آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرویز رشید! وہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات ہی نہیں، نیوز لیکس کے مظلوم زخم خوردہ بھی ہیں۔ وہ سابق وزیر اطلاعات ہی نہیں، مشرف کے عہد میں تشدد کا شکار ایک ایسی علامت بھی ہیں جس کی یاد انسان کی آنکھوں کو خون کے آنسو رُلا دیتی ہے۔ وہ سابق وفاقی وزیراطلاعات ہی نہیں، ان کا طرز ِ زندگی اور معیار ِ زندگی کسی بھی عام پاکستانی کی روح میں کوئی لاشعوری کامپلیکس یا غصہ پیدا نہیں کرتا، اسے ان کے ساتھ اپنی جڑت خود پر اترتی اور چپکتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ وفاقی وزیر اطلاعات ہی نہیں، دانشور سیاسی کارکن بھی ہیں۔ اس لئے عوامی ذہن کی عدالت میں ان کے بیان کی ’’ذات‘‘ کو نواز شریف کے ’’اشارے‘‘ کی رہین منت کوئی اضافی شے قراردینا، عوامی ذہن کی عدالت میں سعی رائیگاں کا ایک ڈھیر ہوگی، جیسے چوہدری نثار کا Perception ’’عزت ِ نفس ا ور ذاتی وقار‘‘ کے دوپلڑوں سے باہر نہیں نکلنے دیاجاتا بعینہ ٖ پرویز رشید کی چوہدری صاحب کے حوالے سے گفتگو کے تجزیاتی اسلوب میں پوشیدہ سیاسی خودی پر معمول کی تبصرہ آرائی ذہن کے ہلکے پن کی تصدیق ہوگی!
پرویزرشید کا کہنا ہے:۔ ’’چوہدری نثار علی خاں نے خود اپنے رویے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کردیا ہے۔ چوہدری نثار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو خود کو بڑا پارسا سمجھتا ہے۔ پھر وہی شخص مشکل وقت میں اپنے لیڈر کا ساتھ

چھوڑ دے، جہاں موقع ملے لیڈر کو چھرا بھی گھونپ دے۔ اس کی پارسائی، اخلاقیات اور انسانی قدروں کا اندازہ اسی رویے سے ہو جاتا ہے۔ چوہدری نثار نہ اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی اپنی اقدار کے ساتھ مخلص ہیں۔ نثارصاحب کی شخصیت کا یہ پہلو ہے کہ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑ دو، اچھا وقت آئے فوراً اپنے لیڈر کی گاڑی کا اسٹیرنگ سنبھال لو۔ یہی ان کی سیاست ہے کہ برے وقت میں ساتھ چھوڑو اور اچھے وقت میں اسٹیرنگ سنبھالو۔‘‘
28جولائی 2017وہ تاریخ ہے جس روز پاکستانی عوام کے صد واجب الاحترام ووٹوں سے تیسری بارمنتخب وزیراعظم نواز شریف کو ’’نااہل‘‘ ڈکلیئر کیا گیا۔ اس روز سے لے کر آج مورخہ 28مارچ 2018 تک، چوہدری نثار صاحب کا نواز شریف کے حوالے سے سیاسی بیانیہ اورسیاسی عملیت پسندی، ان کے آزمائشی وقت کی مقدار بڑھانے اور اس کے گزر جانے کی رفتار روکنے کا منطقی سفرہے۔ چوہدری نثار صاحب کے اس طرز ِ عمل اور طرز ِ فکر میںان کی ’’عزتِ نفس اور ذاتی وقار‘‘ قطعی کوئی سوالیہ نشان نہیں، نہ ہی کسی نے انہیں سوالیہ نشان بنایا۔ وہ جوں کے توں اسی شکل میں برقرار رہتے ہیں۔ یہ دونوں اشیا پہلے روز سے ہی جس شکل میں متشکل ہیں البتہ تاریخ ساز سیاسی مفکر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی عدالتی سماعتوں کے دورانیوں میں ایک بار انسان کی ’’عزت ِ نفس اور ذاتی وقار، انااور حق گوئی‘‘ کے عناصراربعہ کا لفظ ’’جنٹلمین‘‘ Gentleman، مطلب ’’شریف آدمی‘‘ کا انسانی اعمال کے ترازو میں تول کیا تھا۔ حاصل وزن کے طورپرسامنے یہ شے آئی ’’شریف آدمی وہ ہے جو زندگی کے تمام مراحل میں اپنے اظہار اور کردار سے، کسی بھی مقدار، تعداد اور نوعیت سے عقبی وار کی نیت کے کٹہرے میںکبھی کھڑا نہیں کیاجاسکتا‘‘ چوہدری نثار سو فیصد نہیں ایک ہزار فیصد ’’عزت ِ نفس اور ذاتی وقار‘‘ کا کوہ ہمالیہ ہوں گے لیکن یہ عجب قبول نہ کیا جانے والا حیرت زا اور ناپسندیدہ اتفاق ہے یعنی پرویز مشرف کے غیرآئینی شب خون کے بعد، آخری لمحے تک انہیں سوئی تک نہیں چبھی۔ وہی آج بھی ان کے نزدیک پھٹکنے کا تصور تک نہیں کرسکتی، بلکہ ’’ن‘‘ لیگ کے پرویز رشید تشدد میں ایسے ڈبوئے جاتے ہیں جس کے عرصے بعد تک انہیں اپنی دماغی حالت صحیح کرانے کے لئے بیرون ملک علاج کرانا پڑتاہے۔
چوہدری نثار علی خان کاکہنا ہے:۔ ’’ایک سال سے بڑے صبر اور تحمل سے حالات اور معاملات کو برداشت کیاہے اور کوشش کی ہے کہ کسی معاملے پراس حد تک ردعمل نہ دوں جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے‘‘، ’’ن‘‘ لیگ نوازشریف اور نواز فیملی کو چاروں اور سے گھیر، عاجز اور بے بس کرکے جھکانے کی اس جنگ میں چوہدری صاحب کا ’’تحمل اور حالات، ریکارڈ پر نہیں انہوں نے دوسروں کی طوفانی یلغاروں میں نواز شریف کے ارتکاز توجہ میں انتشار پیدا کرتے ہوئے ان کے پائوں پھسلانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، اس لئے ان کا یہ خیال 28جولائی 2017کے بعد سے لے کر آج تک گزرے وقت کے میزان میں ان کی مکمل تردید کرتا ہے۔ ’’عزت ِ نفس اور ذاتی وقار‘‘ اپنی جگہ ہیں دوران جنگ اپنے قائد کا دھیان تقسیم کرنے کی تباہ کن واقعیت اپنی جگہ!
بیان مولانا فضل الرحمٰن کا ہے تفصیل تاریخ پاکستان کی ہے!سو فیصد گواہی دے سکتے ہیں، وہ سب لوگ جو اس وقت پاکستان کی عمر کے برابر یا اس سے بڑی عمر کے ہیں! حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد ِ مبارک کی روشنی میں مولاناکے موقف کو پورے دھیان سے سننا اور غور کرنا چاہئے۔ شیرخداؓنے فرمایا تھا:’’یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے!‘‘
کراچی میں گزشتہ روز خطاب کیا، اخبار نویسوں کے سوالوں کا جواب بھی دیا، خلاصہ کلام یہ تھا:’’ ہم 70سالوں سے آزادی کے دعویدار اور طلبگار ہیں۔جتنی بے بس اور لاچار جمہوریت ہم دیکھ رہے ہیں وہ دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ میڈیا نے ایک خاص سوچ کو پروان چڑھایا۔ آج میڈیا میں امت ِ مسلمہ اور قوم کے حقیقی مسائل کے بجائے سیاستدانوں کی شکل میں چور تلاش کئے جارہے ہیں۔ ہمارے ادارے عدلیہ، الیکشن کمیشن سب سیاسی نظام کوسوالیہ نشان بنا رہے ہیں اور عوام کے دلوں میں ایک خاص نفرت بٹھائی جارہی ہےتاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کے نمائندوں کے لئے نفرت پیدا ہو۔ ہم اپنے سیاسی نظام کو انتہائی کمزور کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کےوزیراعلیٰ ہائوس کے باہربم رکھا گیا۔ بم رکھتے ہوئے آدمی کو پکڑا۔ اس کو چھڑانے کے لئے کون آیا تھا سب کومعلوم ہے۔ طاقتور قوتوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سیاسی قوتیں کمزور ہوں۔ مشرف کے دور میں نیب نے بہت ساری ریکوریاں کیں۔ جب اس کی فہرست سامنے آئی تب پتا چلا کہ سب سے زیادہ ریکوریاں جرنیلوں اوردوسرے نمبر پر بیوروکریٹس اور تیسرے نمبر پر سیاستدانوں کے نام تھے۔ ان سے ہی اندازہ لگائیں کہ کون کس حد تک ملوث ہے۔‘‘
مولانا فضل الرحمٰن کے خلاصہ کلام کو آپ نواز شریف بیانئے کی تفصیل کہہ سکتے ہیں۔ یہ بیانیہ ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ کی صدا ہے۔ نواز شریف نے 28جولائی 2017کے بعد اس نصب العین کی ’’سپہ سالاری‘‘ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے جسے مولانا نے بڑی صراحت، وضاحت اور ثقاہت کے ساتھ بڑھاوا دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے گواہ بنے ہیں۔ یہ تاریخ ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ کے نصب العین کو فکری طور پر مسخ کرنے، قومی سیاستدانوں اور کارکنوں کو قید و بند اورپھانسیوں سے لے کر میڈیا کے ذریعے بدنام اوربدصورت کرنے، اندرون ملک مذہب کے تناظر میں فرقہ واریت اور جارحیت کے علمبردار اور مرتکب گروہوں، عناصر اور افراد کو جنم دینے، طاقتورکرنے اور عالمی برادری میں خود کو بالآخر مشکوک بنانے کے اردگردگھومتی ہے۔
ایک ذاتی قیاس آرائی!
پاکستان کے قومی سیاسی ماحول میں ’’آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل‘‘ پر مبنی قومی بقا کا راستہ کاٹنے والی ’’کالی بلیاں‘‘ تاریخ سے سبق نہیں سیکھیں گی، تاریخ دہرائیں گی۔ عوام کے حق حکمرانی کی لڑائی طویل ہے۔ دیکھتے ہیں کون کھڑا رہتا ہے ؟کون بیٹھ جاتا ہے یا بٹھا دیا جاتا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں