آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی شہرہ آفاق نظم ویسٹ لینڈ 1922ء میں لکھی۔ اس نظم کی پہلی سطر عالمی ادب میں ضرب المثل ہو چکی ہے۔ اپریل ظالم ترین مہینہ ہے۔ (April is the cruellest month) ایلیٹ نے موسم بہار کی روئیدگی کو امیدوں کی نمو سے منسوب کر کے آئندہ خزاں کا نوحہ بیان کیا تھا۔ گزشتہ صدی میں شعر کی بوطیقا کے ایک سرے پر ٹی ایس ایلیٹ تھے اور دوسرے کنارے پر پابلو نیرودا تھے۔ نیرودا نے اپنے رنگ میں شاعر کا منصب بیان کرتے ہوئے لکھا تھا…
I stir up the grief of my people
I caress the memory of their heroes
I water their subterranean hopes
واہ…میں لوگوں کی زیر زمین امیدوں کو پانی دیتا ہوں۔ انگلینڈ کا شاعر کونپل کی نمود میں فنا کا انجام دیکھ رہا ہے اور چلی کا شاعر شعر کے ہنر کو امیدوں کی مسلسل آبیاری سے تعبیر کرتا ہے۔ اپنے ہاں چلے آئیے۔ میر نے گل سے ثبات کا دورانیہ پوچھا تو ’کلی نے یہ سن کے تبسم کیا‘۔ میر سے کوئی دو سو برس بعد فیض صاحب آئے، فرمایا؛ ’آتے آتے ہوئے یونہی پل بھر کو رکی ہو گی بہار / جاتے جاتے یونہی دم بھر کو خزاں ٹھہری ہے‘۔ عزیزان من، شعری حقیقت منیم جی کا کھاتہ نہیں ہوتی اور نہ قصباتی وکیل کی مثل مقدمہ۔ شاعر وقت اور زمین کے بہت سے مختلف منطقوں پر کھڑے ہو کے جو دیکھتے ہیں، اسے اپنے لحن میں بیان کرتے ہیں۔ ایلیٹ کو کیا معلوم تھا کہ اپریل کا مہینہ ہم خاک

نشینوں کے لیے واقعی ظلم کا استعارہ ٹھہرے گا۔ راولپنڈی کے فسادات اپریل 1947ء میں ہوں گے، مارٹن لوتھر کنگ کو اپریل 1967ء میں گولی ماری جائے گی، بھٹو صاحب کو اپریل 1979ء میں پھانسی دی جائے گی، اوجھڑی کیمپ کی قیامت اپریل 1988ء کے مہینے میں ٹوٹے گی۔ غلام اسحاق خان 58 (دو-الف) کی تلوار اپریل 1993میں چلائیں گے۔ اس برس بھی اپریل کا مہینہ خواب اور اندیشے کے درمیان سے گزرتی لکیر لے کر آیا ہے۔ فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت۔ کچھ بداندیش امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے اور ناگہاں ہونے کو ہے۔ دوسری طرف خالی ہاتھ اور ننگے پیر خلقت کا ہجوم ہے جس کا سرمایہ محض ’فلک گرفتہ نجوم کا جذبہ رہائی‘ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ اس زمین پر آسیب کا سایہ ہے اور کوئی پس پردہ ساحر ہے جس نے افلاک پر جادو کا جال بن رکھا ہے۔ ہم رہائی چاہتے ہیں مگر سورج کی خبر دینے والا روزن بہت بلندی پر ہے اور دروازے پر موٹی زنجیر پڑی ہے۔
میاں نواز شریف نے بالآخر مان لیا کہ انہیں میمو گیٹ اسکینڈل میں فریق نہیں بننا چاہئے تھا۔ اپنی غلطی کو مان لینا بہت بڑے ظرف کا تقاضا کرتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو میں ظرف کا یہ درجہ موجود تھا اسی لیے مئی 2006 میں میثاق جمہوریت طے پایا۔ افسوس کہ اس مرتبہ پیپلز پارٹی کی صفوں سے کوئی ایسی آواز نہیں آئی جس میں میثاق جمہوریت کی بازگشت سنائی دیتی۔ جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا، وہ گناہ گار چلے گئے… مولا بخش چانڈیو اور قمر الزمان کائرہ طفل مکتب تو ہرگز نہیں ہیں، ہماری تاریخ کے بے آب و گیاہ صحرا کی ایک ایک لکیر پڑھ چکے ہیں۔ ان کا ردعمل توقعات پہ پورا نہیں اترا۔ آصف علی زرداری تو خیر ان دنوں کچھ اور ہواؤں میں ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں دکھائی گئی ہاتھ کی صفائی کے دفاع میں چھانگا مانگا اور فاروق لغاری کے حوالے دئیے جا رہے ہیں۔ ارے صاحب میثاق جمہوریت اس لیے طے کیا تھا کہ پرانی غلطیوں کو تسلیم کر کے آگے بڑھا جائے۔ اس برس انتخابات منعقد ہونا ہیں۔ کم از کم آئین کی کتاب میں یہی لکھا ہے۔ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ دو منتخب حکومتیں یکے بہ دیگرے اپنی میعاد مکمل کر رہی ہیں۔ 2012ء میں گیلانی صاحب کی جگہ راجہ پرویز اشرف کی رونمائی ہوئی تھی اور 2018میں نوازشریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی جلوہ افروز ہیں۔ مجھ سے پہلے میرے اظہار کو موت آئی ہے… نگران حکومت سے پہلے حقیقی حکومت کو مفلوج کرنے کی مشق دہرائی گئی ہے۔ کوئی ساونت نہیں جو ہمیں بتائے کہ آئین کی موجودگی میں اور آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے مخصوص اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ پینے کا صاف پانی لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے، علاج معالجے کی سہولت عوام کا حق ہے لیکن آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو خبر تک رسائی کا حق بھی تو دیتا ہے۔ انصاف کے ایوانوں کی زنجیر اس پر یک سر بے حس و حرکت ہے۔ 2018ء کے موعودہ انتخابات اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ ایک طویل عرصے کے بعد ان انتخابات میں وہ مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جو 1947ء سے التوا میں چلا آ رہا ہے۔
فرمائش اور اجازت کی مدد سے دانش کے موتی بکھیرنے والے طعنہ زن ہیں کہ بار بار ماضی کا ذکر کیوں کرتے ہو، آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ یہ درست ہے کہ ماضی میں جو ہوا، اب ہم اسے تبدیل نہیں کر سکتے لیکن کم از کم ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے تو بچ سکتے ہیں۔ ہمارا بنیادی مقدمہ کیا ہے؟ ہم نے اس ملک میں عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا۔ معیشت کو اپنا راستہ بنانے نہیں دیا۔ عوام کو تعلیم سے محروم رکھا۔ وفاق کی اکائیوں پر کاٹھی ڈالی۔ شہری کو احترام نہیں دیا، انصاف کا تصور ہی مسخ کر کے رکھ دیا۔ قوم کے معاشی، تہذیبی اور تمدنی نصب العین کو عسکری تشخص میں تبدیل کر دیا، وفاق پاکستان کی موجودگی میں مضبوط مرکز کا نقارہ بجایا، شہریوں میں مساوات کی بجائے عقیدے کی بنیاد پر امتیاز کو جگہ دی، اس زمین پر بولی جانے والی زبانوں کو گونگا کر دیا، آئین نے پارلیمانی جمہوریت کا عندیہ دیا تو بار بار بازو مروڑ کر صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی، خدشہ یہ ہے اس کھیل کے پس پشت بنیادی جھگڑا وسائل کی تقسیم کا ہے۔ مشکل اس میں یہ ہے کہ اگر خود ساختہ بزرجمہروں کے تجویز کردہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی خاکے کو تسلیم کر لیا جائے تو مجموعی قومی پیداوار بڑھانا ممکن نہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر پندرہ سے بیس ارب ڈالر کی تنگنائے میں گھومتے رہیں گے۔ جی ڈی پی کا حجم تین سو ارب ڈالر سے بڑھ نہیں پائے گا۔ پاکستان کے عوام تہی دست نہیں ہیں۔ وہ نااہل اور بدعنوان بھی نہیں ہیں۔ پاکستان کے رہنے والوں کی اجتماعی فراست سے استفادہ کیا جائے تو معیشت کا مجموعی حجم بڑھتا ہے جس سے معاشرے اور ریاست کے ہر گروہ اور ادارے کو زیادہ حصہ ملنے کا امکان ہے۔ کوتاہ نظری سے کام لے کر مفادات کے موجودہ توازن کو زبردستی جامد رکھا جائے گا تو پورا نظام غیرفعال اور ناقابل عمل ہو جائے گا۔ یہ معمولی سی بات ہے۔ سازش کی بجائے قوم کے نامیاتی امکان کو موقع دینا چاہئے۔ احمد شمیم نے کہا تھا…
ہوا میں رچ گئی ہے دور سے آتے ہوئے چیتے کی بو
پتے لرزتے ہیں!
پنہ گاہوں کے دروازوں پر بیٹھے بے کماں لشکر
ہماری مختصر سانسوں کے ضامن ہو نہیں سکتے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں