آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم سیٹھی صاحب ماضی میں کئی معاملات میں متنازع شخصیت رہے ہیں۔خصوصاً جب وہ کئیر ٹیکر حکومت پنجاب میں سربراہ رہے تو عمران خان نے ان پر مسلم لیگ( ن) کے الیکشن میں درِپردہ دھاندلیوں کا الزام لگایا مگر الیکشن کمیشن نے خاص توجہ نہیں دی اور معاملہ دبا دیا گیا۔پھر نواز شریف نے کرکٹ کنٹرول بورڈ کا سربراہ بنا کر مزید مشکوک بنایا۔پی ٹی آئی والے اس پر بھی شور مچاتے رہے مگرنجم سیٹھی صاحب ڈٹے رہے اور 3سال پہلے بھارتی کرکٹ آئی پی ایل طرز پر پی ایس ایل کی بنیاد رکھی اور پاکستانی اور غیر ملکی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں بنا کر کرکٹ کو دوبارہ زندہ ہی نہیں کیا بلکہ بھارت کو دکھا دیا کہ بغیر اس کے کھلاڑ یوں کے بھی پاکستان کامیاب ٹورنامنٹس کر سکتا ہے۔گزشتہ 3سالوں میں صرف ایک متنازع میچ فکسنگ کا کیس سامنے پیش آیا۔جس میں محمد عرفانـــ، محمد نواز،خالد لطیف ،شرجیل خان اور شاہ زیب حسن کے نام سامنے آئے۔محمدعرفان اور محمد نوازپر 6 چھ ماہ کی پابندی لگی اور اس سے پہلے ہی بحال کردیا گیا۔ شاہ زیب حسن پرایک سال کی پابندی لگی۔مگر خالد لطیف اور شرجیل خان دونوں پر پانچ5 سال پابندی لگائی۔ جبکہ خالد لطیف نے خود بکی کی نشاندہی کی تھی۔مگر ان دونوں کو 5پانچ سال کی سزا سنا کر ان کی کرکٹ کا خاتمہ کر دیا۔ ناصر جمشید جس نے بکی سے دھوکے سے

ملوایا تھا اُس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اس نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ کرکٹ میں جوا لگتا ہے ، بھارت ہو یا پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ان کے میچوں پر اربوں روپے کے سٹے ہوتے ہیں۔ پہلے پہل صرف ہار جیت پر سٹہ لگتا تھا پھر آہستہ آہستہ کھلاڑیوں کی کارکردگی یا میچ فکسنگ پر اب بال ٹو بال پر رقمیں لگتی ہیں۔ آگے چل کر اور بھی نئی قسم کے سٹے سننے اور دیکھنے میں آئینگے۔ یہ بھی ایک طرح کا کاروبار ہو چکا ہے ۔ پی ایس ایل سے بورڈ کو بھی اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔ ہمارے کھلاڑی بھی بڑے فائدے میں رہے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی ہم نے خوب نوازا ۔
پاکستان کا نام بھی روشن ہوا اور قوم کو ہر شہر سے نئے نئے کھلاڑی ملے جو نوجوان بھی ہیں اور لمبی کرکٹ کھیل سکتے ہیںاور سینئر کھلاڑیوں کے متبادل ثابت ہو رہے ہیں۔ قومی کپتان کے لئے بھی اب لمبی فہرست ان کھلاڑیوں کی دستیاب ہے ۔ سینئر کھلاڑیوں نے تو اب ماڈلنگ بھی شروع کر رکھی ہے ۔ ہر بڑا پلیئر کسی نہ کسی ایڈ میں آرہا ہے ، کوئی بالوں کی ڈینڈرف دور کر رہا ہے تو کوئی بنگلے فروخت کرنے میں مصروف ہے ۔ 2سابق کپتان تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ساتھ اور الگ الگ ماڈلنگ کر رہے ہیں ۔ اس سے بھی ہمارے کھلاڑیوں کو مالی فوائد ہو رہے ہیں۔ اس سال نجم سیٹھی صاحب نے حوصلہ دکھا تے ہوئے سیمی فائنل اور فائنل پاکستان میں کرا کر قوم کو خوش کر دیا ہے ۔ ایک طرف لاہور کے عوام غیر ملکی اور ہمارے کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھ کر جھوم اٹھے ، خوب ہلا گلاکیا ۔ حکومت پنجاب ، پولیس ، رینجرز اور فوج نے مل کر سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیئے۔ الحمد للہ کوئی شرپسندوں کے دباؤ میں نہیں آیا اور میچ میں گڑ بڑ نہیں ہوئی ۔ البتہ ان انتظامات کی وجہ سے عوام کو کچھ تکالیف اٹھانی پڑیں ، مگر اس کا گلہ نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ ان اداروں کہ جنہوں نے دن رات ایک کر کے اس میچ کے انعقاد کو کامیاب بنایا ، قوم کو انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے۔ اسی طرح کراچی کے باشندوں نے 9سال بعد اپنی آنکھوں سے کرکٹ کو زندہ ہوتے دیکھا تو پورا شہر اُمڈ آیا ۔ حکومت سندھ خصوصاً چیف منسٹر مراد علی شاہ خصوصی توجہ سے شہر کو دوبارہ روشنیوں کا جگمگاتا شہر بنانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں تو دوسری طرف میئر کراچی ، پولیس ، رینجرز اور فوجی ادارے سب ہی نے دن رات ایک کر کے کرکٹ کے میچ میں چار چاند لگا دیئے ۔ یہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ عوام کو کچھ زحمت تو اٹھانی پڑی ، کچھ دور پیدل بھی چلنا پڑا اور دونوں شہر وں میں عوام کے لئے ٹکٹیں بھی بہت مہنگی رکھی گئیں اور اسٹیڈیم میں کھانے پینے کا سامان کئی کئی گنا مہنگا بیچا گیا جو ہمارےعوام کے ساتھ ظلم ہوا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پوری دنیا میں کھیلوں کے شائقین کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ عوام کے بجائے اسپانسرز سے بھاری معاوضے وصول کئے جاتے ہیں۔ ہمارے کرکٹ بورڈ نے اسپانسرز سے بھی بھاری رقمیں وصول کیں اور اسٹالز بھی بہت مہنگے فروخت کئے اور پھر عوام کو بھی نہیں بخشا جو سراسر نا انصافی تھی۔ مگر کھیل کے شوقین عوام نے سب کچھ ہنس کر سہہ لیا ۔ کرکٹ کنٹرول بورڈ کو چاہئے کہ آئندہ جو غیر ملکی کھلاڑی معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور پاکستان آنے کا وعدہ کر کے نہ آئے تو اس پر بھی پابند ی لگائیں اور معاوضہ میں بھی کم از کم 50فیصد کٹوتی کریں۔ جس طرح کرکٹ میں غلط طرزِعمل پر کھلاڑیوں پر بھاری جرمانے ہوتے ہیں ، اسی طرح معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی آئی سی سی کو ایکشن لینا چاہئے ۔ سب سے اچھی بات پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان سے دہشت گردی اب اکا دکا واقعات تک محدود ہو چکی ہے ۔ وہ تو امریکہ ، فرانس ، برطانیہ میں بھی ہوتی رہتی ہے ۔ دہشت گردوں سے کوئی ملک 100فیصد محفوظ نہیں رہا اور نہ ہے ۔ مگر نہ جانے صرف پاکستان ہی کو دہشت گردی کی دہری سزا کیوں مل رہی ہے ۔
ایک طرف اس نے افغانستان کا ساتھ دیا ، امریکہ سے وعدہ نبھایا تو دوسری طرف افغان مہاجرین واپس جانے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ بلکہ ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ہماری سرحدوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔ آخر ہم کب تک ان دہشت گردوں اور ملکی دشمنوں سے تنہا لڑتے رہیں گے ۔ ہر طرف سے ہمیں ہی دبایا اور دھمکایا جا رہا ہے ۔ آخر میں ، میں پاکستان کے عوام کی طرف سے نجم سیٹھی صاحب کو ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو کراچی لانے اور T-20میچ منعقد کروانے پر ایڈوانس مبارکباد دیتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ وہ آئی سی سی کو باور کرائیں گےکہ پاکستان تن تنہا ان دہشت گردوں پر بہت حد تک قابو پا چکا ہے ۔ وہ بھارت کے دباؤ میں نہ آئے اور کرکٹ کے فروغ اور شائقین کے لئے پاکستان کے دروازے کھلوائے ۔ ممکن ہے کہ کرکٹ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام پھر دوبارہ خیر سگالی کی راہ پر چل نکلیں ۔ 70سال دشمنی کے لئے بہت ہوتے ہیں اور دشمنی سے دوسرے ممالک بھی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ آخر ہم کب تک ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھاتے رہیں گے ۔ دونوں جانب سے جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ۔اگر وہ آئی سی سی سے منوانے میں کامیاب ہو گئے تو قوم ان کی احسان مند رہے گی ۔ آخر میں قوم کی طرف سے پی ایس ایل زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں