آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نثار ہم تری گلیوں کے اے وطن کے جہاں۔چلی ہے رسم کہ جو بھی صادق و امین ہے وہ سر اٹھا کے چلے۔ آج کا کالم آج کے غم کے نام اور اِس غم پر نثار ہونے والےثاقب نثار، چوہدری نثار اور حسن نثار کے نام۔ جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ۔ آپ نے دیکھے نہ ہوں گے ہاں مگر ایسے بھی ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کو مبارک باد کہ الیکشن کمیشن نےبڑی خوش اسلوبی سے انتخابی حلقوں کی نئی تقسیم کا عمل مکمل ہوا۔ یعنی شفاف انتخابات کی پہلی تصویر مکمل ہوئی کہیں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ پورٹریٹ کی ہر ایک لکیر سوچ سمجھ کر کھینچی گئی ہے۔ ہر نقشہ خیال سے بنایا گیا ہے۔ مستقبل کے انتخابی خدودخال پرمعمولی اعتراضات کئے گئے ہیں جنہیں سنا جارہا ہے۔ اپنے دانیال عزیز اورایاز صادق البتہ کچھ پریشان ہیں۔ انہیں شاید نئی تقسیم پسند نہیں آئی۔ دراصل اُن کے لوگ بانٹ دئیے ہیں۔وہ جنہیں محبت، زرو مال، ملازمتیں، تبادلوں اور بنکوں سے ادھار دلا کر خریدا گیا تھا ان میں سے آدھے کسی اورحلقے میں چلے گئے ہیں۔ بیچاروں کا خاصا نقصان ہو گیا ہے کاروبارِ سیاست میں خسارہ کوئی نئی چیز نہیں۔ ہاںمگر خسارے پر تکلیف تو ہوتی ہے۔ دانیال عزیز کو تو اتنا غصہ آیا کہ وزیرِ موصوف نے حلقہ بندیاں کرنے والے الیکشن کمیشن کے ممبران کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا جسے فواد

چوہدری نے کھلی دھمکی قرار دیا۔
نون لیگ کی طرف سے حلقہ بندیوں کے خلاف مسلسل اعتراضات کی ایف آئی آرز درج کرائی جارہی ہیں جن کا مقصد ِاولین دوشیزۂ انتخابات کی طے شدہ ڈیٹ کو خراب کرنا ہے۔ سنا ہے عشاقِ اقتداراُس آئینی شق کی تلاش میں ہیں جس کے تحت موجودہ اسمبلی کی مدت ایک سال بڑھا جا سکتی ہے۔ سچ یہی ہے کہ انتخاب لیٹ ہونے کا فائدہ صرف اور صرف نون لیگ کو ہو سکتا ہے شاید اُس کےلئے یہ مسئلہ بہت اہم ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے متعلق آنے والے عدالتی فیصلوں کے اثرات سے انتخابات کو کیسے محفوظ کیا جائے۔ بے شک انتخابات اپنی طے شدہ مدت پر ہوتے ہیں تو نون لیگ کے بری طرح شکست کھانے کے امکانات بہت واضح ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ خدا کرے الیکشن بروقت ہوں یعنی بین السطور انہوں نے بھی الیکشن لیٹ ہونے کی بات کی ہے۔
چوہدری نثار کو مبارک باد کہ نون لیگ کے صدر شہباز شریف نے آرمی چیف کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ بہت صاف گو اور پیشہ ور سپاہی ہیں سیدھی بات کرتے ہیں ہمیں ان کی تعظیم کرنی چاہئے۔ انہوں نےنیب کو بھی سراہا۔اور چوہدری نثار کی بھی تعریف کی یہ ساری باتیں بہت کچھ کہہ رہی ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف فرما رہے ہیں جو راستے میں آیا اسے نیست و نابود کردیں گے۔ مریم نواز نے چوہدری نثار کے مخالف غلام سرور سے رابطہ کیا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے اتنے مختلف بیانیے بھی قابلِ غور ہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ ایک بار آصف علی زرداری نے بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا نعرہ لگایا تھا اور پھر خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔
حسن نثارکو مبارک کہ اِس وقت پی ٹی آئی ایک بہت بڑی سیاسی قوت بن چکی ہیں۔ پنجاب اور مرکز کے ایک سوچوالیس حلقوں میں اُس کے پاس انتہائی مضبوط امیدوار موجود ہیں جن کا تقریباً فیصلہ ہو چکا ہے اور اگر پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کی تقسیم میں کوئی بڑا بلنڈر نہ کیا گیاتو پنجاب میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں توخیر جس طرح کام کیا گیا ہے اُس کے بعد وہاں تو پی ٹی آئی کا کسی سے مقابلہ ہی نہیں رہا۔سواس وقت انتخابات کا لیٹ ہونا پی ٹی آئی کےلئے نقصان دہ اور نون لیگ کےلئے فائدہ مند ہے۔ویسے تو جب نواز شریف نااہل قرار پائے تھے اُسی دن نئے الیکشن کا اعلان ہوجانا چاہئے تھا۔ عمران خان نے اُس وقت انتخابات کا مطالبہ بھی کیا تھا مگر اقتدار بڑی عجیب چیز ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ لوگ آخری سانس تک تخت سے چمٹے رہتے ہیں مگر جمہوری حکومتوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔برطانیہ کےعوام نے جب بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیاتو وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہو گئے ان کے وزیر اعظم بنے والی تھریسا مے نے قبل از وقت انتخابات کرا دئیے۔ اس وقت انتخابات کے لیٹ کی باتیں بہت پھیلائی جارہی ہیں۔ کیئر ٹیکر حکومت کا دورانیہ بڑھانے کی بات ہورہی ہے۔میرے نزدیک ایسی کوشش پاکستان کےلئے خطرناک ہو گئی۔ پاکستان پہلے پچھلے کئی ماہ سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ معاشی صورت حال روز بروز زبوں حالی کی طرف جارہی ہے۔خدا نخواستہ اگر سیاسی عدم استحکام کا دورانیہ بڑھتا چلا گیا تو پاکستانی معیشت کسی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔پٹرول کی قیمت بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔لوڈ شیڈنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔روپے کی قیمت بہت زیادہ گر سکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نااہل وزیر اعظم نواز شریف بھی یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے تاکہ وہ کہہ سکیں کہ یہ سب میرے نکالنے کے ثمرات ہیں۔ دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ابھی تک نون لیگ اپنا مقدمہ سیاسی طور پرلڑ رہی ہےقانونی طور پرنہیں۔ ابھی تک نواز شریف اوران کی فیملی نے دو بنیادی سوالوں کے جواب نہیں دئیے کہ سولہ اکاونٹس میں اربوں روپے کہاں سے آئے۔ لندن پراپرٹی خریدنے کا پیسہ کہاں سے آیا۔
نثار ہم تری گلیوں کے اے وطن کے جہاں۔چلی ہے رسم کہ جو بھی صادق و امین ہے وہ سر اٹھا کے چلے۔ آج کا کالم آج کے غم کے نام اور اِس غم پر نثار ہونے والےثاقب نثار، چوہدری نثار اور حسن نثار کے نام۔جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ۔ آپ نے دیکھے نہ ہونگے ہاں مگر ایسے بھی ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں