آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایڈوکیٹ ریاض حنیف راہی کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں اور انکے خلاف درخواست دینے والے ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی وجہ شہرت کیا ہے ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پڑداداقاضی جلال الدین قندھار میں قاضی کے منصب پر فائز تھے اور اسی مناسبت سے ان کا خاندان قاضی کہلاتا ہے ۔قاضی جلال الدین کو برطانوی راج کے خلاف بغاوت کی پاداش میں ملک بدر کر دیا گیا تو ان کا خاندان پشین میں آکر آباد ہو گیا ۔قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وکیل ہیں جنہوں نے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی ۔ممبئی میں پریکٹس کے دوران ان کی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے ہوئی تو ان کی شخصیت اور خیالات سے بیحد متاثر ہوکر خود کو مسلم لیگ کے لئے وقف کر دیا ۔بلوچستان آکر مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور انہیں مسلم لیگ بلوچستان کا پہلا صدر مقرر کیا گیا ۔قیام پاکستان کی جدوجہد میں انکی انتھک کاوشوں کا یہ عالم ہے کہ قرارداد پاکستان پیش ہونے کے بعد سات سال کے عرصے میں انہوں نے قیام پاکستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے 3لاکھ میل کی مسافت طے کی ۔تقسیم ہندوستان کے وقت بلوچستان کے پاکستان سے الحاق میں کلیدی کردار ادا کیا ۔قیام

پاکستان کے بعد انہیں برازیل میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ۔قاضی محمد عیسیٰ کے بھائی یعنی قاضی فائز عیسیٰ کے چچا قاضی موسیٰ نے آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون جینیفر سے شادی کی جنہوں نے شادی کے بعد اپنے لئے جہاں زیبا کا نام منتخب کیا۔قاضی موسیٰ 1956ء میں ایک کار حادثے میں وفات پا گئے تو جینیفر موسیٰ نے واپس جانے کے بجائے وفا کا رشتہ نباہنے کا فیصلہ کیا اور 13جنوری 2008ء کو وفات تک پشین میں ہی آباد رہیں ۔جینیفر موسیٰ پہلی خاتون ہیں جنہیں ’’وڈیری‘‘ کی حیثیت سے قبائل کے فیصلے کرنے کا اختیار ملا اور انہیں ’’کوئین آف بلوچستان ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ جینیفر موسیٰ 1970ءمیں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان سے ایم این اے منتخب ہوئیں ۔انہوں نے 1973ء کے آئین کی تیاری میں حصہ لیا لیکن جب بھٹو نے صوبوں کی خود مختاری پر ضرب لگائی تو انہوں نے ڈٹ کر مخالفت کی۔انکے فرزند اشرف جہانگیر قاضی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، انہوں نے اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی فورمز اور ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔ قاضی فائز عیسیٰ کی والدہ بیگم سعیدہ عیسیٰ نے سوشل ورکر کی حیثیت سے فلاح انسانیت کے شعبہ میں خدمات سرانجام دیں اور ان کے ایک بیٹے قاضی عظمت عیسیٰ نے اسی مشن کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اور ان دنوں وہ غربت مٹانے کیلئے قائم کئے گئے ایک ادارے ’’پی پی اے ایف‘‘ کے سی ای او ہیں۔قاضی فائز عیسیٰ نے اپنا خاندانی پیشہ وکالت اختیار کیا اور جج بننے سے پہلے ان کا شمار بلوچستان کے کامیاب ترین وکلا میں ہوتا تھا ۔
اس سے پہلے کہ میں آپ کو دوسرے کردار ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کے بارے میںکچھ بتائوں ،یہ جاننا ضروری ہے کہ جسٹس فاضی فائز عیسیٰ کے خلاف درخواست میں کیا موقف اختیار کیا گیا ہے اور بنیادی طور پر اعتراضات ہیں کیا ؟جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد جب سپریم کورٹ نے 31جولائی 2009ء کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 3نومبر کی ایمرجنسی کو کالعدم قرار دیدیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی تعیناتی بھی غیر قانونی قرار پائی تو بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت تمام ججوں نے تادیبی کارروائی سے بچنے کیلئے استعفیٰ دیدیا ۔5اگست2009ء کو قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائیکورٹ کا جج تعینات کیا گیا اور چونکہ وہ وہاں اکلوتے جج تھے اس لئے مزید تقرریوں کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے انہیں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر کر دیا گیا ۔5ستمبر 2014ء کو انہوں نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا اب درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی جج کو براہ راست چیف جسٹس نہیں لگایا جا سکتا اسلئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں بطور جج منتقلی کو غیر قانونی قرار دیا جائے ۔کسی شخص کو براہ راست چیف جسٹس لگانے کی یہ پہلی مثال نہیں بلکہ اس سے قبل جسٹس منظور قادر کو براہ راست لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس لگایا گیا ۔جو چیف جسٹس بننے سے پہلے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے تھے ۔ اب آپ کو بتائیں کہ ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کون ہیں ۔یہ وہ صاحب ہیں جن کا شمار بے بنیاد مقدمات میں الجھا کر عدالتوں کا وقت ضائع کرنے والے وکلا میں ہوتا ہے اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ معزز عدالت کی رائے ہے۔انہیں حال ہی میں دو فضول پٹیشنز دائر کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جرمانہ کیا ۔یہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر ہوا تو انہوںنے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ۔عائشہ گلالئی کے الزامات پر پارلیمانی کمیٹی بنی تو موصوف نے اس کے خلاف پٹیشن دائر کر دی۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے سیکورٹی واپس لینے کیلئے درخواست دائر کی اور جب عدلیہ بحال ہوئی تو انہوں نے چیف جسٹس سمیت دیگر جج صاحبان کی بحالی کے اقدام کو بھی چیلنج کر دیا جس پر ان کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ نے یہ پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کا انعقاد غیر قانونی تھا لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ چونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کیخلاف درخواست میں کوئی دم نہیں تھا اور درخواست گزار کی شہرت بھی اچھی نہ تھی اس لئے رجسٹرار سپریم کورٹ نے اسے غیر سنجیدہ اور بے وقعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ۔مگر چیف جسٹس نے نظر ثانی کرتے ہوئے اسے سماعت کیلئے مقرر کردیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اس بے بنیاد اور غیر سنجیدہ پٹیشن پر جوبھی فیصلہ آئے لیکن بہتر ہوتا کہ چیمبر میں مختصر سماعت کے بعد دیگر غیر ضروری درخواستوں کے ساتھ ہی اس پٹیشن کو بھی خارج کر دیا جاتا ۔ایسی صورت میں یہ تاثر پیدا ہی نہ ہوتا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کسی قسم کی کوئی سازش ہو رہی ہے یا پھر چھوٹے صوبے سے تعلق رکھنے والے کسی جج کو اختلاف رائے پر دبائو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں