آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملالہ ڈرامہ کوئین ہے،اس نے بہروپ رچا رکھا ہے اور پاکستان کیلئے شرمندگی کا باعث ہے،یہ بیک وقت سی آئی اے ،را اور این ڈی ایس کی ایجنٹ ہے، ثبوت چاہئے تو اس کی امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کے ساتھ ملاقات کی تصویر دیکھ لیں جس میں سی آئی اے اہلکار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ملالہ نے کون سی جنگ جیتی ہے ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے جو اسے پاکستان کی بہادر بیٹی پکارا جاتا ہے، مصنوعی ڈائری کا ڈھونگ رچایا گیا جبکہ وہ ڈائری بھی اس کے والد لکھا کرتے تھے ، بارہ سال کی عمر میں بچوں کو تھرسٹی کرویاد نہیں ہوتا اور اس نے کتاب لکھ ڈالی۔ اس کتاب میں اس نے نظریہ پاکستان،اسلام اور اہم آئینی اداروں کا مذا?ق اڑایا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں سینکڑوں بچوں نے شہادت پائی ہے،اس کو جب گولی لگی تو اس کے ساتھ دیگر دو طالبات کائنات اور شازیہ کو بھی گولیاں لگی تھیں ان کو کیوں ایوارڈز نہیں دئیے جاتے،ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا۔ پاکستان اور اسلام پر انگلی اٹھانے پر اسے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے،اسے کس حیثیت میں اتنی سیکورٹی اور پروٹوکول دیا جا رہا ہے،وزیر اعظم نے کس خوشی میں اس سے ملاقات کی ہے، میں کبھی کٹھ پتلی ملالہ کو سپورٹ نہیں کروں گا، جو عزت دی جا رہی ہے وہ دہشت گردی کے شکار اے پی ایس کے بچوں کوکیوں نہیں دی جا رہی،وہ

اتنے شدید زخمی ہوئے لیکن انہوں نے پاکستان نہیں چھوڑا، وہ ایک بڑے کھیل کیلئے پاکستان آئی ہے۔ اس کی پاکستان آمد بھی سوشل میڈیاپر ٹرینڈ بنا دی گئی ہے جیسے کسی سپر پاور کے سربراہ کا دورہ ہو، آپ سب بھی آئی ایم ناٹ ملالہ ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ بنائیں، عبدالستار ایدھی کو تو نوبل پرائز نہیں ملا لیکن نام نہاد گولی کھانے والی کو مل گیا،ملالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی،کشمیر اور فلسطین کے بچوں کے بارے میں کیوں آواز نہیں اٹھاتی ،ان کا نام لیتے ہوئے اس کی زبان کیوں گنگ ہوجاتی ہے، وزیر اعظم آفس میں منعقدہ تقریب میں اس نے جس طرح آنسو بہا کر اداکاری کی ہے ، شرمین عبید کے بعد اگلا آسکرایوارڈ اسے ہی ملے گا۔ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں پاکستان سے واپس جاو، ایک گولی کے بدلے اگر اتنی عزت دی جا رہی ہے تو مجھے دو گولیاں مار دو لیکن ضمانت دے دو کہ میں فیملی سمیت برطانیہ میں رہوں گی، وطن فروش ہے جو دشمن سے داد لیتی ہے، یہ سب ارشادات اس رد عمل کا حصہ ہیں جو میری طرف سے ملالہ کی پاکستان آمد کی اطلاع پر اسے خوش آمدید کہنے کیلئے کئے گئی ایک ٹوئٹ کے جواب میں پڑھنے کو ملے۔ کسی بھی معاملے پہ تنقید اور حمایت کو حق قرار دیکر اس سوچ کو اسلئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملالہ کی پاکستان آمد پر اس طرز فکر کا اظہار ہمارے ملک کے تعلیم یافتہ افراد کی طرف سے کیا گیا ہے جو بذات خود ایک لمحہ فکریہ ہے، اس سے بھی زیادہ تشویشاک امر یہ ہے کہ ملالہ پرتنقید کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان لڑکیوں کی ہے جو خود کو محب وطن پاکستانی اور پڑھا لکھا تصور کرتی ہیں۔ میرے لئے تو یہ سمجھنا محال ہے کہ یہ طبقہ اکیس سال کی اس بچی سے آخراتنا خائف اور خوف زدہ کیوں ہے، رشک کے بجائے حسد کے جذبات کیوں غالب ہیں ، محبت کی بجائے نفرت کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے، ملالہ نے ایسا کون سا جرم کر دیا ہے جس کی پاداش میں اس کا وجود اس طبقے کیلئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے، اگر اس کی سوچ ہی اس کا جرم ہے تو طالبان بھی تو اسی سوچ کو ختم کرنا چاہتے تھے ، یہی روشن خیالی تو طالبان کیلئے وبال جان تھی ، اقراپر یقین رکھنے کا یہی عزم تو طالبان کی ہار تھی، حق کیلئے آواز بلند کرنے کا یہی حوصلہ تو طالبان کے مذموم ارادوںپر کاری ضرب تھی، ہم کیوں بھول گئے ہیں کہ طالبان نے گولی پندرہ سال کی معصوم ملالہ کو نہیں اس سوچ کو ماری تھی جو جبر اور ظلم کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، دہشت گردوں نے نشانہ مطالعہ پاکستان کا پرچہ دینے کیلئے جاتی ہوئی دو بھائیوں کی اس لاڈلی بہن کو نہیں بلکہ اس روشن خیالی کو بنایا تھا جو پاکستان کو ترقی یافتہ فلاحی ریاست بنانے کی خواہاں ہے، انتہا پسندوں نے وار ضیا الدین کی اس بیٹی پر نہیں کیا تھا جس میں ان کی جان ہے بلکہ انہوں نے اس عزم کو مٹانے کی کوشش کی تھی جس پر قائم رہنے کا درس رب کائنات نے خود اپنے محبوب پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ اپنے رب کے نام سے؛ سکھا کر دیا تھا۔ ملالہ آج بھی کہتی ہے کہ یہ یہ کہانی اس لڑکی کی ہے جسے طالبان نے گولی ماری، وہ ہرگز یہ محسوس نہیں کرتی کہ یہ کہانی اس کے بارے میں ہے۔ وہ تو خود سے نفرت کرنے والوںکی پروا بھی نہیں کرتی کہ وہ کیا کہ رہے ہیں اس کا صرف ایک ہی مشن اور ایک ہی خواب ہے کہ دنیا میں ہر لڑکے اور لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہو، یہی خواب ملالہ کا جرم ہے اور یہ جرم اس نے گل مکئی کے فرضی نام سے گیارہ سال کی عمر میں تب شروع کیا تھا جب سوات پرطالبان کا مکمل کنٹرول تھا، گل مکئی کی ڈائری کو بھی جعلی قرار دینے والے برطانوی نشریاتی ادارے کے اس نمائندے سے تصدیق کر سکتے ہیں جو ابتدا میں فون پر رازداری کے ساتھ ملالہ سے سب کھ سننے کے بعد اس کو الفاظ کی شکل دے کر شائع کرتا تھا۔ ملالہ کیلئے نوبل پیس پرائزپر انگلیاں اٹھانیوالوں کو ذہن نشین ہونا چاہئے کہ کمسنی میں اتنی بہادری دکھانے کے اعتراف کے طور پر اسے 2011ءمیں انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز کیلئے نامزد کیا گیا تھا اور اسی سال اسے حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان نیشنل یوتھ پیس پرائز دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2010 میں اس کی رچرڈ ہالبروک سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تو اس میں بھی ملالہ نے اس کے سامنے تعلیم کا مقدمہ ہی پیش کیا تھا، ملالہ کوغیر ملکی جاسوس ،ایجنٹ کے طعنے دینے اور اس پر حملے کو ڈرامہ قرار دینے والے اگر تھوڑی سی تحقیق کرنے کی زحمت کر لیں یا صرف کام سینس سے ہی کام لیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسی جاسوس، ایجنٹ یا گریٹ گیم کا حصہ تھی کہ دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک ہماری آئی ایس آئی اور مسلح افواج کو اس کی بھنک نہ پڑ سکی اور اس نے نہ صرف اپنی نگرانی میں ملالہ کی زندگی بچانے کیلئے اسے برطانیہ بھجوایا بلکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی خود اس سارے عمل کی نگرانی کرتے رہے،آج بھی یہی فوج اس کی سیکورٹی پر بھی مامور ہے۔ تین سرجریز کے بعد بھی بالکل نارمل نہ ہونے والاملالہ کا چہرہ بھی کیا اسی ڈرامے عکاس ہے،اسی ڈرامے میں حقیقت کارنگ بھرنے کیلئے اسے دنیا کی پہلی کم عمر ترین نوبل پیس پرائز ونر بنا دیا گیا۔ اسے نہ صرف قوام متحدہ میں خطاب کرنے کا اعزازدیا گیا بلکہ تعلیم نسواں کیلئے اسے یو این کی امن سفیرمقرر کیا گیا۔ اس کی سالگرہ کو ملالہ ڈے سے منسوب کر دیا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے اسے سخاروف ایوارڈ عطا کیا،کینیڈا کے وزیر اعظم نے اسے اعزازی شہریت اور پارلیمنٹ سے خطاب کا اعزاز بخشا۔ امریکی صدور اوباما اور ٹرمپ سمیت عالمی رہنماوں نے اس سے ملاقات کو اپنے لئےاعزاز گردانا اور کیسا لازوال ڈرامہ اور کتنی عظیم ایکٹر ہے ملالہ جو دنیا بھر کی بچیوں کو تعلیم دینے کیلئے ملالہ فنڈ کے ذریعے اردن سے شام اورلبنان سے نائیجیریا تک تحریک چلا رہی ہے۔ کیسا ڈھونگ رچا رکھا ہے اس نے کہ اپنی ہم وطنوں کو تعلیم دینے کیلئے ایک کروڑ ڈالر خرچ کرنے کامنصوبہ بنا رہی ہے اور کیسی وطن فروش ہے ملالہ کہ آج بھی اپنی سرزمین کو چھو کر اور اپنے گھر میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں کو چھلکنے سے نہیں روک سکتی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں