آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں سے بھارت کے نازیبا سلوک سے پاک بھارت تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تنائو دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ حکومتیں ہمیشہ سفارتی آداب کا خیال رکھتی ہیں۔ چند روز قبل نئی دہلی میں سینیئر پاکستانی سفارتکار کی گاڑی کو 40منٹ روک کر تصاویر بنائی گئیں۔ اسی طرح ایک دوسرے واقعے میں پاکستانی سفارتکار کی گاڑی روک کر بچوں اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا گیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے تب سے پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مودی حکومت پاکستان مخالف پالیسی کی آڑ میں ہندوئوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی تھی لیکن اب پاکستان مخالف پالیسی اپنانے سے اس کو فائدہ کی بجائے اُلٹا سیاسی نقصان ہو رہا ہے۔ ہندوستانی معاشرہ طبقاتی طور پر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے۔ عدم برداشت اور پر تشدد پالیسی کی وجہ سے بی جے پی کے حوالے سے عوامی نفرت میں بھی پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کی کئی وجوہات ہیں۔ نائن الیون کے بعد ہندوستان امریکی آشیرباد پر جنوبی ایشیا میں کُھل کھیل رہا ہے۔ افغانستان میں بھارت قدم

جما چکا ہے۔ پاکستانی سرحد کے ساتھ افغان علاقوں میں موجود بھارتی قونصل خانے ’’را‘‘ کے مراکز بن چکے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے بلوچستان سمیت پاکستانی علاقوں میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری امریکہ اور ہندوستان کے لئے دردسر بن چکی ہے۔ پاکستان کی روس سے قربت بھی اس کو ہضم نہیں ہورہی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے پاکستان کے خلاف چومکھی جنگ شروع کردی ہے۔ ایک طرف کنٹرول لائن پر وہ بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کررہا ہے جبکہ دوسری طرف افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نےلازوال قربانیاں پیش کرکے دشمن کے دانت کھٹے کردیئے ہیں۔ ملک بھر میں دہشتگردی کے کئی واقعات کے بعد اب ملکی صورتحال خاصی حد تک معمول پر آچکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے گلف نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے درست کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشتگرد عناصر کا کامیابی سے صفایا کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ہم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب تک اس جنگ میں 75ہزار پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں پیش کیں ہیں اور123 ارب ڈالر سے زیادہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کا اتنا نقصان نہیں ہو جتنا ہمارا جانی و مالی نقصان ہوچکا ہے لیکن پھر بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہے۔ اُس کا جھکائو ہندوستان کی طرف ہے اور وہ مستقبل میں اُسے جنوبی ایشیا کی چوہدراہٹ دینا چاہتا ہے؟پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل بہت ضروری ہے جو ہندوستان کی بدنیتی کی وجہ سے آج تک حل نہیں ہوسکا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں۔خطے میں ایٹمی جنگ سے بچنے کے لئے دونوں ملکوں کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کرنا ہوگا۔ خطے میں امن و خوشحالی کے لئے بھارت کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ امریکہ بھی اگر واقعی جنوبی ایشیامیں امن چاہتا ہے تو اُسے افغانستان میں بھارتی اثر و نفوذ ختم کرنا ہوگا۔ افغانستان میں کوئی بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے امریکہ اور افغان حکومت اس کا الزام پاکستان پر دھردیتی ہے۔ یہ طرزعمل ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان یہ واضح کرچکا ہے کہ اُس نے فاٹا اور دیگر علاقوں سے بیرونی دہشتگردوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ اب افغانستان میں اگر انڈیا کی سرپرستی میں دہشتگردی کانیٹ ورک موجود ہے تو اُسے امریکی اور افغان فورسز کو ختم کرنا پڑے گا بصورت دیگر افغانستان، پاکستان اور خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ افغان حکومت کو بھی اپنی نااہلی کا الزام پاکستان پر نہیں لگانا چاہئے۔ افغانستان کے اندر دہشتگردی کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واشنگٹن میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سے زیادہ کوئی دوسرا ملک افغانستان میں امن کاخواہاں نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں قیام امن سے براہ راست پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ پُرامن افغانستان پاکستان کی سلامتی کے لئے لازم ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ افغان قیادت کو بھی دیر آید درست آید کے مصداق یہ احساس ہواہے کہ پاکستان سے جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کاپُرامن حل نکل سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس سلسلے میں قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ دونوں برادر ہمسایہ ملکوں کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور اب برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔ بھارت اس صورتحال سے سخت خائف ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو افغانستان کے امن کے لئے دوطرفہ جامع مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ امریکہ کو اپنی افغان پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ طاقت کے زیادہ استعمال سے وہاں حالات سازگار نہیں ہوسکتے۔ جنوبی ایشیا کو پُرامن بنانے اور بھارت کے جارحانہ عزائم سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو افغان حکومت کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں