیداواری costکو لایا جائیگایعنی بجلی، گیس کے نرخ اور ٹیکس کم نہیں کیا جائیگا اورvalue added اشیاَ کی ایکسپورٹ بڑھائی جائے۔ ترجیحات طے کرنا ہو نگی۔ صحت، تعلیم اور صاف پانی ہماری ترجیحات ہیں۔ orange trainیا اس جیسے projects کو فوری طور پر ملتوی کر کے صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی پر رقم خرچ کرنا ہی ترجیح ہونی چاہئے۔گندے پانی سے 50 سے 60 ہزار بچے ہر سال مر جاتے ہیں جبکہ ایک orange line کم کر کے پورے ملک میں صاف پانی فراہم کر سکتے ہیں۔
ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اشرافیہ کو سادہ زندگی اختیار کرنا چاہئے۔ اگر انکی سیکورٹی اور دوسری سہولتیں دینے کے لیئے اتنی بڑی رقم خرچ کی جائے گی تو دوسرے لوگ ٹیکس نیٹ میں کیسے آسکتے ہیں۔آخر میں ہم کو معیشت کے خلاف ایک قومی لانگ ٹرم ایجنڈا بنانا ہو گا جس میں ساری پارٹیاں شامل ہوں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں