آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار علی بھٹو نے 4اپریل 1979ء کی شب تختہ دار کو سرفراز کیا۔ سوال بھٹو صاحب اور ضیاء الحق کا نہیں؟ سوال ہے آج 1979ء کے بعد 39ویں برس کے شب و روز تک تاریخ نے کس کو قبول کیا، کس کو مسترد کیا؟
4اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی جان لینے سے لے کر 17اگست 1988ء کو، ضیاء الحق کی ہلاکت تک، 17اگست 1988ء سے لے کر آج 4اپریل 2018ء تک ریاستی جارحیت پسندوں، مذہبی جنونیوں اور پاکستان کی پس پردہ قوتوں نے اندرونِ پاکستان اور بیرونِ پاکستان جس طرز کا شعلہ بار فساد فی الارض برپا کیا، اب وہ شعلے ہماری تباہی کی تکمیل کے بغیر بجھتے دکھائی نہیں دیتے۔ مستقبل کا مورخ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور عالم اسلام کے بطل حریت ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ قتل کو ’’اُمّ المقدمات‘‘ کا نام دے کر، اُس کی پھانسی کو پاکستان کے بدترین قومی سانحات اور قانون کی ڈکشنری کے خلاف بے دید باغیانہ طرز عمل قرار دے گا۔ بدطینت ہوس پرستوں اور نظریاتی متشددین نے بہیمانہ انسانی سفاکیت کے انداز میں ملک کے دوبارہ منتخب شدہ وزیر اعظم کو سزائے موت دلوا دی، ان نظریاتی متشددین نے نہایت دیدہ دلیری اور بے حجابی کے ساتھ اس ناقابلِ تلافی المیے کا دفاع کیا، گو 4اپریل 1979ء سے لے کر آج 4اپریل 2018ء تک کسی مقدمہ قتل میں کوئی وکیل یا عدالت بطور نظیر ’’بھٹو کیس‘‘ کا

حوالہ دینا یا حوالہ سننا خواب و خیال سے بھی پرے سمجھتا ہے تاہم یہ نظریاتی متشددین اسے قانونی فیصلہ قرار دینے پر مصر رہے۔ آج 38برس سے زائد ہونے کو ہیں، ان نظریاتی متشددین اور طبعاً بعض مغلوب الغضب مخالفین کے ساتھیوں میں سے چند حساس ضمیر افراد کو احساسِ زیاں نے آ لیا ہے، وہ پاکستانی قوم اور پاکستانی دھرتی کے باطنی غم پر اپنے اعترافی ملال کا پھاہا بھی رکھتے ہیں مگر راتوں کے پچھلے پہر پائوں پسارے ہوئے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کا سکتہ ٹوٹنے اور ذہنی روگ متوازن ہونے میں نہیں آتا۔ وہ خاموش منتقمانہ انتظار کے قیدی بن چکے ہیں!
4اپریل 1979ء کی دل فگار یاد کے دن قوم اپنی اجتماعی روحمیں کس کا تذکرہ کرتی، کس کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور کون شرمسار و خوار ہوتے ہیں۔ 38برسوں میں گزرے ہر لمحے کی لوح پہ اس کا جواب لکھا جا رہا ہے۔ 17اگست 1988ء کو ’’ضیاء الحق کا مشن پورا کریں گے‘‘ کے علمبرداروں سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے رسے کو ’’مقدس ترین‘‘ ثابت کرنے والوں تک میں سے کون کون، کتنی تعداد میں فیصل مسجد کی جانب رواں ہوتا ہے اس کا جواب بھی ان 38برسوں کے ہر لحظے، ہر ثانیے کی پیشانی پر مرتسم ہے۔ تاریخ اور وقت دونوں نے مل کر دائیں بازو کے ان حکمرانوں اور تاریک دانشوروں کو عبرتناک شکست ہی نہیں دی یہ دونوں عناصر ان کی جانب دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔ دونوں ان لوگوں سے مستقلاً پیٹھ موڑے کھڑے ہیں!
دائیں بازو کے جن دانشوروں کو آج بھی بھٹو کی پھانسی کے رسے کا تذکرہ زندہ رکھنے میں کسی فرض کی پکار سنائی دیتی ہے، وہ یقین رکھیں ایک روز بھٹو کا فیصلہ تاریخ کے صفحات سے مٹا کر کوئی دوسرا فیصلہ تحریر کیا جا رہا ہو گا، یقیناً مجھ خاکسار سمیت دائیں بازو کے یہ تاریک فکر دانشور بھی اس زمینی سیارے پر موجود نہیں ہوں گے، ہاں! عدل کے ایوان میں ذوالفقار علی بھٹو کی بے گناہی کا اعلان انسانیت کے دربار میں سرخروئی کے شرف میں تل رہا ہو گا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی دراصل خوف زدہ عالمی استعمار کی اجتماعی سازش کا نتیجہ تھا، جس کے لئے انہیں حسب روایت ایک مسلمان ملک میں ریاستی جارحیت پسند اور خودساختہ اخلاقیات و مذہبی عقائد پر مبنی افراد گروہ در گروہ میسر تھے، استعمار نے انہیں اپنی منفی ذہانت کے ساتھ انہی کے ہاتھوں انہی کے ایک ایسے فرزند جلیل کو ختم کروا دیا جو صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرانے کے وژن اور صلاحیت کا مالک تھا۔ بین الاقوامی منصوبہ گروں کے نزدیک پاکستان کے اندر آئینی و فوجی اقتدار کی چپقلش ذوالفقار علی بھٹو کو بھینٹ چڑھانے کا نایاب سنہری موقع تھا جس کے استعمال میں انہوں نے پلک جھپکنے کی بھی دیر نہ کی چنانچہ پروفیسر وارث میر جیسے سچے قلمکار نے اس ناقابلِ تلافی ٹریجڈی کو دردانگیز سچائی کے ساتھ بیان کیا اور ہمارے قابل احترام دوست عطاء الحق قاسمی نے اپنی ایک تحریر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستانی قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک کو ’’غیر ملکی سپانسرڈ‘‘ کہا۔ وارث میر نے لکھا تھا میں ذوالفقار علی بھٹو کا شمار ان دانشور سیاستدانوں میں کرتا ہوں جنہوں نے اپنی تمام تر شخصی اور طبقاتی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے عوام کو ان کا احساس دلایا، ان میں حقوق کا شعور پیدا کیا، اُن کی سیاست کو ان کے سیاسی پس منظر میں سمجھا اور سمجھایا اور ایک وسیع تر ایفرو ایشیائی اور عالمی تناظر میں پاکستان کے لئے ایک نیا اور قابل احترام رول متعین کرنے کی کوشش کی لیکن بھٹو کو سازش کے تحت نہ صرف اقتدار بلکہ زندگی سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس طرح وہ کام بھی ادھورا رہ گیا جو وہ عام آدمی اور امت مسلمہ کے لئے کرنا چاہتے تھے۔ عوام کے لئے بہتر مستقبل کا خواب آخری سانسوں تک ان کے ساتھ رہا۔ فرانس کے صدر جسکارڈ کو انہوں نے موت کی کوٹھڑی سے خط لکھا جس میں انہوں نے کہا ’’مجھے قتل کیا گیا تو میرا لہو برصغیر کے نوجوانوں، مردوں اور عورتوں کے چہروں پر وہ سرخی بن کے ابھرے گا جو بہار کے موسم میں فرانسیسی گلابوں کی پتوں میں جھلکتی ہے۔ ‘‘
اس ذوالفقار علی بھٹو نے ’’اُمّ المقدمات‘‘ کی سماعت کے دوران میں ضیاء الحق کو مخاطب کر کے کہا تھا ’’میرا مقام ستاروں پر رقم ہے، میرا مقام بندگانِ خدا کے دلوں میں ہے، میں محکوموں اور نوکروں کا نمائندہ ہوں، میری رائے میں یہ عوام ہی ہیں جو مملکت کو مناسب اور صحیح تحفظ و سلامتی فراہم کر سکتے ہیں۔ میں مفلوک الحال اور بے گھر لوگوں کی نمائندگی کرتا ہوں اور تم امیروں کی نمائندگی کرتے ہو، میں قومیانے پر یقین رکھتا ہوں تم بنائی گئی اشیاء کی واپسی پر یقین رکھتے ہو، میں ٹیکنالوجی پر یقین رکھتا ہوں تمہارا ایمان ریاکاری پر ہے، میرا دستور پر یقین ہے تم سمجھتے ہو کہ دستور کاغذ کا ایک پرزہ ہے میں سمجھتا ہوں ملاں کا مقام مسجد ہے، تم اسے پاکستان کا مالک بنا دینا چاہتے ہو، میں خواتین کی آزادی چاہتا ہوں تم انہیں اندھیروں میں چھپائے رکھنا چاہتے ہو، میں نے سرداری نظام ختم کیا تم شاہی دربار منعقد کر کے اسے بحال کرنا چاہتے ہو، میں مشرق پر یقین رکھتا ہوں تمہارا یقین دولت مشترکہ پر ہے، ہم ایک دوسرے سے قطبین کی دوری پر کھڑے ہیں اور میں اس دوری پر خدا کا شکر بجا لاتا ہوں، تم تو تعفن زدہ ماضی کی بھی نمائندگی نہیں کرتے، میں مستقبل کی درخشانیوں کا نمائندہ ہوں، تم نے تو ہمارے مقدس مذہب کی تبلیغ کو پراگندہ کر دیا ہے، یہاں تک کہ قتل و غارت پورے منتقمانہ قہر کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ جب تم پاکستان کی سلامتی کی بات کرتے ہو تو براہ کرم ہمیں بتا دو، تم پاکستان کو غرناطہ بنانا چاہتے ہو یا کربلا؟‘‘
پاکستان غرناطہ بنا یا کربلا، یا دونوں، 2018ء کے پاکستان کو دیکھ کے ہر شہری خود فیصلہ کرے، ہر شہری یاد رکھے ہم مسلمانوں کی تاریخ میں اورنگ زیب عالمگیر سے لے کر ضیاء الحق تک، ایسے ’’محترم نیک‘‘ ضرورت سے کہیں زیادہ موجود ہیں جنہیں ’’چیلنج‘‘ نہیں کیا جا سکا۔ اس نوع کے یہ سارے نیک زیادہ تر ’’اقتدار‘‘ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے رغبت کا تبلیغی فریضہ ادا کرنے میں اپنی ’’زندگیاں‘‘ کھپا دیتے ہیں البتہ ان کا یہ مقدس مشن ’’کلی اقتدار‘‘ پر گرفت سے مشروط ہوتا ہے۔ مثلاً اورنگ زیب عالمگیر خود بھائیوں، بھتیجوں اور جانے کس کس کو موت کی وادی میں پھینکنے کے بعد حکمران بنے، باپ کو گوالیار کے قلعے میں قید کیا مگر جب باپ نے وقت گزاری کے لئے چند ایسے بچوں کا مطالبہ کیا جنہیں وہ پڑھا سکے تب اورنگ زیب کی دنیا سے اعراض کی ’’عظمت‘‘ کا مینارہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ گیا اور باپ کو جواباً پیغام بھجوایا ’’ابھی تک خوئے سلطانی نہیں گئی۔ ‘‘ ضیاء الحق کی ’’عظمت‘‘ پر بھی سوالیہ نشان نہیں اٹھ سکتا، دیکھ لو، ایک طرف ملک اور لاڑکانہ میں آج ذوالفقار علی بھٹو کے ایصال ثواب کے لئے مجالس کا شمار نہیں دوسری جانب 17اگست 1988ء میں ضیاء الحق کے ’’مقدس مشن‘‘ کے علمبرداروں کو آوازیں دیتے دیتے اعجاز الحق کا گلا رندھ گیا ہے۔ لاڑکانہ جانے والے راستہ پر تاریخ کی رونق اور 17اگست 1988ء کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کو جاتی ہوئی راہ پر تاریخ کی ویرانی، دونوں سے اے اصحاب پاکستان! کیا تمہیں پاکستان کی دھرتی کا فیصلہ سنائی نہیں دیتا؟ ذمہ دار ’’امّ المقدمات‘‘ کے اس ’’مقتول‘‘ کی قبر پر جا کے معانی مانگیں تب جا کے یہ دھرتی اپنا قرض معاف کرے گی!
ذوالفقار علی بھٹو نے تختہ دار کو سرفراز کئے جانے سے چار پانچ روز پہلے اپنے آخری بیان میں سپریم کورٹ کو مخاطب کیا تھا ان کے الفاظ تھے ’’مجھے یقین ہے کہ قانون کی عظمت اور شان و شوکت کو اونچا رکھیں گے اور محض مارشل لا کی آیا بن کر نہیں رہ جائیں گے‘‘۔ ’’گریٹ ٹریجڈی‘‘ کے شکار ذوالفقار علی بھٹو ابھی مزید گفتگو کے مستحق ہیں!
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں