آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے اسی روزنامے میں محترم سہیل وڑائچ صاحب کی ڈاکٹرائن کے حوالے سے ایک تحریر شائع ہوئی۔اس تحریر پر ملکی اور صحافتی حلقوں میں بہت بحث رہی۔ درج ذیل تحریر اسی تناظرمیں ہے۔ اس تحریرکا قطعا مقصد مذکورہ تحریر کی تردید یا تصدیق نہیں ،بلکہ جو سوال اٹھائے گئے ہیں ان کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر پیش کرنا ہے۔ کوشش کی ہے کہ موضوعات پر بحث کرتے ہوئے اسی ترتیب سے بات کو پیش کیا جائے تاکہ قارئین ایک دوسرے نقطہ نظر تک رسائی حاصل کر سکیں۔
گزشتہ ستر سال نے اس ملک میں بہت سے ابہام تخلیق کر دیئے ہیں۔ حق حاکمیت کس کا ہے؟ بالا دستی کس کو حاصل ہے؟دست نگر کس کو رہنا ہے؟ قانون کون سا لاگو ہونا ہے؟ آئین کی تقدیس کس چڑیا کو کہتے ہیں؟ پارلیمان کا مقام کیا ہے؟ طرز حکومت کونسا بہتر ہے؟ صدارتی نظام ، غیر جماعتی انتخابات ، ٹیکنو کریٹس ، آمریت یا سیاسی حکومتوں میں سے کس کا مقام ارفع ہے؟ 1973 کے آئین کی کیا اہمیت ہے؟ کون کس کو جوابدہ ہے؟ ان بنیادی معاملات پر اس ملک میں بہت ابہام پایا جاتا ہے ۔ ’’ لپ سروس ‘‘ کے طور پر ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ جمہوریت کی طرف داری تو کریں گے،1973کے آئین کو ارفع ضرور کہیں گے لیکن حقیقی واقعہ کچھ اور ہے۔ اس ملک کی نصف عمر فوجی اقتدار تلے گزری ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ ان ادوار میںبھی زبان پر نعرہ

جمہوریت کا ہی رہا اور وعدہ انتخابات کا ہوتا رہا ۔ لیکن اس کے باوجود آئین کو پائوں تلے روندا گیا۔ سیاسی شخصیات کی تضحیک کی گئی۔ رائے عامہ کو بوٹوں تلے کچلا گیا۔باقی ماندہ جن ادوار میں جمہوریت رہی ہے وہاں بھی آمریت کا سایہ جمہوریت پر تنا رہا۔ستر سالہ تاریخ میں جس سیاسی شخصیت کی سوچ عوام میں جڑ پکڑنے لگی ،اس سے اختلافات کواس حد تک پہنچایاگیا کہ یا تو وہ شخصیت نہیں رہی یا پھر اسکا نظریہ ہی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر نواز شریف تک بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سیاسی رسوخ ہی وجہ عناد بن گیا۔الزامات کی اس بوچھاڑ کا شکار عوامی نمائندگان ہی رہے دوسرے ادارے ان مکروہات سے نہ جانے کیسے بچے رہے؟یہی بنیادی سوال اس ملک میںدہائیوں سے کیا جا رہا ہے اور اسکی ملک کی ابتری کا سبب بھی اسی سوال میں مضمر ہے۔
بین الاقوامی وژن
اس ملک کا بین لاقوامی وژن دو تاریک فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔بد قسمتی سے دونوں فیصلے آمریت کے دور میں کئے گئے او ر ان مہیب فیصلوں میں نہ عوامی نمائندوں کی رائے شامل رہی نہ عوام کی منشا حاصل کی گئی۔جنرل ضیاء الحق نے ہمیں روس سے جہاد کا سبق دیا۔ ہم نے امریکی امداد سے یہ ایمانی فریضہ پوری شدومد سے ادا کیا ۔ اس ایک جنگ میں شرکت سے ہم نے روس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سماج ، ثقافت اور سیاست کو بھی شکست دی۔ 1977 سے پہلے کا پاکستان سماجی ، سیاسی اور ثقافتی طور پر ایک مختلف پاکستان تھا۔ہیروئن ، کلاشنکوف ، مذہبی پر تشد د تنظیمیں اور لسانی جماعتیں اسی دور کی پیداوار ہیں۔نائن الیون کے بعد کی جانے والی ایک فون کال نے اس ملک کی خارجہ پالیسی کو دوسرا یو ٹرن لینے پر مجبور کیا ۔ اس دفعہ بھی اس فیصلے کی سعادت ایک ڈکٹیٹر کو نصیب ہوئی۔وطن بدری کی بناپر عوامی نمائندگان اس فیصلے میں شریک نہیں ہوئے۔ اس نئے یو ٹرن نے صورت حال کو دگرگوں کر دیا۔ ہم اپنی لگائی ہوئی پنیری اپنے پائوں تلے روندنے لگے۔ جن مدارس میں افغان جہاد کی تربیت دی جاتی تھی انہی کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ ان آپریشنز میں وقتی کامیابی تو نصیب ہوئی مگر اس طرح کی سماجی تبدیلی فوجی آپریشنز سے وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اس کے لئے عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنا پڑتا ہے۔ جس کی دور آمریت میں کبھی کوئی روایت نہیں رہی۔
انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی
کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اس مسئلے کو تسلیم کیا جائے۔انسداد دہشت گردی کے معاملے پر ہم بنیادی باتوں کو تسلیم کرنے میں ابہام کا شکار ہیں۔ خارجہ پالیسی کے دو عبرتناک فیصلوں کاخمیازہ ہم بھگتتے رہے مگر اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر رہے کہ خامیاں اب ہمارے اپنے گھر میں بھی ہیں۔ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کو الزام دینے سے پہلے ہمیں تسلیم کرنا ہے کہ ہمیں اپنا گھر بھی صاف کرنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے ،ہم ہی وہ لوگ ہیں جو افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے خواہاں تھے۔ ہم ہی نے اچھے اور برے طالبان کا نظریہ تخلیق کیا تھا۔ ہم ہی نے اپنے فیصلوں سے فرقہ پرستی کو ہوا دی تھی۔ ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ بھی ہمارے مقدر میں دہائیوں سے رہی ہے۔ اپنی موجودہ صورت حال کا ذمہ داردنیا کو ٹھہرانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو تسلیم کریں ۔ سماج میں تبدیلی اگر درکار ہے تو اس کے لئے بندوق کا سہارا کافی نہیں ہے۔ قلم کی اہمیت کو تسلیم کریں ۔ فنون کو فروغ دیں ۔ معاشرے کو گھٹن سے آزاد کریں۔ بات کہنے کی آزادی اگر نصیب ہوگی تو مکالمہ آگے بڑھے گا۔
کمانڈ کی اصل جڑیں
کمانڈکی اصل جڑیں پارلیمان کی بالا دستی تسلیم کر لینے میں ہے۔ براہ راست اور بلاواسطہ جمہوریت کی جڑیں کاٹنے سے معاملات مزید خراب ہوں گے۔ اگر ہم پورے صدق دل سے تسلیم کریں کہ آئین پاکستان کے مطابق حاکمیت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کا ہے۔ پارلیمان سے بالادست کوئی قوت نہیں ہے۔ جمہوریت اصل رستہ ہے۔ شب خون مارنے والے مجرم ہیں۔ آئین کو توڑنے والے غدار ہیں تو کمانڈ اسکے اصل وارث تک پہنچے گی۔ اسی طرز جمہوریت سے کمانڈ کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اور ملک کی ترقی بھی ہوگی۔
سیاسی نظریہ کیا ہے؟
آئین پاکستان کے تحت اس ملک کا سیاسی نظریہ جمہوریت ہے اور جمہوریت کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اسکی سرایت پذیری کی رفتار گرچہ سست ہوتی ہے مگر اسکی اثر پذیری دیر تک رہتی ہے۔ ایک بری جمہوری حکومت کا حل مارشل لا نہیں بلکہ ایک اور جمہوری حکومت ہے۔سادہ سی مثال ہے زرداری دور حکومت میں حالات بہت بدتر تھے اب حالات پہلے سے بہتر ہیں اور اگر جمہوریت کا تسلسل قائم رہتا ہے تو اگلی حکومت کواس سے بہتر ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ دیگر ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ جمہوریت کے قتل کے لئے عدلیہ کا سہارا طرز جمہوریت نہیں ہے۔ ووٹ کی تقدیس کو مان لینا ہی درست سیاسی نظریہ ہے۔
مالیاتی معاملات میں بہتری کیسے ؟
معیشت کی بہتری سیاسی استحکام میں پوشیدہ ہے ۔ اگر ملک کے وزیر اعظم کو ایک ایسے کیس میں نااہل کر دیا جائے کہ جس کی وجہ سے دنیا پھر میں جگ ہنسائی ہو تو معیشت بہتر نہیںہو سکتی۔ پالیسیوں کا تسلسل ہی بہتر معیشت کی ضمانت دے سکتا ہے۔اگر ہر دس سال کے بعد ہمیں مارشل لا کا عفریت گھیر لے گا تو ملک اسی طرح دہائیوں تک ترقی معکوس کرتا رہے گا۔ آگے بڑھنے کے لئے عوامی نمائندوں کے فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ کرپشن کے بے بنیاد الزامات شخصیات، نظریات اور معاشیات کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخی جھلک
ستر سال ہو گئے اس ملک کو معرض وجود میں آئے ہوئے۔ ان برسوں کی تاریخ اسی بات کا سبق دیتی ہے کہ ہم نے اپنے فیصلوں میں عوامی رائے عامہ کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ کسی بھی صوبے کے لوگ ہوں جب وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوں گے اور آئین کو پامال کرنے والے من مانے فیصلے ان پر مسلط کریں تو تاریخ کے سب صٖٖفحات ہمیںسیاہ ہی نظر آئیں گے۔
کما ن کا تسلسل اور تقابل
جمہوریت کے ثمرات اس کے تسلسل میں پوشیدہ ہیں ۔ عوامی حکومتوں کو تسلیم کریں گے تو حالات بہتر ہوں گے۔ آمریتوں میں کئے گئے فیصلوں کا تقابل جمہوری ادوار کے فیصلوںسے کیا جائے تو عوامی نمائندوں کی رائے صائب قرار پائے گی۔ اس ملک کی بقا جمہوریت کے تسلسل میں ہے ۔
اصل امتحان
موجودہ صورت حال میں اصل امتحان 2018 کے شفاف اور منصفانہ الیکشن ہیں۔اگر اس میں بھی NA 120 کے ضمنی الیکشن کی طرح مداخلت کی گئی تو تاریکی مقدر بنے گی۔ اگر سینیٹ کے الیکشن کی طرح اداروں کی پشت پناہی پر الیکشن کے مینڈیٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی تو نتائج بھیانک ہوں گے۔ جمہوری ڈاکٹرائن ہی مسائل کا حل ہے۔ اس کو تسلیم کرنے میں ہی عافیت ہے۔ اس کی روگردانی تنزلی کا سفر ہے جو ماضی میں اکثر ہمارا خاصہ رہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں