آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ٹریلرچل گیا،پکچرباقی ہے!

سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے، انتخابی معرکوں کی تیاری کا آغاز ہوچکا ہے، بہار کی آمد کے ساتھ ہی جلسے جلسوں کی رونقیں عروج پر ہیں، سیاسی بازی گری، جمہوری چالوں، وعدوں، دعوئوں، انکشافی بیانیوں، تصوراتی خدشوں، سفاک رویوں، بےسروپا الزامات اور جوڑتوڑ کی کارگری کا دور دورہ ہے۔ ’’تعریف وتوصیف‘‘ بیان کرکے سیاسی حریفوں کے کردار کی دھنائی جاری ہے اور اپنی پاک دامنی کے مینار اونچے کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کئے جارہے ہیں۔ اسی دوران چابی والے کِھلونوں کی آمد نے مارکیٹ میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔
وزارت عظمیٰ ،پارلیمان اور پارٹی سربراہی سے نکالے گئے بڑے میاں سنجیدہ سے زیادہ رنجیدہ ہیں- ’’مجھےکیوں نکالا‘‘ کی کیفیت میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے روز اک نئی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، کبھی جذباتی ہوکر انہیں سازشی مہرے، کبھی سرکس کے کردار، کبھی کٹھ پتلی اور کبھی ڈگڈگی پر ناچنے والے جانور قرار دیتے ہیں۔ سینیٹ کے ’’شفاف‘‘ انتخابات کے بعد تو سیاسی دشمنوں کو ’’چابی والے کِھلونۓ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ جمہوری تقاضوں اور مینڈیٹ کے احترام کو مدنظر

رکھا جائے تو اکثریتی جماعت کو دن دہاڑے ’’چمک‘‘ سے اقلیت میں تبدیل کرنا ورطہ حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کی بےوفائی کا شکار ہونے والی ن لیگ کو اب2018کے انتخابی معرکے میں اس سے زیادہ خطرناک ’’کارروائی‘‘ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ غیرجمہوری کھیل جس نے بھی رچایا، بدقسمتی سے قیمت لگوانے والے کردار سب سیاسی تھے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا گر شرم بھی پیسوں سے خریدی جاسکتی۔
تنقید کرنے والوں کی نظر میں میاں صاحب کا خود کو باغی اور انقلابی کہنا خوب ہےمگر وہ ووٹوں کی بجائے نوٹوں کی اصول پرست سیاست کی راہ و رسم اور داو پیچ سےخوب واقف ہیں۔ وہ خود بھی ’’طاقتوروںٔ‘‘ کی چال اور کمال کا کبھی استعارہ تھے۔ سیاست میں قدم رکھنے سے لے کر تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے تک وہ اس سارے نظام کا عملاً اور فعال حصہ رہے ہیں، جانے کیسے بھول گئے کہ مرضی کے فیصلے کرنے والے، فیصلے مسلط کیسے کراتے ہیں۔ یہ کھیل اب اتنا بھی پیچیدہ نہیں کہ وہ نہ جان سکے کہ کون بساط بچھا رہا ہے اور کردار کون ادا کرے گا۔ ہاں مشکل سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے ہاں اتنی بےچینی، بے اعتنائی، بےبسی اور بےخودی کیوں؟ شاید اس لئے کہ لمحہ بھر میں سب کچھ چھن گیا یا اصل بات کچھ اور ہے؟ جی ہاں، جس نئی فلم ’’چابی والے کھلونے‘‘ کا انہوں نے ابھی ذکر کیاہے اس کا تو ابھی ٹریلر چلا ہے،پکچر تو ابھی باقی ہے۔ تبھی تو ناتجربہ کار سیاسی لیڈر بلاول بھٹو زرداری نے بھی میاں صاحب کو یاد دلایا ہے کہ اصل چابی والے کھلونے تومیاں صاحب خود ہیں اور ان کی پوری سیاست چابی سےچلتی رہی، اب مسئلہ یہ ہے کہ چابی کھلونے میں ٹوٹ گئی ہے، ورنہ آج بھی نئی چابی لگادی جائے تویہ کھلونا پھر سے گھومنا شروع کردے گا۔ بقول بلاول، میاں صاحب نےاپنی لڑائی میں رضا ربانی کو ڈھال بنانے اور پیپلزپارٹی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی، میاں صاحب فسادی اور سازشی تو ہوسکتے ہیں، انقلابی نہیں، پاناما اور اقتدار چھننے کے بعد ہی انہیں ووٹ کا تقدس کیوں یاد آیا ہے؟ قارئیں سچ تو یہ ہے کہ یہی بات بلاول کو خود سے، اپنے والد محترم سے بھی پوچھنی چاہئے کہ سیاسی اصولوں کا خون کرنے اور مینڈیٹ کو کند چھری سےذبح کرنے سے جمہور اور جمہوریت کی انہوں نے کیا خدمت کی ہے؟ سیاسی بیان بازی کا بازار گرم ہے، کھلےعام اور درپردہ ایک دوسرے کےبازو بننے والے اب ایک دوسرے پر گند پھینک رہے ہیں ان کا ایجنڈا واضح ہے، کنفیوژ تو بےچارے عوام ہیں جو جاننے کو بےقرار ہیں کہ زرداری کو چور اور جانے کیا کچھ کہنے والے صادق و امین صاحب کس کے ’’دم‘‘ سے ان کے در پر سربسجود ہوئے، سینیٹ کے ’’امین‘‘ کےانتخاب میں جو بدیانتی کی اس کا صلہ رسوائی اور بےتوقیری کے سوا کیا ہاتھ آیا ہے۔ تبھی تو مریم نواز کو کہنا پڑا کہ سینیٹ میں منڈیاں لگیں، سازشیوں و کٹھ پتلیوں کے نقاب الٹ گئے اور جمہوریت کے آستینوں میں چھپے سارے سانپ باہر آگئے، اسفند یار ولی کی بھی یہی رائے ہے کہ پہلے گھوڑے بکتے تھے اب کی بار پورے اصطبل بکے ہیں، ان کو خدشہ ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں فرشتوں اور جنات نے ووٹ ڈالے تو وہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ زرداری کو چھوٹا بھائی کہنے والے میاں صاحب کو اب یہ اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ زرداری اور نیازی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں اقتدار کی خاطر روایتی سیاست سے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حیران کن طور پر سیاسی سوداگری کے ماہر مولانا بھی خان سے راز و نیاز بڑھانے پر زرداری سے پہلی مرتبہ ’’وقتی‘‘ طور پر خفا ہوکر انہیں خرید و فروخت کا بادشاہ قرار دے رہے ہیں۔ اب اس چاک گریباں سیاست کی شرافت پر اعتبار کون کرے گا۔ عوام کی نظر میں کون سا لیڈر سچا اور معتبر ٹھہرے گا؟ جب بشر بشری تقاضوں کو پورا نہیں کریں گے تو اس خلا کو پر کرنے ’’فرشتے‘‘ اور ’’ملائکہ‘‘ تو نازل ہوں گے ناں۔
بلاشبہ ن لیگ، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جے یو آئی، اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کا شدت سے انتظار کر رہی ہیں لیکن عوام سے ووٹ لینے کے خواہش مندوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ عوام ان کے منہ سے نکلے الفاظ کی بجائے ان کے چہروں پر لکھی جھوٹ کی تحریروں کو پڑھنا سیکھ چکے ہیں، سیاسی جادوگری، جھوٹے نعروں اور وعدوں سے عوام کے دل جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوچکا ہے جمہور سے دھوکہ اور ہاتھ کرکے جمہوریت کی معراج پر نہیں پہنچا جاسکتا۔
بدقسمتی سے سیاست کی ناموس کا جنازہ نکالنے کے بعد اب اس کی لاش پر بین کرکے اقتدار کی جنگ کا آغاز کیا جارہا ہے، ساتھ چلنے اور ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ دراصل وہ کھلونا کس کے ہیں اور ان کی چابی کہاں سے بھرتی ہے؟ بہرطور نئی فلم چابی والے کھلونے کا پریمیر ہوچکا، ٹریلر دکھایا جاچکا، فلم کے کردار اپنی پرفارمنس میں یکتا نظر آتے ہیں، اسکرپٹ کے مطابق نااہل قائد کی حکمران جماعت سے کچھ چابی والے کھلونے اپنا جوہر دکھا چکے اور باقی تیاری پکڑ رہے ہیں، کئی ایک تو نگران کابینہ کے سربراہ اور کچھ وزیر بننے کے بھی خواہشمند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاملات گمبھیر ہیں، نمٹنے میں مہینے نہیں شاید سال دوسال لگ جائیں۔ اسی اثنا سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پھر متنبہ کیا ہے کہ عدلیہ اور فوج سے نہ لڑا جائے، اسی سپریم کورٹ سے ریلیف ملنا ہے، درمیانی راستہ نکالیں اور ہدف سیاسی مخالفین کو رکھیں، پارٹی صدر شہباز شریف بھی ان کےحامی ہیں، دونوں کی معاملہ فہمی کی نئی کوشش کی بنیاد ان کی راول پنڈی سے رابطوں کی دوبارہ بحالی ہے۔ اہم خفیہ ملاقاتوں سے بڑے بھائی کو بڑی سزا سے بچانے کی امیدیں روشن کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے، معاملات کو سلجھانے کی خاطر چھوٹے بھائی نے خدا کا واسطہ دے کر فوج اور عدلیہ کے ساتھ مل کر چلنے کا واضح اعلان بھی کردیا ہے، بڑے بھائی اپنے بیانیے سے ہٹنے یا سیزفائر کے لئے مکمل راضی نہیں لیکن سانگلہ ہل میں عدلیہ اور فوج پر روایتی جارحانہ تنقیدی رویے کا اظہار نہ کرکے کسی حد تک آمادگی کا اشارہ ضرور دے دیا ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، شاید اس لئے بھی کہ جیل چلے گئے تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ دوسری طرف افواہیں ہیں کہ ’’طاقتوروں‘‘ کے رازدان کہتے ہیں کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے، نئے چابی والے کھلونوں کی کاسٹ مکمل ہوچکی ہے، پرانے چہرے فارغ ہوں گے، فلم کی کہانی کے مطابق کڑا احتساب اور سزائیں ہوں گی، مرضی سے نگران لگائے جائیں گے، ’’کام‘‘ مکمل ہونے کے بعد بروقت یا کچھ تاخیر سے عام انتخابات بھی ہوں گے تاہم ن لیگیوں کے لئے انتخابی عمل مشکل بنا کر اقتدار سے دور کردیا جائے گا۔ مرضی کا نظام چلانے کے لئے ہنگ پارلیمنٹ لائی جائے گی اور سینیٹ کے ’’صادق‘‘ جیسے ’’امین‘‘ کو قائد ایوان بنایا جائے گا۔ خدا جانے فلم کیسی ہوگی لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی کا اسکرپٹ پرانا اور کمزور ہے۔ ایسے میں جب اندرونی حالات اچھے ہیں نہ سرحدی، ہمسائیوں سے تعلقات دوستانہ ہیں نہ دوست خیرخواہ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لئے عالمی دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے، قرضوں کی بھرمار اور معاشی صورت حال بگڑ رہی ہے، باوجود سب زمینی حقائق کے ہم کہاں سمجھنے والے ہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ پرانے و منجھے ہوئے سیاسی کردار ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر جمہوری اصولوں پریکجا ہوجائیں، اپنی اپنی صفوں میں چابی والے کھلونوں کو تلاش کرکےانہیں فارغ کریں، ملکی مفاد کے لئے سیاسی مفاہمتی حکمت عملی پرآمادہ ہوجائیں، اقتدار کی دوڑ میں باہمی اختلافات اس ڈبہ فلم کی کامیابی کی ضمانت بن جائیں گے اور کسی کےہاتھ کچھ نہیں آئے گا، اب بھی سمجھ نہ آئے تو فلم کی نمائش کا انتظار کریں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں